عورت کو جتنا مرضی اچھا شوہر مل جائے مگر وہ اس مرد کو کبھی نہیں بھولتی جو،

اچھا شوہر

پی ایف سی نیوز ! کسی کا دل مت دکھانا اس نے صبر کر لیا تو مشکل میں آجاؤ گے۔عورت کو عزت رب نے تحفے میں دی ہے اور مرد کو کمانی پڑتی ہے۔بے نسلے لوگوں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ تم ان کو جتنی عزت دو گے وہ تمہیں اتنی ہی تکلیف دیں گے۔جب عبادت بوجھ سے سے سکون بن جائے تو رب سے عشق ہوجاتا ہے۔

جن سے محبت ہو ان کو پابند نہیں بنایا جاتا محبت اگر سچی ہے تو وہ خود ہی پابند ہوجائیں گے ۔ محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے منافع چھوڑ دیتے ہیں ۔خسارے بانٹ لیتے ہیں۔ضد کرنا روٹھ جانا نخرہ دکھانا عورت پر جچتا ہے۔ مگر جہاں بات مرد سے مقابلے پر آجائے تو وہ جاہلیت کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ عورت کو جتنا مرضی اچھا اور وفادار شوہر کیوں نہ مل جائے مگر وہ اپنی زندگی میں آنے والے پہلے مرد کو کبھی نہیں بھولتی۔ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں امیدیں انسانوں سے اور شکوے اللہ سے کئے جاتے ہیں۔اس تعلق سے لاتعلقی بہتر ہے جس تعلق میں احساس نہ ہو۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔شکریہ

عورت براءے فروخت کا ایک عجیب واقعہ

وہ شکل سے شریف گھر کی بیٹی لگ رہی تھی میں پاس گیا میرے قریب ہو کر بولی چلو گے صاحب . میں نے پوچھا  کتنے پیسے لو گی ۔ ۔؟ کہنے لگی  آپ کتنے دیں گے ؟ میں نے اس کی نیلی سی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا وہ بےبس سی تھی میں نے بولا آؤ کار میں بیٹھو، وہ ڈر رہی تھی ۔کہنے لگی  کتنے آدمی ہو ؟؟ میں نے کہا ڈرو نہیں میں اکیلا ہی ہوں، وہ خاموش بیٹھی رہی، پھر کہنے لگی آپ مجھے سگریٹ سے اذیت تو نہیں دو گے نا  میں مسکرایا بلکل بھی نہیں، پھر اس نے ایک لمبی سانس بھری آپ میرے ساتھ کوئی ظلم تو نہیں کریں گے نا ؟؟ آپ چاہے مجھے 500 کم دے دینا لیکن میرے ساتھ برا مت کرنا پلیز۔ ۔ وہ بہت خوبصورت تھی معصومیت اس کی باتوں سے ٹپک رہی تھی، پھر بھی خدا جانے وہ کیوں جسم بیچنے پر مجبور تھی، وہ نہیں جانتی تھی میں کون ہوں میں نے پوچھا کھانا کھایا ہے ؟ کہنے لگی نہیں، میں نے ہوٹل کے سامنے کار روکی ہوٹل والا مجھے جانتا تھا،

اس نے جلدی سے کھانا پیک کیا، مجھے دیا میں کار میں بیٹھ گیا، میں اپنے آفس کی طرف چل دیا چوکیدار نے دروازہ کھولا میں نے کار پارک کی ، رات کے 11 بج رہے تھے سب اپنا اپنا کام کر رہے تھے، وہ مسلسل میری طرف دیکھے جا رہی تھی، میں نے کھانا پلیٹ میں ڈالا، اسے کہا ہاتھ دھو لو، وہ کہنے لگی میں نے نہیں کھانا میں نے پیار سے کہا ڈرو نہیں کچھ نہیں ہو گا، وہ ہاتھ دھو کر آئی میرے سامنے کرسی پہ بیٹھ گئی اور کھانا کھانے لگی، جب کھانا کھا لیا تو کچھ کھانا بچ گیا کہنے لگی یہ میں گھر لے جا سکتی ہوں ؟ میں مسکرایا بلکل بھی نہیں، وہ چپ ہو گئی برقع اتارنے لگی میں نے کہا رک جائیں، میرے پاس آ کر بیٹھ جائیں وہ حیران تھی، میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی جلدی سے اپنا کام کریں مجھے واپس چھوڑ آئیں، میں نے کہا نہیں ۔ ۔ میں پوچھ سکتا ہوں کہ کیوں کرتی ہو ایسا ؟

کیوں بیچتی ہو جسم ؟؟ چھوڑ سکتی ہو کیا یہ سب ؟؟ وہ میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگی آپ پاگل لگ رہے ہیں مجھے، میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، ہاں پاگل ہی ہوں میں، سب پاگل ہی سمجھتے ہیں مجھے ۔ ۔ وہ کہنے لگی اگر کچھ کرنا نہیں ہے تو مجھے واپس چھوڑ کر آؤ، میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، پھر پرس سے دس ہزار نکالے اس کے ہاتھ پر رکھے، وہ حیران تھی کہنے لگی میں نے نہیں لینے آپ کیوں دے رہے ہیں یہ پیسے مجھے ؟؟ میں نے اس کے چہرے پہ ایک تھکن محسوس کی تھی وہ اپنے آنسو روکے بیٹھی تھی، بار بار کہہ رہی تھی مجھے بس واپس چھوڑ کر آؤ مجھے ڈر لگ رہا ہے، میں نے اسے یقین دلایا ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ ۔ اچھا بتاؤ نا بہت درد دیا نہ زندگی نے ؟؟ یہ سننا تھا اس کی آنکھیں نم ہو گئیں، جیسے کوئی قیامت گر گئی ہو اس پر میں سمجھ چکا تھا کوئی بہت بڑا درد لیئے گھوم رہی ہے

دروازہ کھولا کانپتی آواز میں بولی مجھے چھوڑ کر آؤ واپس، میں نے اسے بیٹھنے کا کہا بتایا میرا نام شجاع ہے ڈرو نہیں خود کو محفوظ سمجھو اسے جب یقین ہو گیا کہ پریشانی والی کوئی بات نہیں تو بتانے لگی، شوہر مر گیا تین بیٹیاں ہیں، سسرال والوں نے نکال دیا، ماں باپ فوت ہو چکے ہیں بھائی کوئی ہے نہیں ماموں کے گھر آئی، ماموں کے بیٹے نے میرے ساتھ زیادتی کی، میں نے جب مامی کو بتایا تو سب نے مجھے غلط کہا مجھے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا، دور کے رشتہ دار نے ایک بڈھے سے میری شادی کروائی اس کے بھی بچے تھے اس کے بچوں نے مجھے بہت ذلیل کیا، پھر وہ شوہر بھی فوت ہو گیا، بیٹیوں کو لیئے در بدر لیئے بھٹکنے لگی، نہ چھت تھی نہ روٹی تھی بھوک افلاس تھی، سڑک پہ کھڑی تھی ایک صاحب آئے کہنے لگے ایک گھنٹے کے 5 ہزار دوں گا نہ چاہتے ہوئے ماں کی ممتا حالات کی ستائی ہوئی کیا کرتی آخر چل دی ۔ ۔ اب ہر روز جسم بیچتی ہوں کرائے کا گھر لیا ہے

بیٹیوں کو اکیلا چھوڑ کر آتی ہوں، کیا کروں بہت بار سوچا خود کشی کر لوں لیکن بیٹیوں کو دیکھ کر ہمت نہیں ہوتی، وہ رو رہی تھی میں زمانے کی بےحسی محسوس کر رہا تھا ۔ ۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا اس سے کہا کہ شجاع تمہارا بھائی ہے آج سے، تم اپنی بیٹیوں کو لو اور میرے آفس کے اوپر والے ایک روم میں رہو، وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی، کار میں بٹھایا اس کے گھر پہنچا بیٹیاں سوئی ہوئی تھیں بہت پیاری تھیں، گود میں اٹھایا دل کو سکون ملا ،میں انہیں اپنے ساتھ لے آیا، اور آفس کے اوپر والے کمرے میں کہا کہ سو جائیں، وہ مسلسل روئے جا رہی تھی، مجھے کہنے لگی آپ فرشتے ہیں، آپ کون ہیں ؟ وہ دعائیں دینے لگی جھولی اٹھا کر نہ جانے کتنی دعائیں دیتی رہی ۔ ۔ یہ تو تھی اس بےبس عورت کی کہانی جسے ایک فرشتہ صفت انسان مل گیا، اور اسے اس دلدل سے نکال لیا، مگر ہر جگہ ہر کسی کو ایسا انسان نہیں ملتا، میں نے ایسی لڑکیوں کو دیکھا ہے جو اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں

کہ مجھے طلاق دو تمہیں میری قدر ہی نہیں ہے وہ اپنا گھر جلا رہی ہوتی ہیں اپنی بے وقوفی کی وجہ سے، وہ بیچاری کیا جانیں کہ زمانے کی تلخیاں کیا ہوتی ہیں، زمانے کا ڈسنا کیا ہوتا ہے میں بتانا چاہتی ہوں اپنا گھر جان بوجھ کر اجاڑنے والی لڑکیوں کو طلاقیں لینا آسان ہے اس کے بعد جینا موت ہے، کبھی ساس کا رونا کبھی نند کا سیاپا کبھی جھٹانی سے لڑائی یہ ہر گھر کی بات ہے، اس کا ہرگز مطلب طلاق لینا یا گھر اجاڑنا نہیں ہے، بہت تکلیف ہوتی ہے ہزاروں آنکھوں کے آنسو دیکھ کر اپنے گھروں کو آباد رکھو پلیز خدا کی قسم ایک وقت آتا ہے کہ نہ بھائی حال پوچھتے ہیں نہ سگی بہنیں، سب وقت کے ساتھ چہرے کے نقاب بدل لیتے ہیں، اس جیسا فرشتہ صفت انسان ہر جگہ ہر کسی کو تھامنے کے لئے کھڑا نہیں ملے گا ہاں میری قلم شاید کسی کو بربادی سے پہلے بچا لے، ہمسفر کیسا بھی ہے وہ تمہاری ڈھال ہے، شادی کے بعد سگے بھائی سے خرچہ لینا بھی بھیگ مانگنے جیسا لگتا ہے،

میری باتیں وہ عورت سمجھ سکتی ہیں جس پر ایسا کچھ گزرا یے، ہمسفر جیسا بھی ہے وہ تمہارا لباس ہے ۔ ۔ یاد رکھنا زمانے کے لئے تم صرف گوشت کا ایک ٹکڑا ہو، وہ زمانے گزرے مدت ہوئی جب رشتوں کا پاس رکھا جاتا تھا، اب رشتوں سے کھیلا جا سکتا ہے ہوس پوری کی جا سکتی ہے پھر پھینک دیا جاتا ہے، ہاں قسمت میں لکھا ہم بدل نہیں سکتے لیکن حالات بدل بھی سکتے ہیں صبر برداشت اور جھک کر، نہ جانے کتنی عورتیں صرف اس لئے گھر اجاڑ لیتی ہیں کہ اس کا شوہر اس کو ٹائم نہیں دیتا ہاں یہ شکوہ کرنا درست ہے لیکن کیا گارنٹی ہے اس کے بعد زندگی میں آنے والا اس سے بھی زیادہ برا ہو، صرف ایک زندگی ہے اس کو محبت پیار سمجھداری کے ساتھ گزار لیں اس معاشرے کو معاشرہ نہیں کہتی بلکہ بدبودار سماج کہتی ہوں، یہاں جگہ جگہ پہ لٹیرے کھڑے ہیں

عزتوں کے، خواہشوں کے، بھرم کے، بھروسے کے، اعتبار کے، بس آخر میں ایک بات کہوں گی، اگر تمہیں پیٹ بھرنے کے لئے چاردیواری سے باہر نہیں جانا پڑ رہا، اگر تمہیں جسم نہیں بیچنا پڑ رہا، اگر تمہارے سر پہ چادر ہے، اگر لوگ تمہارا سودا نہیں کرتے، اگر لوگ تمہیں وحشیہ نہیں کہتے ، اگر تمہارا دامن پاکیزہ ہے ، اگر تم رات کو محفوظ پناہ گاہ میں سوتی ہو تو مت کرنا برباد اپنا آشیانہ، ورنہ روند دی جاؤ گی، نوچ لی جاؤ گی، جو طلاق لیئے بیٹھی ہیں پوچھو ان سے وہ سوچ رہی ہوتی ہیں نہ جانے کتنے بچوں کے باپ کی ہمسفر بنوں گی، نہ جانے وہ کیسا سلوک کرے گا ؟ اور پھر ساری زندگی یہ طعنہ سنتے گزر جاتی ہے اتنی ہی اچھی ہوتی تو طلاق کیوں لیتی ؟؟ کسی عورت کی بربادی میں کہیں نہ کہیں مرد ہوتا ہے، محبت کر کے چھوڑنے والا دعویدار ہو یا نکاح کر کے طلاق دینے والا بدبخت، عورت خدا کی قسم میرے معاشرے کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ایک قیدی ہے،

کبھی باپ کی پگڑی پہ لٹ گئی تو کبھی ساس کے زہر آلود لہجے پہ، کبھی شوہر کی انا پہ خاک ہو گئی تو کبھی اولاد کی وجہ سے، مرد اگر سمجھ جائیں میری اس تحریر کو تو شاید میرا معاشرہ بدل جائے، ہاں کچھ عورتیں ہوتی ہیں بازارو جن کو جتنی بھی عزت دے دو وہ عزت کی چادر سے زیادہ بازار کی رونق بننا پسند کرتی ہیں پھر ایسی بدبخت عورتیں ایک بدبودار معاشرے کو جنم دیتی ہیں، اگر میری کسی بات یا عمل سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو اس کے لئے تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ ۔ اس طرح کی مزید اچھے اور بہترین تحریریں پڑھنے کے لئے فا لو لازمی کریں تاکہ آپ کو میری نہی آنے والی پوسٹ بر وقت ملتی رہ

Leave a Comment