کورونا فنڈز کرپشن ، قوم کے سامنے فنڈز کی بریفنگ دی تو پاکستان کو ویکسین ملنا بند ہو جائیں گی ، سیکرٹری صحت کی انوکھی منطق

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان کو 2.77 ارب ڈالر 23 اگست کو مل جائیں گے، آئی ایم ایف کی جانب سے دی گئی رقم شفافیت سے خرچ ہوگی ہم یہ رقم لیکر شاپنگ مال میں شاپنگ کیلئے نہیں جائیں گے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ نے 650 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی،یہ رقم تمام ملکوں کیلئے منظور کی گئی ہے پاکستان کو 0.43 فیصد کے طور پر 2.77 ارب ڈالر 23 اگست کو مل جائیں گے،اس پر کوئی شرائط نہیں ہیں اور یہ براہ راست اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں آئین گے اس رقم سے مالی ذخائر میں اضافہ ہوگا، آئی ایم ایف کے شکرگزار ہیں کہ کورونا سے مقابلہ کرنے والی معیشتوں کیلئے رقم کی منظوری دی ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ افواہیں تھیں کہ شوکت ترین غائب ہوگیا، اب میں آپ کے سامنے ہوں آڈیٹر جنرل آف پاکستان بڑے بڑے پیرے بناتے ہیں،34 ہزار آڈٹ اعتراضات پر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا آئی ایم ایف کی جانب سے دی گئی رقم شفافیت سے خرچ ہوگی،ہم یہ رقم لیکر شاپنگ مال میں شاپنگ کیلئے نہیں جائیں گے مشاورت سے خرچ کئے جائیں گے، بجلی ٹیرف کے معاملہ پر آئی ایم ایف کو جواب دیا جا چکا ہے، پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر ٹیکس کی شرط بھی آئی ایم ایف کی نہیں مانی گئی،پائیدار محصولات میں بڑھوتری کیلئے دوسرے ذرائع استعمال کئے گئے، پاور سیکٹر میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ کیا جس میں 850 ارب روپے بچائے۔

پی ایف سی نیوز! کورونا فنڈز کرپشن ، قوم کے سامنے فنڈز کی بریفنگ دی تو پاکستان کو ویکسین ملنا بند ہو جائیں گی ، سیکرٹری صحت کی انوکھی منطق ۔۔۔سینیٹ کمیٹی میں کورونا فنڈز میں مبینہ بے قاعدگیوں کے معاملے پر وفاقی سیکرٹری صحت نے میڈیا کی موجودگی میں بریفنگ دینے سے معذرت کرلی، سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو کورونا فنڈز کے معاملے پر ان کیمرہ بریفنگ دینے کی پیشکش کردی

۔نجی ٹی وی ایکسپریس کے طمابق چیئرمین محمد ہمایوں کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس ہوا۔ سیکرٹری صحت کی پیشکش پر پیپلز پارٹی کے رکن کمیٹی سینیٹر بہرہ مند تنگی نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ کورونا کا معاملہ عوامی اہمیت کا ایک مسئلہ ہے،اس معاملے کو ان کیمرا کیوں کیا جائے؟ ۔ سیکرٹری صحت نے جواب دیا کہ کچھ ایسے معاہدے ہیں جن کو سب کے سامنے پبلک نہیں کر سکتے ، بہرامند تنگی نے کہا کہ کیا میڈیا کے سامنے بریفنگ سے ویکسین پر پابندی لگ جائیگی۔ سیکرٹری نے کہا کہ اگر بریفنگ دی تو پاکستان کو ملنے والی ویکسین بند ہوجائیں گی۔ کمیٹی نے اتفاق کیا کہ اس ضمن میں ان کیمرہ بریفنگ دی جائے۔اجلاس میں سیکرٹری صحت نے صحت سہولت پروگرام س

ے متعلق کمیٹی کو بریفنگ میں کہا کہ صحت سہولیات پروگرام مختلف صوبوں میں چل رہا ہے تاہم سندھ اور بلوچستان میں یہ پروگرام نہیں چل رہا ۔ سندھ حکومت نے صحت سہولت پروگرام شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ، صحت کا کوئی بھی پروگرام ہوگا وہ صوبے خود کریں گے۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ سندھ میں تھر پارکر میں وفاقی حکومت صحت سہولت پروگرام کو پی ایس ڈی پی سے فنڈ کر رہی ہے۔ ڈائریکٹر صحت سہولت پروگرام محمد ارشد نے کہا کہ وفاق کے زیر اہتمام علاقوں کے لیے صحت سہولت پروگرام میں 5 ہزار 600 ملین روپے رکھے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان نے تمام صوبے کے لیے یونیورسل ہیلتھ پروگرام شروع کا فیصلہ کیا ہے۔

Leave a Comment