اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

نعمتوں

اللہ اس کائنات اور ہر مخلوق کا خالق و مالک ہے۔ اس نے یہ کائنات اپنی ذات کے اظہار اور پہچان کے لیے بنائی اور اس مقصد کے لیے اس نے انسان کو منتخب فرمایا اور اسے دیگر مخلوقات پر برتری عطا کی اور اس کے اندر یہ صلاحیت رکھی کہ وہ اللہ کی ذات کا عرفان حاصل کر سکے۔

اس کائنات کو انسان کے لیے مسخر کر دیا اور بیشمار نعمتیں عطا فرمائیں تاکہ وہ اس سے مستفید ہو اور ہر طرح کی سہولت حاصل کر سکے لیکن انسان جو اس دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اللہ کی ذات کو فراموش کر چکا ہے وہ اللہ کی نعمتوں کو کیا یاد کرے گا اور جب یاد نہیں کریگا تو شکرگزار بھی نہیں ہوگا۔ اسی یاد دہانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ رحمن میں نہ صرف اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا بلکہ انسان کو تنبیہ کرتے ہوئے 31بار ایک آیت کا تذکرہ فرمایا ارشادِ بار ی تعالیٰ ہے:فَبِأَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (سورۃ الرحمن)ترجمہ: پس تم اپنے ربّ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اس آیت کے بار بار تذکرہ کرنے سے ہی اس بات کا اندازہ کر لینا چاہیے

کہ اللہ پاک چاہتا ہے کہ انسان اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا نہ صرف ادراک حاصل کرے بلکہ اس کو فراموش کرتے ہوئے اس کا انکار نہ کرے۔ اسی لیے اس آیت میں دو چیزیں بیان کی گئی ہیں ایک اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ اور دوسرا اِن کی تکذیب یعنی ان کو جھٹلانا۔ اگر ہم اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو شمار کرنا شروع کر دیں تو یہ ایک ناممکن عمل ہے۔ جس طرح دریا کو کو زے میں بند نہیں کیا جا سکتا اسی طرح اللہ کی نعمتوں کا شمار بھی ناممکن ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ پاک خود فرماتا ہے:وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَاط اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورۃ النحل ۔18 )ترجمہ اور اگر تم اللہ کی نعمتو ں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہ کر سکو گے۔ بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے جب آدم ؑ کو زمین پر اُتارا تو ان کے ساتھ کے لیے حضرت حوا ؑ کو بھی بھیجا اور رہتی دنیا تک نیک مردوں کو صالح بیویاں عطا کیں اور پھر نیک و پاک اولاد، یہ سب اللہ کی نعمتیں ہی تو ہیں۔ جانور پیدا کیے اور کھیتیاں اُگائیں تاکہ کھا پی سکیں اور لباس تیار کر سکیں۔ سورج، چاند، ستارے، زمین و آسمان پیدا کیے۔ پانی اور ہوا پیدا کئے۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ہی تو ہے جس نے ہمیں دیکھنے اور سننے کی نعمت سے نوازا۔ عقل، صحت اور مال و دولت اور عیال کی نعمتیں دیں۔سورج، آسمان، زمین اور دیگر مخلوقات سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے دماغ اور سمجھ بوجھ سے نوازا۔ قرآنِ پاک میں اللہ نے اپنی عطا کردہ نعمتوں کا تذکرہ جا بجا فرمایا ہے:وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے فائدے کے لیے پانی اُتارا اسی میں سے (کچھ) پینے کا ہے

اور اسی میں سے (کچھ) شجرکاری کا ہے (جس سے نباتات، سبزے اور چراگاہیں اُگتی ہیں) جن میں تم ( اپنے مویشی ) چراتے ہو۔ اسی پانی سے تمہارے لیے کھیت، زیتو ن اور کھجو ر اور انگور اور ہر قسم کے پھل (اور میوے) اُگاتا ہے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور اسی نے تمہارے لیے رات اور دن کو اور سورج و چاند کو مسخر کر دیا اور تمام ستارے اُسی کے حکم کے پابند ہیں۔ بے شک اس میں عقل رکھنے والو ں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور اسی نے زمین پر رنگ برنگ قسم کی مخلوقات تمہارے (فائدے کے) لیے پیدا فرمائیں۔ بے شک اس میں نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے نشانی ہے۔ اور وہی ہے جس نے سمندر کو بھی تمہارے لیے مسخر کر دیا

کہ تم اس سے ترو تازہ گوشت کھاؤ اور تم اس میں سے موتی نکالو جنہیں تم زیبائش کے لیے پہنتے ہو اور (اے انسان) تو کشتیوں کو دیکھتا ہے جو (دریاؤں اور سمندروں کا) پانی چیرتے ہوئے اس میں چلے جاتی ہیںاور یہ سب کچھ اس لیے کیا) تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور یہ کہ تم اس کے شکرگزار بن جاؤ۔ ( سورۃ النحل 10-14) سورۃ البقرہ میں ارشادِ بار ی تعالیٰ ہے : ’’وہی ہے جس نے تمہاری بقا اور تمہارے فائدے کے لیے زمین میں ہر طرح کی چیزیں تخلیق فرمائیں۔ (البقرہ۔29)اپنی ایک اور نعمت کا ذکر اللہ پاک یوں فرماتا ہے:اور چوپائے پیدا کئے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے (بھی) ہو۔ ( سورۃ النحل۔ 5)مزید فرمایا:’’تو اس میں ہم نے تمہارے لیے باغ پیدا کئے کھجورو ں اور انگوروں کے تمہارے لیے ان میں سے بہت سے میوے ہیں

اور ان میں سے کھاتے ہو۔ (المومنون ۔19)ہم دنیا میں پہلی سانس لیتے ہیں تو ماں باپ کی شفقت کی صورت میں اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش برسنا شروع ہو جاتی ہے جو نہایت محبت سے بچے کی پرورش کرتے ہیں اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں۔ جوں جوں بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے کی طرف بڑھتے ہیں اللہ پاک رشتے ناطے، روزگار، اولاد، مال و دولت، دوست احباب اور بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے اور جب تک زندہ رہتے ہیں نوازتا چلا جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’ اور اس نے تمہیں ہر وہ چیز عطا فرما دی جو تم نے اس سے مانگی۔‘‘ (سورۃ ابراہیم 34)بلکہ اس قادرِ مطلق کی شان تو یہ ہے کہ بنا مانگے ہر وہ چیز عطا کر دیتا ہے جس کا ہمیں ادراک بھی نہیں ہوتا۔ مندرجہ بالا نعمتیں ایسی ہیں

جو کہ ایک جسمانی وجو د رکھتی ہیں لیکن اللہ کی بے شمار نعمتیں ایسی بھی ہیں جن کا ظاہری وجود تو نہیں لیکن ان نعمتوں کی بدولت اللہ کی عطا کردہ باقی نعمتوں کو بہتر طریقہ سے استعمال کیا جا سکتا ہے جیسے عقل، شعور، علم، بیان کی قوت اور ہدایت قابل ِ ذکر ہیں۔قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ (سورۃ العلق۔ 5)ترجمہ: انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا ۔او ر اسی علم کی بدولت اور اللہ کی عطا کی گئی عقل کو استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کو تسخیر کیا اور فائدہ حاصل کیا۔ اللہ نے شعور دیا تو ہم نے انسان و حیوان میں فرق کیا او ر ایک پر تمدن اور تہذیب یافتہ معاشر ہ بنایا جس سے ایک پُرسکون زندگی حاصل ہوئی۔ بیان کی طاقت عطا ہوئی تو حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ نے معافی طلب کی۔

اس بیان کی نعمت کی بدولت ہی علمائے دین اللہ کا پیغام دنیا تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔کسی چیز کو بھول جانا بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ اگر یہ نعمت موجود نہ ہو تو ہم اپنے پیاروں کی موت کا غم اور قیمتی اشیا کی گمشدگی پر ساری زندگی روتے اور ملال کرتے رہتے۔ انسان کے منہ میں پیدا ہونے والا لعاب بھی اللہ کی نہایت بڑی مہربانی ہے جس کا ہمیں احساس بھی نہیں۔ اگر یہ نہ ہو تو کھانا صحیح ہضم نہ ہو اور چند لفظ ادا کرنے کے بعد ہی منہ خشک ہو جائے اور بار بار پانی کی طلب ہو۔ہمارے جسم میں موجود چھوٹے چھوٹے سوراخ یعنی مسام (Pores) جو کہ جسم میں پیدا ہونے والے زہریلے مادوں کے اخراج کا باعث بنتے ہیں۔الغرض اللہ کی بیشمار نعمتیں ہیں

جن کا ہمیں شعور تک نہیں اسی لیے تو اللہ پاک نے سورۃ رحمن میں بار بار تذکرہ فرماتے ہوئے احساس دلایا کہ تم اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ہم تو غور و فکر ہی نہیں کرتے ورنہ اگر سوچنا شروع کریں تو صبح جاگنے سے لیکر رات سونے تک اور رات سونے سے صبح اُٹھنے تک ہر لمحہ اللہ کی بیشمار نعمتیں اور رحمتیں ہمیں حاصل ہیں اور مسلسل عطا ہوتی رہتی ہیں۔ وہ سانس جو ہم لیتے ہیں اس سے بڑھ کر نعمت کیا ہو سکتی ہے۔ ذرا سانس لینے میں دشواری ہو سب کی جان پر بن آتی ہے۔پس انسان ان نعمتوں اور رحمتوں سے غافل ہے اور اللہ کا شکرگزار نہیں بنتا۔سورۃ ابراہیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے

:وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَاط اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ(سورۃ ابراہیم ۔34)ترجمہ ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہ کر سکو گے بیشک انسان بڑا ہی ظالم بڑا ہی ناشکر گزار ہے‘

اپنی رائے کا اظہار کریں