چمبل کا حیران کن علاج صرف تین چیزیں۔

چمبل

پی ایف سی نیوز! جلد پر چنبل اور خارش ایک تکلیف دہ مسئلہ ہے۔ یہ جلد کے اوپر بنتی ہے اور چھوٹے چھوٹے سرخ دانوں کی شکل اختیار کرلیتی ہے، جس کی وجہ سے جلد پر خارش ہونا شروع ہو جاتی ہے۔اگرچہ یہ ایک عام سی بیماری تصور کی جاتی ہے لیکن بعض اوقات یہ کسی اندورنی بیماری کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ عموماً خون میں خرابی یا معدے کی گرمی کی وجہ سے ہوتی ہے، تاہم بعض دفعہ اس کی وجوہات کا پتہ نہیں چل پاتا۔سیدتی میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق چنبل کی بیماری عموماً 15 سے 20 فیصد افراد کو زندگی میں ایک یا ایک سے زائد بار ہوتی ہے۔ خواتین مردوں کے مقابلے میں اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔چنبل کی بیماری بچوں اور نوجوانوں دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ 20 سال سے 40 سال کی عمر کے افراد کو لگتی ہے۔اگر یہ چھ ہفتوں تک رہے تو اسے سخت بیماری تصور کیا جاتا ہے اور چھ ہفتوں سے بڑھ جائے تو اسے دائمی بیماری کہا جاتا ہے۔این سی بی آئی کے مطابق چنبل کی ممکنہ وجوہات اور علاج یہ ہیں۔دائمی چنبل الرجی کی تشخیص اکثر اوقات دائمی چنبل کی الرجی کی وجوہات کا تعین مشکل ہوتا ہے، یعنی دانوں اور جلد پر بننے والی چنبل کا سبب معلوم نہیں ہوسکتا۔ اس کے باوجود مریض کی حالت اور چیک اپ کرنے کے بعد اس کی وجوہات کا تعین کیا جا سکتا ہےاس کے علاہ طبی معائنے کے نتیجے میں بھی چنبل کی وجوہات کا پتہ چل سکتا ہے۔ سب سے پہلے دائمی چنبل کی وجہ جاننا ضروری ہے کیونکہ اکثر یہ الرجی کی وجہ سے نہیں ہوتی ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق اس کا محفوظ اور موثر علاج دستیاب ہے۔ دائمی چنبل پیدا کرنے والے عوامل کی شناخت کے بعد اسے کئی طریقوں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔اسپرین، نان سٹراوئیڈل اینٹی انفلیمیٹری ڈرگز اور کوڈین کے ساتھ علاج ہو سکتا ہے۔مسئلے سے نجات پانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جسم کو زیادہ سردی اور گرمی سے ہر ممکن طور پر بچائیں۔ اس بیماری کی علامات میں قوت مدافعت کے نظام میں دشواریاں بھی شامل ہیں، اس بیماری کی علامات بعد میں از خود غائب ہوسکتی ہیں یا پھر دوبارہ بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ چنبل کا کوئی باقاعدہ علاج نہیں ہے لیکن بہت ساری دوائیں ایسی ہیں جو علامات پر قابو پانے میں مدد کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چنبل بہت عام ہے اور عام طور پر بڑی عمر کے لوگوں میں پایا جاتا ہے، مرد اور خواتین سوریاسس کے لیے یکساں طور پر حساس ہیں، تاہم خطرے والے عوامل کو کم کرکے چنبل کی شدت کے امکانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ س حصے میں جلن اور درد کا احساس ہوتا ہے، جس کے بعد سفیدی مائل نوکیلے دانے اُبھرنے شروع ہوتے ہیں.بے چینی کی کیفیت میں زخم پر خارش کرنے کی صورت میں زخم سے چھلکے اتر جاتے ہیں اور خون جاری ہوجاتا ہے. یہ مرض جسم کے اس حصہ پر پیدا ہوتا ہے جو حصہ کپڑے سے ڈھکا ہوا ہو. مثلاً سر، کہنیاں، گھٹنے، ٹخنے، بازو اور کبھی یہ زخم سارے جسم پر بھی پھیل جاتا ہ

Leave a Comment