تیل یا کریم لگا کر قربت کر سکتے ہیں؟ اسلام میں کیا حکم ہے؟؟؟

تیل یا کریم

پی ایف سی نیوز! ایک نوجوان لڑکے کا یہ سوا ل آیا کہ کیا تیل لگا کر دوخل کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟ پہلی بات تو یہ یاد رکھیں ۔ کہ اللہ پا ک نے نکاح کے بعد تمام کاموں کو حلال قرار دیا ہے۔ مگر یہ کہ وہ کام فطرت انسانی کے خلاف ہو۔ وہ اللہ پاک نے ناجائز قرار دیا ہے۔ جیسا کہ دبر راستے میں دخل کر نا ، جوانی کا خروج پی لینا،

یا پھر اسی طرح سے دوسرے اور معاملات ، جیسے کہ اللہ پاک اسے حرام کیا ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر تیل یا کوئی دوسری کریم لگا کر دوخل کیا جائے تو اس میں عورت کو صورتحا ل کو دیکھا جائے ۔ جیسا کہ عورت یا لڑکی اگر جوان ہے کم سن ہے۔ کم عمرہے۔ اور اس کو تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔ تو ایسی صورت میں لڑکی کو تکلیف کم ہو ، اس نیت کے ساتھ تیل یا ایسی چکناہٹ والی چیز لگا کر دوخل کرنا ، جس سے عورت کو تکلیف کم ہوتی ہو، ایسا کرنا جائز ہے۔ صرف تمام عورتوں کےلیے ہے لیکن آپ یہ نیت کر لیں میں یہ چیز اس نیت سے لگا رہا ہوں۔ تاکہ میری شریک حیات کو ، میری ساتھی کو تکلیف کم ہو۔ اللہ پاک کی اس نیت پر بھی ، آپ کو اجر عطافرمائیں گے۔ باقی یہ بات کہ جواز عورت یا غیرجواز عورت کی ۔ ایسا کرنا بالکل جائز ہے۔ ہر وہ چیزجو آپ کسی سہولت کےلیے کریں۔ تو ایسی ہر چیز جائز ہے۔ جب حضور پاک ﷺ جھوٹ بولنا کسی دوسرے کی سہولت میں جائز قرار دے سکتے ہیں

۔ تو پھر یہ عمل بہت دور کی بات ہے۔ لہذا ہر اس کام کی اجازت ہے جس سے کسی کو سہولت میسر ہو۔ آسانی مل سکے۔ ایسے کاموں پر اجر ہے ۔ نہ کہ گناہ۔ اسی طرح ایک اور بھائی نے سوا ل کیا وہ کہتے ہیں کہ میری شادی کو پچیس سال سے زائد کا عرصہ گز ر چکا ہے گھر میں آئے دن فساد ہوتے ہیں کیونکہ بیوی کا جھکاؤ اپنے والدین کی طرف ہے وہ چاہتی ہے کہ میرا جھکاؤ ان کی طر ف ہوجائے۔ حالانکہ ان کا رویہ کبھی بھی صیحح نہیں رہا۔ اس صورتحال کی وجہ سے نفرتیں بڑھتی رہیں میری ماں بیوی کے رویے سے میرے ساتھ نہیں رہتیں ۔ بلکہ وہ اپنی لڑکیوں کے گھر رہ رہی ہیں۔ جو کہ میرے لیے شرم کا باعث ہے میں ان کا بیٹا ہوکر بھی ان کے بڑھاپے کا سہار ا نہیں بن سکا۔ ایسے میں اپنی بیوی کو دو دفعہ طلاق دے چکا ہوں۔ ایسے حالات میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اس کو جواب یہ ہے کہ آپ لڑ لڑ کر دو دفعہ طلاق دے چکے ہیں صرف ایک طلاق باقی ہے اس کو استعمال کر لیا تو آپ خالی رہ جائیں گے

۔ اس لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ کی بیوی کا جھکاؤ اپنے والدین کی طر ف ہے۔ تو نفع و نقصان کی خود ذمہ دار ہے۔ آپ اپنے گھر میں لڑائی جھگڑ انہ کریں۔ آپ کی والدہ اپنی لڑکیوں کے ہاں رہ رہی ہیں ۔ یہ آپ کی مجبوری ہے جہاں تک ہوسکے ان کی خدمت کرتے رہیں۔ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ اور اپنے گھر کے سکون کو خراب نہ کریں۔

Leave a Comment