کیا بیوی اپنے شوہر کو مارسکتی ہے ؟ شوہر بیوی کو کس حد تک مارسکتا ہے

مارسکتا

ایک سوا ل ہے کہ اس کا میاں اس کو مارتا ہے۔ تو وہ پولیس میں خبر کرسکتی ہے ؟ تو اس پر علماء نے کہا ہے کہ ٹھیک ہے کہ میاں مارتا ہے۔ لیکن سٹیٹ کو حق نہیں ہے کہ وہ گھر کے معاملا ت میں دخل دے ۔ تو اس گھر وغیر ہ ٹوٹ جاتے ہیں؟اس کاجواب ہے ۔ دونوں حوالے ٹھیک ہے ۔پہلی تو یہ کہ اگر اس کی ہڈ ی پسلی ٹو ٹ جائے تو وہ کہیں

جا کر شکایت وغیر ہ نہ کرے ۔ قرآن تو فرماتا ہے دانت کے بدلے دانت ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان۔ یہاں پر تو مرد اتنی وحشت سے اپنی بیویوں کو مارتے ہیں۔کہ ان کے بازو توڑ دیتے ہیں۔ تو وہ اپنی شکایت لے کر نا جائے ۔ قرآن کی رو کے مطابق وہ تو اپنی شکا یت لے کرجائے گی۔ ظاہر قاضی وقت کے پاس لے کر جائے گی۔ جب تک وہ شکایت نہیں کرے گی تو اس وقت تک اس کی شنوائی کیسے ہوگی۔ باقی یہ بات ٹھیک ہے کہ کسی کے گھر کے معاملا ت میں دخل دیں۔ جو مرد اپنی بیوی کو وحشیوں کی طرح مارے جو اس لیول کو تک جائے اس کو چاہیے کہ وہ اپنی مرد کے ساتھ نہ رہے۔ اسلام میں عورت کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ آپ اس کے جسم پر داغ دیں ۔ کہ اس کی ہڈی پسلی توڑ دیے۔ اس میں بھی آیا ہے کہ اگر بے حیائی کا کام کرے تو

پہلے اس کو اپنے بستر سے الگ کرے۔ پہلے سمجھائیں اورپھر اس کے بعد مارے ۔ اس لیول کی چیز ہو جو بے حیائی کا لیول ہو۔ جو بیوی کو بچوں کی طرح مارے گا تو وہ شکایت کرے گی نہیں۔ کیونکہ اس نے اپنا گھر بسانا ہوتا ہے۔ اگر کوئی خاوند بے حیائی پر اتر آیا ہے اور وہ عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتا ہے۔ تو اس کو چاہیے کہ اس کو تھپڑ مارے ۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے مار سکتی ہے۔ ویسے تو ہمارے گھروں میں مرد ظلم کررہےہوتے ہیں۔ مارنے کی نوبت نہیں آتی ۔ بہت کم آتی ہے۔ ایک اور سوا ل ہے کہ جوان مرد کو پتہ ہی نہ ہوں کہ عورت ہوتی کیا ہے؟ ہم لوگ کالج وغیر ہ میں پڑھتے ہیں۔ ان کچھ نہ کچھ باتیں ہوہی جاتی ہیں۔ کوئی زیادہ ہنسی مذاق نہیں مثلاً کوئی ٹیچر پڑھا رہی ہوتی ہے لڑکوں کے کالج میں اور مر د بھی پڑھا رہے ہوتے ہیں گرلز کالج میں ؟اس کا جواب ہے آپ پریکٹیکل طور پر اس کی خرابیاں دیکھ لیں۔

اس طریقے سے معاشرہ پروڈیوس ہورہا ہوتا ہے۔ وہاں پر آؤٹ پٹ کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ کاارشا د ہے :جہاں پر دو مرد اور عورت الگ ہوتے ہیں وہاں پر تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔ الگ ہونے کامطلب یہ نہیں ہے کہ کسی کمرے میں بند ہوں۔ ایک لڑکا بیٹھا لاہور میں اور لڑکی بیٹھی ہے کراچی میں اور دونوں آپس میں چیٹنگ کررہے ہیں۔ وہ الگ ہی ہیں۔ اور تیسرا شیطان ہی ہے۔ اور پریکٹیکل طور پر آپ دیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ کو ایٹریکشن کے ثمرات بتا دوں کہ اس کے ثمرات یہ ہیں کہ ننانوے فیصد لو میریج ناکام ہورہی ہیں۔ اگر آپ کی بات کو مان لیاجائے تو ننا نوے فیصد لو میرج کو کامیا ب ہونا چاہیے۔ دوسری طرف ارینج میرج کامیاب ہورہی ہیں۔ وہ اس وجہ سے کئی ایک عیوب سامنے آجاتے ہیں

شادی سے پہلے ہی۔ اس کے لیے چاہیے کہ لڑکوں کو لڑکوں کے کالجز میں پڑھنا چاہیے ۔ اور لڑکیوں کو لڑکیوں کے کالجز میں پڑھنا چاہیے۔ ان میں انٹریکشن نہیں ہونا چاہیے۔ اور عورتوں کو پوری احتیاط ہونی چاہیے۔

Leave a Comment