آن لائن کاروبار کرنے والوں کو بھی اب ٹیکس دینا ہوگا ایف بی آر نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

آن لائن کاروبار

پی ایف سی نیوز! آن لائن کاروبار کرنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرلیا گیا۔ایف بی آرکے نوٹیفکیشن کے مطابق یکم ستمبر سے آن لائن کاروبار کرنے والوں سے ٹیکس وصول کیا جائیگا۔ آن لائن کاروبار کرنے والوں سے 2 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ آن لائن کاروبارکے مالکان تمام اشیاکی خریداری پر دو فیصد ٹیکس دیں گے

جب کہ ٹیکس فائلرز پر دو فیصداضافی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق آن لائن کاروبار کرنے والے نان فائلرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے

سرکاری محکمے کروڑوں کے نادہندہ ہونے اور صوبائی اور وفاقی اداروں کا بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا انکشاف

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کے اجلاس میں سرکاری محکمے کروڑوں کے نادہندہ ہونے اور صوبائی اور وفاقی اداروں کا بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔پاور ڈویڑن سے مسلسل بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ، کے الیکٹرک کی نجکاری کے حوالے سے کئے گئے معاہدے کی تفصیل، سیپکو ہیسکو اور کے الیکٹرک سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے واجب الاادا بلوں کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو نہ پیش کرنے پر ممبران نے برہمی کا اظہار کیا جبکہ وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر کا کمیٹی میں حاضر نہ ہونے مشکلات میں اضافے کی وجہ قرار دے دی گئی ہے تفصیلات کے مطابق ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے پاورکا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چئیرمین کمیٹی نے کہا

کہ عام آدمی کے ذمے دس ہزار روپے ہوں تو اسے رسوا کیا جاتا ہے،سرکاری محکمے کروڑوں کے نادہندہ، بجلی کمپنیاں خاموش ہیں، صوبائی اور وفاقی ادارے بجلی کے بل نہیں دے رہے حیسکو، سیپکو ریجن میں سرکاری اداروں سے بجلی بقایاجات وصول کئے جائیں،صوبائی اور وفاقی ادارے بجلی کے بل نہیں دے رہے، اس موقع پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایسا لگتا ہے حیسکو، سیپکو افسران بقایا جات وصول کرنا ہی نہیں چاہتے سندھ پولیس سے حیسکو، سیپکو افسران کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری پاور ڈویڑن علی رضا بھٹہ نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ2002 کی پالیسی کے تحت15پروجیکٹ 3035میگاواٹ کے لگائے گئے۔ منصوبوں میں تھرمل گیس اور ہائیڈرل کے شامل تھے۔2006 میں نئی پالیسی لائی گئی جس میں قابل تجدید منصوبوں کی طرف گئے۔

50, 50میگا واٹ کے بھاگاس، سولر اور ونڈ کے پلانٹ لگائے گئے۔ اس پالیسی کے تحت 38منصوبے جن کی استعداد 1876میگاواٹ تھی قائم کیے گئے یہ چھوٹے منصوبے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں فائنل پالیسی بنائی گئی جس میں بڑے منصوبے تھے اور پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ پر فوکس کیا گیا۔ 8703میگاواٹ کے 7منصوبے لگائے گئے اس میں کول،آر ایل این جی کے منصوبے شامل تھے۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ باہر سے کوئلہ ایمپورٹ کر کے بجلی پیدا کی گئی۔ کچھ منصوبے ایسے تھے جو تھر سے نکلنے والے کوئلے سے بھی چلائے جاتے تھے،چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 2028 تک 13161میگاواٹ ہائیڈرل کی استعداد کار آجائے گی۔اس وقت9435میگاواٹ موجودہ ہائیڈرل کی کیپسٹی ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 24280میگاواٹ کل بجلی پیدا ہوئی ہے

Leave a Comment