عورت کو شیطان کا دوست کیوں کہا گیا

عورت کو شیطان

پی ایف سی نیوز! اللہ تعالیٰ نے عورت کو مرد کیلئے پیدا کیا اور اللہ نے دونوں کیلئے ضابطہ مقرر فرما دیا دونوں کو ان کے مقام کے بارے میں بتادیا گیا ۔عورت کیلئے بھی اللہ تعالیٰ نے ضابطہ مقرر فرما یا ہے عورت اگر اس ضابطہ سے ہٹ کر زندگی گزارتی ہے تو وہ فتنے کا سبب بنتی ہے ۔ ایسی عورتوں کو شیطان نے اپنا دوست کہا ہے ۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے عورت کو شیطان نے اپنا دوست کیوں کہا ہے ۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے جب عورت کو پید اکیا گیا تو ابلیس نے ا س سے کہا کہ تو میرا آدھا لشکر ہےتومیرا ایسا تیر ہے کہ میں جب بھی چلاؤں گا نشانے پر لگے گا۔اس کا مفہوم یہ ہوا ہے کہ عورتیں مرد کیلئے شدید ترین فتنہ ہے ۔ عورت شیطان کا ہتھیار ہے اور بنی اسرائیل میں پہلافتنہ بھی عورت سے شروع ہوا۔ شیطان عورت کے ذریعے گھروں کو برباد کردیتا ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا دنیا سے بچو اور عورت سے بچو بلاشبہ بنی اسرائیل میں اوالین فتنہ کا سبب عورتیں ہی تھیں۔ یہی سبب ہے کہ عورتوں اور مردوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ۔یہ وضاحت کی گئی ہے کہ کوئی بھی مرد کسی اجنبی کیساتھ تنہائی اختیار نہ کرے کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا تو ان دونوں کے درمیان تیسرا شیطان ہوگا جو انہیں بہکائے گا اور دھوکہ دیکر برائی میں مبتلا کردیگا۔ آج اللہ کے بتائے ہوئے ان احکامات کو چھوڑ دیا گیا ہے نہ تو پردے کا اہتمام باقی رہا ۔ نہ ہی مرد وعورت کے میل ملاپ کو برا سمجھا جاتا ہے ۔

آج گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ زنا عام ہوچکا ہے ۔آئے دن تلاخ یافتہ تعداد بڑھ رہی ہے گھرانے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں یہی شیطان کا پسندیدہ کام ہے کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوجائے اور گھر برباد ہوجائے ۔ عورتوں کے فتنے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ شیطان اپنی محنت میں لگا ہوا عورتیں بھی مغرب کی اندھی تقلید میں مصروف ہیں۔ جب ان کو کہا جاتا ہے کہ پردہ اختیار کریں تو ان کی طرف سے عجیب وغریب جوابا ت سننے کو ملتے ہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ دین کا علم نہ ہونے کے برابر ہے گھروں میں ٹی وی اور انٹرنیٹ لگا ہوا ہے ۔تلاوٹ ہم سے چھوٹ گئی ہے ۔ جو کچھ ٹی وی اور انٹرنیٹ پر دیکھا جاتا ہے وہی کیا جاتا ہے ایسے حالات میں مرد کیا کرے ۔ مرد کو چاہیے وہ گھر سے ان اسباب کا صفایا کرے جن کیوجہ سے فتنے جنم لے رہے ہیں البتہ عورتوں کے فتنہ انگیزی سے بچنے کے کچھ راستے ہیں جنہیں اختیار کرکے اس فتنہ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ راستے ہیں

اللہ پر ایمان اور اسکی گرفت کا خوف ایک انسان کو وقتی خواہشات اور عارضی لذتوں محفوظ رکھنے کا زبردست ذریعہ ہےاللہ کی نگرانی کا احساس حرام سے بچنے کیلئے مسلمانوں میں حیرت انگیزکردار ادا کرتا ہے دوسری جو چیز آتی ہے وہ نگاہوں کی حفاظت قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے ۔ کیونکہ نگاہوں کو بے لگام چھوڑنا ہی حرام کاری اور بدکاری کے برے انجام تک پہنچاتا ہے تیسری چیز ہے وہ ہے دل سے بُرے خیالات کو ہٹا نا ۔دل میں برا خیال آتے ہی اگر اسے باہر نکال دیا جائے کوئی خیال باعث وبال نہیں بنتا ۔ اگر کسی خیال کو سوچ بنا لیا جائے تو انجام بھیانک ہے جو سب سے اہم وہ ہے نکاح اسلامی شریعت نوجوانوں کو نکاح کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ فطری خواہش کو جائز طریقہ سے پورا کرنے کا موقع موجود ہو اور حرام کاری سے بچا جاسکے۔

Leave a Comment