دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں مریض کو گھر میں کس چیز سے بچایا جا سکتا ہے ؟ وہ بات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

دل کا دورہ

پی ایف سی نیوز ! دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں مریض کو کچن سے صرف یہ چیز لے کر دے دیں, اللہ پاک کی رحمت سے آپ سب خیریت سے ہوں گے سینے میں محسوس ہونے والا جان لیوا درد برا تکلیف دے ہوتا ہے یہ درد عام طورپراس وقت ہوتا ہے جب دل کو خون مہیا کرنے والی شریانوں کی بندش ہو جائے دل کے دورے کی سب سے بڑی علامت درد ہے

یہ درد اتنا شدید درد ہوتا ہے کہ مریض ترپنے پ مجبور ہوجاتا ہے . بعض اوقات دل کا دورہ انسان کی جان بھی لے لیتا ہے اللہ پاک سب کو دل کی بیماری سے بچائیں آمین جب کسی انسان کو دل کا دورہ پرتا ہےاگر مریض کو فوری طور پر طبی سہولیات مہیا نہ کی جائیں توانسان کی جان بھی جا سکتی ہے.دل کا دورہ پرنے کی صورت میں کچن سے یہ چیز اٹھائیں اور مریض کو پلا دیں انشاء اللہ تعالی ہسپتال جانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی. اور اللہ تعالی کے حکم سے مریض بھی ٹھیک ہو جائے گا آخر وہ چیز ہے کونسی جان لیں. دل کا اچانک دورہ انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور اگر ہسپتال جانے میں دیر ہو جائے تو انسان کی جان بھی جا سکتی ہے لیکن میں آج آپکو ایسا امیزنگ ٹوٹکا بتارہی ہوں جس کو استعمال کر کے آپ ایسی خطرناک صورت حال

پر قابو پا سکتے ہیں. اگر کسی انسان کو دل کا دورا پڑ جائے تو ایک گلاس پانی لے کر اس میں سرخ مرچ پائوڈر ایک چائے کا چمچ ڈال کر مکس کر کے مریض کو پلا دیں پانی سادہ ہو نہ گرم نہ ٹھنڈا اور اگر مریض ہوش میں نہ ہو تو سرخ مچ کو چند قطرے پانی میں ڈال کر مریض کی زبان کے نیچے رکھیں سرخ مرچ خالص ہونی چاہئےانشاءاللہ تھوڑی ہی دیر میں مریض کی حالت سمبھل جائے گی سرخ مرچ میں یہ خصوسیت موجود ہے کہ یہ دل کے دورے کو جان لیوا کنڈیشن تک جانے نہیں دیتی اس لیے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں سورخ مرچ کا استعمال لازمی کریں. دوستو اگر آپ کو یہ عمل اچھا لگا ہو تو اپنے دوستو کے ساتھ اور فیملی کے ساتھ بھی چئیر ظرور کریں شاید آپ کی وجہ سے کسی کی جان بچ جائے جزاک اللہ

شادی شدہ اور کنواری لڑکیوں کے غسل کا اسلامی طریقہ جو زیادہ تر لڑکیاں نہیں جانتی

غسل دوطرح کے ہوتاہے کہ ایک وہ جو ہم روزمرہ کی روٹین میں غسل کرتے ہیں۔ ایک وہ غسل ہوتا ہے کہ جو ناپاکی دور کرنے کیلئے اور پاکی حاصل کرنے کیلئے جو غسل کرتے ہیں۔ کبھی جنابت کی وجہ کبھی حیض کیوجہ سے اور کبھی نفاس کی وجہ سے ۔ناپاکی دور کرنا اور پاکی حاصل کرنیوالا جو غسل ہے اسکا ایک طریقہ جو آپﷺ نے فرمایا وہ یہ ہے

کہ پہلے وضو کیا جائے اگر کچی جگہ نہیں ہے تو پیر بھی ساتھ دھو لیے جائیں پورا وضو اُسی طرح کیا جائیگا۔اگر نہانے والی جگہ جو کچی ہے تو پیروں کو آخر میں دھوئیں گے ۔ اس سے پہلے استنجا کرنا ہے اس کے بعد وضو کرنا ہے اگر جسم پر کوئی ناپاکی لگی ہے پانی وغیرہ سے نہیں چھوٹتا تو اسے صاف کرنا ضروری ہے۔ اگر نیل پالش لگی ہے تو اسے بھی صاف کرنا ضروری ہے ۔میک اپ لگا ہے تو اسے صاف کرنا ضروری ورنہ غسل نہیں ہوگا۔ دوسری بات جب آپ نے استنجا کرلیا ناپاکی کو دور کرلیا وضو کرنے کے بعد آپ نے تین دفعہ اپنے جسم پر پانی بہانا ہے کوئی عضو خشک نہ رہے تین بار قلی کرنی ہےتین دفعہ ناک میں پانی ڈال کر ناک کے نرم حصے پر پانی ڈال کر صاف کرنا ہے ۔غسل میں یا وضو میں پانی کا اسرا ف گناہ کا ذریعہ بنے گا ۔ شکریہ

Leave a Comment