دودھ اور ہلدی بنانے کا حکیمی طریقہ ! جس سے آپ تمام قسم کی بیماریوں کا علاج کر سکیں گے

دودھ اور ہلدی

پی ایف سی نیوز ! عام استعمال ہونے والی ہلدی کے فوائد ہر روز سامنے آرہے ہیں اور اب متعدد تحقیق کے بعد اسے جادوئی شے قرار دیا جاچکا ہے . مصدقہ معلومات اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہلدی اپنے اندر انقلابی طبی خواص رکھتی ہے تو پہلے ہلدی کی چائے کے فوائد پڑھتے ہیں اور اس کے بعد چائے تیار کرنے کی ترکیب جانتے ہیں.

۱. آرتھرائٹس میں آرام پہنچاتی ہے . ۲. قوت مدافعت بڑھاتی ہے . ۳. دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے . ۴. پیٹ کے درد میں کمی آتی ہے بھولنے کی بیماری ختم ہوتی ہے . ۶.کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہے . ۷. ذیابیطس کا خطرہ کم کرے اور علاج ممکن بنائے . ۸. پھیپھڑوں کے مسائل میں مفید ہے۔ہلدی کی چائے بنانے کا طریقہ ہلدی پاؤڈر دو چائے کے چمچ دودھ1 گلاس دودھ میں ہلدی شامل کر کے ہلکی آنچ پر دس منٹ تک اُبال لیں کپ میں چھان کر نکال لیں اور نیم گرم پی لیں ذائقہ دار بنانے کے لیے آپ اس میں شہد، کالی مرچیں، دیسی کریم کا استعمال کرسکتے ہیں اکستانی کھانوں میں ہلدی عمومآ استعمال کی جاتی ہے اور یہ مجھے بھی پسند ہے۔

میں اسے متعدد تخلیقی طریقوں سے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔یہ ادرک کی نسل کے پودے کرکما لونگا کی جڑ سے نکالی جاتی ہے. مصالحے دار اور گرم ہلدی اپنی تیز مہک اور زرد رنگ کی بدولت جانی جاتی ہے۔ قدیم چینی ادویات اور آیورویدک طریقہ علاج میں اس کی تاریخ کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔ہلدی قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات کی حامل ہے اور خراشوں، زخموں اور جلنے وغیرہ کے لیے مفید ہے۔ یہ ایک فوری مرہم کا کام کرتی ہے، خون کے لوتھڑوں کی روک تھام اور زخم پر لگانے کی صورت میں نئے خلیات کی افزائش میں مدد دیتی ہے۔ اقتور اینٹی بایوٹک ہونے کے ساتھ ساتھ یہ انفیکشنز جیسے ای کولی کی بھی روک تھام کرتی ہے

(یہ بیکٹریا عام طور پر صحت مند انسانوں اور جانوروں کے اندر ہوتا ہے، تاہم آلودہ پانی یا گائے کے کچے پکے گوشت کے ذریعے جسم میں داخل ہونے پر شدید انفیکشن، معدے کے درد، الٹیوں، خونی ہیضے اور اکڑن کا باعث بن سکتا ہے)۔میں ہلدی کو بہت پسند کرتی ہوں کیونکہ یہ جگر کی صفائی کا کام کرتی ہے. ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہم بہت زیادہ کھا لیتے ہیں۔ اور خوراک، ہوا، ذاتی نگہداشت اور گھریلو مصنوعات کے نتیجے میں بہت زیادہ زہریلے مواد جیسے کیمیکلز، کیڑے مار ادویات، آلودہ پانی، بھاری دھاتوں وغیرہ کے اثر میں آتے ہیں۔یہ ز ہ ر ہمارے جگر، گردوں، لمفی نظام اور خاص طور پر شمحی بافتوں (فیٹ ٹشوز) میں جمع ہو جاتے ہیں۔

ان زہریلے مواد کا انبار کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز اور غذائیت کو ہضم کرنے میں مزاحمت کرتا ہے۔مزید برآں یہ مواد ہمارے جسم میں آکسیجن کی مقدار کو کم کرتے ہیں جس سے ایک تیزابی، کم توانائی اور خراب کیفیت پیدا ہوتی ہے اور ہم امراض کا آسان نشانہ بن جاتے ہیں۔روزمرہ کی بنیاد پر ہلدی کا استعمال ان زہریلے اثرات کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے اور ان کا انبار کم کر کے جگر کو ٹھیک رکھتا ہے

Leave a Comment