بغیر ورزش کرنے کے کریں پیٹ کی چربی ختم ،ماہرین طب کا اہم انکشاف

پیٹ کی چربی

پی ایف سی نیوز ! اس کی ایک بڑی وجہ موجودہ عہد کی غذائی عادات بھی ہیں جس میں چکنائی، میٹھے اور فاسٹ فوڈ کا بہت زیادہ استعمال ہونے لگا ہے جبکہ دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان بھی منہ چلانے کی عادت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بلڈ شوگر لیول بڑھتا ہے جس کے نتیجے میں انسولین کا اخراج بڑھتا ہے۔

انسولین جسم میں شکر کو توانائی میں بدلنے کا کام کرنے والا ہارمون ہے تاہم جب جسم اس توانائی کو کسی کام نہیں لاتا تو انسولین ہی جسم کو اسے بطور چربی ذخیرہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ انسولین کے اخراج میں اضافے کا ایک اور خطرہ انسولین کی مزاحمت بھی ہوتا ہے جس کے دوران لبلبے کو خون میں موجود اضافی شکر خارج کرنے کے لیے زیادہ انسولین بنانے کی ضرورت ہوتی ہے اور بتدریج یہ میٹابولک سینڈروم (بلڈ پریشر، ہائی بلڈ شوگر، اضافی جسمانی چربی (توند)، ورم اور غیرمعمولی کولیسٹرول لیول کا مجموعہ) بن جاتا ہے جو کہ امراض قلب، فالج اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ انسولین کی مزاحمت اور میٹابولک سینڈروم عمر کے ساتھ بتدریج بڑھتے ہیں

اور اس کی ایک بڑی علامت کمر اور پیٹ کے ارگرد اضافی چربی کا جمع ہوجانا ہے۔ مگر آج کل لوگ جسمانی وزن تو کم کرنا چاہتے ہیں مگر روزمرہ کی مصروفیات کے باعث ورزش کو معمول بنانے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ چند عام چیزوں کا خیال رکھ کر بھی اس اضافی چربی کو بغیر ورک آﺅٹ کے گھلایا جاسکتا ہے۔ تحریر جاری ہے‎ زیادہ پروٹین پروٹین ایسا غذائی جز ہے جو خلیات کے افعال کو معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ہڈیوں، مسلز اور جلد کو بنانے اور مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے، یہ ایسے افراد کے لیے بھی فائدہ مند ہے جو چربی گھلانا چاہتے ہیں۔ تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ پروٹین پیٹ بھرنے کے احساس کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے موثر غذائی گروپ ہے،

جس سے زیادہ کھانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ زیادہ پروٹین والی غذاﺅں کا استعمال کم مقدار میں پیٹ بھر دیتا ہے جس سے بھی بے وقت کھانے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ پروٹین سے بھرپور غذاﺅں میں گوشت، مچھلی، انڈے، گریاں، دالیں اور دودھ یا اسے بنی مصنوعات قابل ذکر ہیں۔ ہلکی جسمانی سرگرمی عادت بنالیں جسمانی سرگرمیاں وزن میں کمی کے لیے بہت اہم ہیں اور ضروری نہیں کہ سخت ورزشیں جیسے جم میں ورک آﺅٹ کیا جائے۔ امریکن کالج آف اسپورٹس میڈیسین کے مطابق ہر ہفتے معتدل ڈھائی سو منٹ کی جسمانی سرگرمیاں نمایاں حد تک جسمانی وزن میں کمی لاسکتی ہیں، معتدل جسمانی سرگرمیاں جیسے تیز چہل قدمی، باغبانی، گھریلو کام، رقص، بچوں کے ساتھ کھیل کود، سیڑھیاں چڑھنا، بھاری چیزوں کو اٹھانا یا

ایک سے دوسری جگہ لے جانا وغیرہ۔ ان سرگرمیوں کو ہفتہ بھر جاری رکھنا چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔ نیند کا صحت بخش پیٹرن نیند صحت کے متعدد پہلوﺅں جیسے چربی گھلانے کے لیے اہم ہے، امریکا کے نیشنل سلیپ فاﺅنڈیشن کے مطابق بالغ افراد کو ہر رات 7 سے 9 گھنٹے سونا عادت بنانی چاہیے، مگر بیشتر افراد 7 گھنٹے سے کم نیند لینے کے عادی ہوجاتے ہیں اور تحقیقی رپورٹس میں بتایا کہ نیند کا کم دورانیہ جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے، خصوصاً نوجوانوں میں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 5 دن کی ناقص نیند بھی نوجوانوں میں زیادہ کھانے کی عادت کا باعث بن سکتا ہے، اس کے نتیجے میں جسمانی وزن بڑھتا ہے۔ ذہنی تناﺅ میں کمی لانا ذہنی تناﺅ جسم کو نقصان پہنچاکر متعدد امراض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے، تحقیقی رپورٹس کے مطابق دائمی تناﺅ جسمانی وزن میں اضافے اور موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے،

ذہنی تناﺅ میں کمی لانا بھی چربی گھلانے کے لیے ایک کارآمد ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے، اس مقصد کے لیے تناﺅ کی علامات سے آگاہی، ورزش کو معلوم بنانا، دوستوں اور خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات، پرسکون سرگرمیاں جیسے مراقبہ یا مطالعہ، کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنا وغیرہ مددگار نکات ہیں۔ تحریر جاری ہے‎ میٹھے مشروبات سے گریز چینی سے گریز کرنا بھی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے، مگر میٹھے مشروبات کا کم استعمال کرنا یہ اثر تیز کردیتا ہے۔ میٹھے مشروبات میں کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ غذائی معیار نہیں ہوتا، جس سے بھوک کی تشفی نہیں ہوتی اور ناقص توانائی ملتی ہے، اس کے نتیجے میں لوگوں کے اندر ان کا استعمال معمول بنا جاتا ہے۔

Leave a Comment