اس جمعرات صرف 001 بار پڑھ لیں انشاءاللہ ہرنیک وجائز تمنا پوری ہوگی

نیک وجائز تمنا

پی ایف سی نیوز ! ایسے لوگ جن کےپیسوں میں یا رزق میں برکت نہیں تو پریشان نہ ہوں۔ روزانہ نماز فجر اور عشا کی نماز کے بعد گیارہ ،گیارہ سو مرتبہ ’’یا غنی ‘‘ کا ورد کریں۔ اللہ تعالی کے فضل کرم سے ان کے رزق میں بے پناہ اضافہ اور برکت آجائے گی۔ یہ مجرب وظیفہ رزق اور بندش کے خاتمہ کیلئے نہایت بہترین ہے ۔

جمعرات اور جمعہ کی شب اس اسم شب اس اسم مبارک ’’یا غنی ‘‘ کو انیس ہزار مرتبہ پڑھنے۔ اور عمل کو جاری رکھنے سے انسان کو غیب سے دولت ملتی ہے ۔ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی پانے کا اچھا موقع ہوتا ہے۔ قبولیت کے امکانات مزید روشن کرنے کیلئے میں سجدے میں دعا مانگتا ہوں۔ بسا اوقات اگر کسی سبب نماز کا وقت نہ ہو ۔یا نفل نماز کیلئے ممنوعہ وقت ہو تو میں جان بوجھ کر ایسی سورت کی تلاوت کرتا ہوں۔ جس میں سجدہ تلاوت ہو، تو تب بھی میں اتنا لمبا سجدہ کرتا ہوں ۔کہ جمعہ کے دن مغرب کی آذان ہو جائے

تنہائی میں مرد عورت کے پاؤں تک چو م کر، مزید جانیں

مر د چھوڑنے میں جلد ی کرتا ہے ، پھر ساری زندگی پچھتاتا ہے ، پر عورت نہیں چھوڑتی لیکن جب چھوڑتی ہے پھر پچھتاتی نہیں۔یہ بات مرد کی فطرت ہے کہ وہ ایک عورت سے فیضیاب ہونے کے بعد بھنورے کی طرح دوسری گلی کا طواف کرنا شروع کردیتا ہے۔ مردانگی کی بہترین سطح یہ ہے کہ مرد کی وجہ سے عورت کی آنکھ میں آنسو نہ آئے۔ کردار صرف عورت کا ہی نہیں ہوتا مردحضرات بھی جب کردار سے گر جائیں تو بدکردار ہی کہلائیں گے۔ مرد کی غیرت کا پتا ا س کے ہاتھ چلتی عورت کے لباس سے لگایا جاسکتا ہے۔ مرد کاکام عورت کو سمجھنا نہیں اس کومحسوس کرنا،اس کی حفاظت کرنا اس سے محبت کرنا ہے۔ اس کی عزت کرنا اور یہ باتیں عورت کو کڑے سے کڑے حالات میں بھی جینے کا حو صلہ دیتی ہیں۔

مرد ساری عمر جھڑکیاں کھا کر دھکے برداشت کرتا ہوا کفالت کی راہ نہیں چھوڑتا ، مکان بنواتا ہے پردیسوں کی مٹی پھانکتا ہے۔ آخر میں ان کے جوان بچے کہتے ہیںابا جی آپ کوئی ڈھنگ کاکام کرلیتے تو زندگی نہ سنو ر جاتی۔ عورت کو بدکردار کہنے والا مرد تنہائی میں جب ہوس پوری کرتنی ہوتو پاؤں تک چو متا ہے۔ مرد ظالم ہوتا ہے مرد حاکم ہوتا ہے۔ مرد خود کو عورت کا خدا سمجھتا ہے۔ ایسے کتنے ہی جملے ہم کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں.مگر کبھی سوچا ہے۔ کہ مرد کس قسر مشقت کرتا ہے ۔ اپنی عورت کا سائبان بننے کے لیے اسے معاشرے کی سرد گرم سے بچاکر رکھتا ہے اپنا آپ مارتا ہے کماتا ہے۔ اور اس پیسے سے اپنی عورت کیلئے دنیا کی ہر سہولت خریدتا ہے

قدر کریں اس کی جس کی وجہ سے آپ ایک محفو ظ چھت تلے بیٹھ کر ایک آسائش بھر ی زندگی گزار رہی ہیں۔لڑکے نے اپنے بابا سے پوچھا بابا مرد کوکیسے پتا چلے اس کا کردار کیسا ہے کیونکہ کوئی شخص خود کو غلط نہیں کہتا بابا نے کہا جب تمہاری خواہش ہو کہ تمہاری بیٹی بہن کو تم جیسا مرد ملے تو سمجھ جاؤ تم حق پر ہو ورنہ خود کو سد ھار لو۔افسوس لوگ چلے جاتے ہیں زندگی سے لیکن بچھڑتے ہوئے یادوں کو تالے لگانا بھول جاتے ہیں۔ بچھڑنے والے بچھڑجاتے ہیں۔ لیکن اپنے پیچھو ایک نشان رقم کر جاتے ہیں اور ان نشانوں کو مٹانا ہرگز کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ جب کوئی مرد کسی عورت کے لیے روتا ہے تو سمجھ لیں وہ کسی اور سے محبت نہیں کرسکتا ۔ محبت کے لیے ایسے لوگوں ڈ ھو نڈیں جن کے ماضی نے انہیں توڑ دیا ہو جن کی خواہشیں دم توڑ چکی ہوں، جو جینا بھول چکے ہو۔

وہی لوگ زندگی کی حقیقت سمجھتے ہیں وہی جانتے ہیں کہ درد کیا ہوتا ہے ایسے لوگ کبھی بھی کسی کے جذبات سے نہیں کھیلتے ۔ مرد بھی عجیب ہے محبت عورت کا جسم دیکھ کر کرتا ہے عورت بھی عجیب ہے جسم دیکھ کر مرد سے عزت کی امید رکھتی ہے۔ مرد کو کمانے کے قابل اس کے والدین بناتے ہیں مگر حق اس کی کمائی پربیوی صرف اپنا حق سمجھتی

Leave a Comment