مختلف شہروں میں موسلا دھار بارشوں سے جھل تھل ایک ہو گیا نشیبی علاقے زیر آب،لاہور میں دن کے وقت اندھیرا چھا گیا

موسم

پی ایف سی نیوز ! پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوںسے جھل تھل ایک ہو گیا ،بارش سے کئی نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہو گیا جبکہ بجلی کا ترسیلی نظام معطل رہا ۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں صبح کے وقت سیاہ بادلوں کے آنے سے اندھیرا چھا گیا ،

اندھیرے کے باعث شہریوں کو گاڑیوں اورموٹر سائیکلوںکی لائٹس آن کر کے سفر کرنا پڑا۔ بعد ازاں موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا جس سے کئی علاقوں میں پانی کھڑا ہو گیا ۔ بارش کی وجہ سے ٹریفک کے بہائو میں بھی تعطل رہا ۔ موسلا دھار بارش سے کئی فیڈ ر ٹرپ کر گئے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی بند رہی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح میں موسلادھاربارش ہوئی، گوجرانوالہ، مریدکے، ڈسکہ، پنڈ دادن خان، کالا باغ میں بھی ابر رحمت برسا۔ سیالکوٹ میں تیز بارش سے سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا۔ایبٹ آباد، گلیات اور مانسہرہ میں بادلوں نے خوب رنگ جمایا۔

کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعدد مقامات پر بھی بادل خوب برسے۔ تیز بارش کے بعد نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔سندھ میں بھی بارش سے گرمی کا زورٹوٹ گیا۔کراچی ،تھرپارکر، ٹنڈوالہ یار، حیدر آباد اور گردونواح میں موسلا دھار بارش ہوئی۔

پانچ چیزیں شوگر سے نجات دلاتی ہیں،جانیں وہ 5چیزیں کونسی ہیں اور طریقہ استعمال کیا ہے

اس مرض لاحق ہونے کا مطلب ہے کہ متعدد اقسام کی غذاﺅں کی لذت سے منہ موڑ لیا جائے خاص طور پر چینی سے بنی اشیاءسے دوری اس کے مریضوں کی بہتر صحت کے لیے ضروری ہے۔تاہم فکر نہ کریں ایسی بھی مزیدار چیزوں کی کمی نہیں جن کا استعمال نہ صرف ذیابیطس یا شوگر کی مقدار کو معمول پر رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ جسمانی توانائی کو بھی برقرار رکھتی ہیں۔کم کاربو ہائیڈرنٹ والی سبزیاں آلو، شکرقندی، مکئی وغیرہ وٹامن، کیلیوریز، کاربوہائیڈرنٹ اور دیگر معدنی عناصر بھرپور ہونے کے ساتھ کچھ مٹھاس کے ساتھ ذیابیطس کے مریضوں کی تکلیف میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں، اس کے مقابلے میں گوبھی یا دیگر کم کیلیوریز والی سبزیوں کا استعمال نہ صرف بھوک مٹاتا ہے۔

بلکہ وٹامنز، منرلز اور فائبر وغیرہ سے جسم کو بھی فائدہ بھی پہنچتا ہے ایک تحقیق کے مطابق کم کیلیوریز والی سبزیوں کے استعمال سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کی شکایت میں کافی حد تک کمی بھی آتی ہے۔چکنائی سے پاک دودھ اور دہی وٹامن ڈی اچھی صحت کے لیے ضروری ہے جو ہڈیوں کو صحت مند رکھتا ہے، تاہم ذیابیطس کے مریض اکثر اپنی جسمانی ضروریات کے مطابق اسے حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ نان فیٹ یا چکنائی سے پاک دودھ اور دہی وٹامن ڈی کے حصول کا آسان ذریعہ بھی ہے اور اس سے گلوکوز لیول بھی نہیں بڑھتا۔ہاورڈ میڈیکل اسکول کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دودھ دہی کا استعمال ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ نو فیصد تک کم کردیتا ہے۔ خاص طور پر مردوں کو اس سے کافی فائدہ ہوتا ہے۔

ٹماٹر لائکوپین سے بھرپور ہوتے ہیں، یہ طاقتور جز کینسر، امراض قلب اور پٹھوں کی تنزلی وغیرہ جیسے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے، تاہم ذیابیطس کے مریض اگر اسے روزانہ دو سو گرام تک استعمال کریں تو اس سے گلوکوز لیول معمول پر رہتا ہے اور بلڈپریشر بھی کم ہوجاتا ہے، جبکہ اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس سے منسلک امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے مالٹوں اور گریپ فروٹ کا گاڑھا پن فائبر کا بہترین ذخیرہ فراہم کرتا ہے، اسے جوس کی بجائے پھل کی شکل میں کھانے سے زیادہ سے زیادہ فائبر اور وٹامن سی جسم کا حصہ بنتے ہیں۔ ہاورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق کے مطابق مالٹے یا دیگر اسی طرح کے پھلوں کا استعمال خواتین میں ذیابیطس کا خطرہ کم کردیتا ہے تاہم اس کا جوس یہ خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

مچھلی اومیگا تھری فیی ایسڈز سے بھرپور مچھلی کا استعمال امراض قلب کا خطرہ کر دیتا ہے، چونکہ اس میں کیلیوریز اور کاربوہائیڈریٹس بہت کم ہوتے ہیں اس لئے اس کا استعمال ذیابیطس کی شکایت میں کمی کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے بندگوبھی اور دیگر پتوں والی سبزیاں کم کیلیوریز کی حامل ہوتی ہیں۔ خاص طور پر بند گوبھی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سپرفوڈ سے کم نہیں کیونکہ یہ بلڈ پریشر کی شرح بھی کم کرتی ہے۔ ہول گرین یعنی جو، دالیں اور دیگر اجناس میٹابولزم کو تیز کرکے چربی کو ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، جبکہ ان سے بلڈکولیسٹرول کی شرح بھی کم ہوجاتی ہے اور بلڈ شوگر کی شرح مستحکم رکھتی ہیں۔دالیں وٹامن بی، آئرن، کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین فراہم کرتی ہیں جس سے ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے

Leave a Comment