ہما ر ے جسم کا وہ حصہ جس کے بال اکھاڑنے سے موت بھی وا قع ہو سکتی ہے،جانیں اہم معلومات

بال اکھاڑنے

پی ایف سی نیوز ! ہم زیادہ تر ناک کے ذریعے سانس لیتے ہیں اور اس دوران ہم جتنی بھی ہوا سانس کے ذریعے اندرلیجاتے ہیں ہماری ناک اسے کو صاف کرتی ہیں۔ ناک کے اندر موجود بال اس ہوا کو صاف کرنے کے لیے پہلے فلٹر کا کام کرتے ہیں۔ ہم نے عموماً دیکھا ہے کہ لوگ ناک کے بالوں کو ایک چمٹی کے ذریعے اکھاڑتے ہیں۔

یہ طریقہ آپ کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ویب سائٹ بزنس انسائیڈرنے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں نیویارک یونیورسٹی کے ماہر امراض ناک ، کان و گلا ڈاکٹر ایرک وائٹ نے بتایا ہے کہ ناک کے بالوں کو چمٹی سے اکھانا کس قدر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر ایرک کا کہنا تھا۔ کہ جب ہم ناک کے بالوں کو چمٹی سے اکھاڑتے ہیں۔ تو یہ جلد کے اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ جس سے جلد میں ایک سوراخ بن جاتا ہے۔ اس سوراخ میں بیکٹیریا چلے جاتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ بال اکھاڑنے سے بسااوقات معمولی خون بھی نکل آتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بال اکھاڑنے سے بننے والے سوراخ کے پاس خون کی وریدیں بھی ہوتی ہیں۔

اور ڈاکٹر ایرک کے مطابق یہ بیکٹیریا ان خون کی وریدوں کے ذریعے باقی جسم میں پھیل جاتے ہیں۔اور انفیکشن کرتے ہیں۔ بالخصوص ناک کے بالوں کے اکھاڑنے سے بننے والے سوراخوں کے ذریعے جسم میں سرایت کرنے والے یہ جراثیم اور بیکٹیریا دماغ کی جھلی کے ورم اور دماغ کے ٹیومر کا باعث بنتے ہیں۔آپ اپنے بالوں کو بالکل بھی ناک سے باہر نہ بڑھنے دیں۔ لیکن اس کے لیے انہیں چمٹی سے اکھانے کی بجائے قینچی سے کاٹیں اور صرف اتنا ہی کاٹیں کہ یہ ناک سے باہر نظر نہ آئیں۔ ناک کے اندر تک بالوں کو کاٹنا بھی ۔کئی بیماریوں کو جنم دیتا ہے کیونکہ اس سے اندر جانے والی ہوا بہتر انداز میں صاف نہیں ہو پاتی

اب کریں لیکوریا کا گھر بیٹھے مکمل علاج،جانیں انتہائی آسان اور مفید نسخہ

سیلان رحم یالیکوریا کوئی بیماری نہیں بلکہ کئی بیماریوں کابطور نتیجہ اور ساتھ ساتھ یہ کئی نئے ہونے والے انفیکشن اور بیماریوں کی وجوہات ہوسکتی ہے۔یہ خواتین کے پوشیدہ عضو سے بہنے والاسفید یاپیلے رنگ کا مادہ ہوتاہے۔اگر چہ یہ ڈسچارج جینیٹل صحت کو برقرار رکھنے کے لئے اہم ہے لیکن خارج ہونے والے مادہ میں تبدیلیوں کو روکنے کے لئے طبی توجہ کی ضرورت بہرحال ہوتی ہے۔تاکہ انفیکشن سے بچاجاسکے۔اس ڈسچارج کااصل مقصد جسم سے نقصان دہ بیکٹیریا اوردیگر حیاتیات کاجسم سے نکلنا ہے۔اگر یہ ڈسچارج سفید اور بدبو کے بغیر ہوتو نارمل سی بات ہے لیکن اگر یہ گاڑھااور بدبو دار ہو تو لیکوریاہے۔لیکوریا کی عام طور پر دواقسام ہوتی ہیں۔

پہلی فزیولوجیکل اور دوسری پیتھولوجیکل ۔۱۔فزیولوجیکل لیکوریاسے مراد جسمانی عوامل جیسے جوش و خروش یاگھبراہٹ ہیں۔مثال کے طور پر لڑکیوں میں بلوغت کے دوران ہارمونل تبدیلیاں، اوویولیشن سائیکل اورکم عمری میں حمل اور سیکسشوئل ایکسائٹمنٹ وغیرہ۲۔پیتھولوجیکل لیکوریا نامناسب غذا اور صحت کی خرابی کے باعث ہوتاہے۔ جینیٹل ٹریک انفیکشن بھی اسکی بڑی وجہ ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ نفسیاتی عوامل کا بھی نتیجہ ہوسکتاہے۔لیکوریا کی علامات:اسکی علامات ہر خاتون میں مختلف ہوسکتی ہیں لیکن بعض میں ایک ساتھ کئی علامات بھی ہوسکتی ہیں۔ جو مندرجہ ذیل ہیں۔اندام نہانی سے سفید یاپیلا اوربدبودارمادہ کااخراج،پنڈلیوں اور ریڑھ کی ہڈی میں درد،پیٹ کے حصے میں بھاری پن،سستی اور کاہلی،اندام نہانی میں خارش،قبض،بار بار سردرد، عمل انہضام کے مسائل،چڑچڑاپن،آنکھوں کے نیچے جلد پر کالے پیچزعام علامات ہیں۔وجوہات:نامناسب طرز زندگی (Vitality) اور غیر متوازن کھانے کی عادات،رحم کے نچلے گردن نما حصے کاورم، ہارمونل عدم توازن،جینیٹل زخم جو اضافی کھجلی کاسبب بنتے ہیں۔

.نامناسب جینیٹل ہائیجین،بیکٹیریل اورفنگل انفیکشن،بدہضمی،قبض ،خون کی کمی،ذیابیطس ،کثرت حیض،کشیدگی اور تشویش ،نوجوان لڑکیوں میں یہ حیض شروع ہونے کے ایک سال پہلے یاایک سال بعد ہوسکتا ہے۔بہت سی خواتین ڈلیوری کے بعد اس مرض کاشکار ہوجاتی ہیں۔اسطرح کے معاملات یوٹرائن انفیکشن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اندام نہانی میں سوزش بھی اسکاسبب بنتی ہے۔اسکے لئے فوری طور پر طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ دیگر بیماریوں اور انفیکشن سے بچاجاسکے۔یہ مرض اچانک شدت اختیار نہیں کرتا۔لیکوریاخواتین کے تولیدی نظام میں ایک یاایک سے زائد اعضاء کو متاثر کرسکتاہے۔ جسم میں ٹاکسن کاجمع ہوناغیر معمولی نہیں ہے یہ خواتین میں جینیٹل نظام میں ٹاکسک حالت کی وجہ سے ہوتا ہے۔

جو ناقص اور غیر متوازن غذا کے سبب ہوتاہے۔جب باڈی آرگن جیسے گردے،آنتیں اور جلد جسم سے ان ٹاکسن کو نکالنے میں ناکام ہوتی ہیں تو نتیجے کے طور پر جسم ان ٹاکسن کو اندام نہانی سے ڈسچارچ کی شکل میں خارج کرنے کی کوشش کرتاہے۔ دائمی لیکوریاکی صورت میں سفید،پیلا یہاں تک کہ پیپ کے ہمراہ بھی ڈسچارج جاسکتاہے۔گھریلوعلاج :اس مرض کی علامات کی نشاندہی ہی اس کے علاج میں پہلاقدم ہے۔ڈاکٹر اس مرض کی وجہ کے مطابق ادویات تجویز کرتے ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ اس مرض کاگھریلوعلاج بھی محفوظ طریقے سے کیاجاسکتاہے۔ان میں سے کوئی بھی ایک طریقہ علاج جو آپ آسانی سے کرسکیں اپنائیں ۔۱۔کیلااس مرض میں مفید ہے کیلاکھاکر دودھ میں شہد ملاکرپیئیں۔

یا ایک کیلاپر چند قطرے اصلی گھی یاصندل کی لکڑی کاتیل لگاکر صبح وشام دس دن تک استعمال کرسکتی ہیں۔اگر یہ بھی مشکل ہوتو صرف دوکیلے اور تین چمچ شہد ملا کرکھالیں۔۲۔بھنے ہوئے چنے،مصری یاگڑ، تھوڑاساچندیاگوندھ،اور چند دانے چھوٹی الائچی باریک پیس کر شیشے کی بوتل میں رکھ لیں اور ایک چمچ صبح اور ایک چمچ سونے سے پہلے کھالیں۔مرض کی شدت میں دو چمچ کھاسکتی ہیں۔۳۔چار گلاس پانی میں دو سے تین چائے کے چمچ میتھی دانہ ڈال کر آدھے گھنٹے تک پکاکرچھان کرپی لیں۔۴۔را ت میں ایک گلاس پانی میں ایک چمچ ثابت دھنیا بھگودیں۔اور صبح خالی پیٹ پی لیں بہترین نتائج کے لئے ایک ہفتہ تک استعمال کریں۔ اسکے علاوہ کرین بیری کے جوس کااستعمال بھی مفید ہے۔۵۔زیرہ بھون کر اگر خالی نہ کھایاجائے تو تھوڑی سی چینی ملاکر کھالیں۔۶

۔تلسی کے پتوں کارس اور شہد ہم وزن ملاکر صبح وشام پینے سے فائدہ ہوتاہے۔ اگر شہد نہ ہو تو مصری لے سکتی ہیں۔۷۔دس گرام سونٹھ ایک گلاس پانی میں ڈال کراتناپکالیں کہ ایک چوتھائی پانی رہ جائے ۔چھان کر پی لیں تین ہفتے تک استعمال کریں۔۸۔سوگرام مونگ توے پر بھون کر پیس کر شیشی میں بھر کررکھ لیں۔روزانہ ایک کپ پانی میں آدھاکپ چاول بھگودیں۔پانی چھان کر ایک چمچ مونگ کاپاؤڈرحل کرکے روزانہ ایک بار پی لیں۔آپ کیاکھاتی ہیں یہ اس مرض میں اہم ہے۔کم از کم دہی کااستعمال روزانہ کریں۔مختلف انفیکشن اور بیماریوں سے بچنے کے لئے مکمل صفائی،ہلکی ورزش،قبض سے بچیں،چائے،کافی ،میدہ،تلی ہوئی،مصالحے دارمرغن اشیاء ترک کریں اور پھل سبزیاں استعمال کریں۔غصہ ،رنج وغم،تفکرات،ذہنی پریشانیوں سے جس حد تک ہوسکے بچیں

Leave a Comment