بلااجازت مسجد الحرام آنے پر 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کردیا

مسجد الحرام

پی ایف سی نیوز ! سعودی عرب نے بلااجازت مسجد الحرام آنے پر 10ہزار ریال جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ حج تک مسجد الحرام اور اس کے آس پاس اجازت نامے کے بغیر آنے والوں پر دس ہزار سعودی ریال کا جرمانہ عائد کیاجائے گا۔

منا، مذدلفہ اور عرافات آنے پر بھی پابندی ہو گی۔ دوسری بار خلاف ورزی پر جرمانہ بھی ڈبل کر دیا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق جن افراد کو کورونا وائرس کی ویکسین لگ چکی ہے انہیں مسجد نبوی اور مسجد حرام میں آنے کی اجازت ہو گی۔اعلامیہ کے مطابق کورونا وائرس وبا جب تک ختم نہیں ہوتی جرمانے کی سزا نافذ رہے گی۔ دوسری جانب سعودی عرب کی حکومت نے مزید چھ پیشوں اور شعبوں کو مقامی سطح پر اپنانے کی منظوری دی ہے جس کے نتیجے میں مقامی شہریوں کے لیے نوکریوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے وزیرانجینیر احمد بن سلیمان الراجحی نے متعدد پیشوں اور سرگرمیوں کو مقامی شکل دینے کے لیے 6 نئے وزارتی فیصلوں کے اجرا کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان پیشوں کو مقامی سطح پر اپنانے سے چالیس سے زیادہ ملازمتیں فراہم کی جاسکیں گی۔انہوں نے کہا کہ ان پیشوں اور سرگرمیوں میں تکنیکی اور انجینئرنگ کے پیشوں کے علاوہ قانونی مشیر ، قانونی فرموں ، کسٹم کلیئرنس ، رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیاں ، سنیما سیکٹر اور ڈرائیونگ اسکول شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے منصوبے کا مقصد دو لاکھ 30 ہزارسے زیادہ ملازمتیں فراہم کرنا ہے۔الراجحی نے وزارتی فیصلوں کے اجرا کے موقعے پر اس بات پر بھی زور دیا کہ ان فیصلوں کا اجرا وزارت کی حکمت عملی کا تسلسل ہے تاکہ قومی کیڈروں کو معیاری اور باوقار ملازمت کے مواقع حاصل کرنے کے قابل بنایا جاسکے اور کام کے لیے ایک پرکشش اور حوصلہ افزا ماحول مہیا کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف کمپنیاں اور ادارے مقامی سطح پر شہریوں کو روزگار کی فراہمی اور مختلف پیشوں کو اپنانے کے حوالے سے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے حکومت کے ساتھ اس شعبے میں تعاون سے لیبر مارکیٹ کی ترقی، کاردکردگی میں بہتری اور پیداوارمیں اضافہ ہوگا۔قابل ذکر ہے کہ وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے رواں سال کے آغاز سے ہی متعدد فیصلے جاری کیے ہیں ، جن میں بند کمرشل کمپلیکس ، ریستوران کیفے ، کیٹرنگ مارکیٹ اور نجی سطح پرتعلیمی پیشوں کو مقامی سطح پراپنانے کی فیصلے شامل ہیں۔اس سے قبل جن شعبوں میں مقامی شہریوں کے لیے ملازمتیں پیدا کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے گئے ہیں ان میں دندان سازی ، فارمیسی ، انجینیرنگ اور اکانٹنگ جیسے شعبے شامل ہیں

Leave a Comment