چین پاکستان کی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوشاں ہے، چینی قونصل جنرل کا سی پیک کے حوالے سے اہم اعلان

چینی قونصل

پی ایف سی نیوز ! ونصل جنرل چائنہ لاہور پنگ زنگ وونے کہا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی چائنہ نے پہلی صدی کے اہداف خوشحالی ، امن اور ترقی کامیابی سے حاصل کئے ہیںاور اب نئی منازل کی طرف گامزن ہے ،اپنے قیام کے وقت کمیونسٹ پارٹی چائنہ صرف پچاس ارکان پر مشتمل تھی اور آج ڈیڑھ ارب سے زائد لوگوںکے ملک میں اس پارٹی کاحجم95ہزار ممبران پر مشتمل ہے اوریہ دنیا کی سب سے بڑی گورننگ پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے

جس کا اثر و رسوخ پوری دنیا میں ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈمیڈیاریسرچ ( آئی آئی آرایم آر )کے زیر اہتمام ’’کمیونسٹ پارٹی چائنہ کے قیام کے سو سال او رپاک چائنہ تعلقات کے سفر ‘‘ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع بیجنگ یونیورسٹی کی ڈائریکٹر اردوڈیپارٹمنٹ ڈاکٹرژانگ جیامی،انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈمیڈیاریسرچ کے چیئرمین محمد مہدی،صدر یاسر حبیب خان ،پنجاب یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر سلیم مظہر،پروفیسر امجد مگسی ،پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلم اینڈ براڈکاسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کی چیئر پرسن لبنیٰ ظہیر ،جاوید فاروقی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا ۔قونصل جنرل چائنہ لاہور پنگ زنگ وو نے مزید کہا کہ کمیو نسٹ پارٹی چائنہ نے سیاسی ،معاشی اور سماجی استحکام لا کر چین کو غربت کی دلدل سے نکالا اور دنیا کی تضحیک سے بچاکر ترقی کے نئے دور میں داخل کیا ۔

ان تمام کامیابیوں کا سہرا بجا طور پر کمیونسٹ پارٹی چائنہ کو جاتا ہے اور کمیونسٹ پارٹی چائنہ کی انتھک کوششوں کے وجہ سے چین کے لوگ اپنی قسمت کے خود مالک ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ چین میں اصلاحات کے دور 1978ء سے اب تک770ملین لوگوںکو غربت سے نجات دلائی جا چکی ہے جو کہ پوری دنیا کی غربت کے خاتمہ کا 70فیصد بنتا ہے ۔ چین دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے غربت کا خاتمہ کرکے اقوام متحدہ کے میلینیم ڈویلپمنٹ گول کاہدف حاصل کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ مذکورہ پارٹی صرف چین کے لوگوں کی خوشحالی کیلئے کام نہیں کر رہی بلکہ یہ انسانیت کی بہتری کے لئے دن رات کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر رہے ہیں جس کا مقصددونوںممالک کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی ہے

۔پاکستان اور چین کے لازوال تعلقات کے 70سال مکمل ہو چکے ہیں اوردونوں ممالک نے سماجی و سیاسی نظا م ،ثقافت ، مذہب اور تاریخ میں فرق ہونے کے باوجود پوری دنیا میں دوستی کی عظیم اور لازوال مثال قائم کی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ 2015ء میں چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا تھاجس کے بعد پاکستان چین کی سٹریٹیجک پارٹنر شپ مضبوط بنیادوںپر پروان چڑھی اور پاک چین دوستی کے ایک نئے باب کا اضافہ ہو ا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے پہلے مرحلے کے دورس نتائج کے بعد دوسرے مرحلے میں زراعت اور صنعت پر توجہ مرکوزکی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کورونا وباء میں بھی پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے ۔ چین پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوںاور حکومتوں سے مل کر پاکستان کی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوشاں ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈمیڈیاریسرچ کے چیئرمین اورچائنہ امور کے ماہر محمد مہدی اور انسٹی ٹیوٹ کے صدر یاسر حبیب خان نے کمیونسٹ پارٹی چائنہ کو صد سالہ تقریبات کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جائزے کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کی زندگی میں چار مرحلے آئے ہیں ، پہلا اس کے قیام 1921سے لے کر انقلاب چین 1949 تک جو کہ جدو جہد کا عہد ہے ، دوسرا مرحلہ قیام انقلاب سے لے کر 1980 تک جس دوران انہوں نے قوم بنانے پر ساری توجہ صرف کی ، تیسرا مرحلہ 1980 سے صدر شی کے اقتدار میں آنے تک جب انہوں نے نیا معاشی ویژن اختیار کیا اور چین کو دنیا کے لئے کھول دیاجبکہ چوتھا مرحلہ صدر شی کا دور حکومت ہے جو جاری ہے جس میں چین نے اپنے لوگوں کو غربت کی دلدل سے نکالا اور صرف چینی عوام کو ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر غربت کے خاتمے کیلئے بی آر آئی جیسے منصوبے کا آغاز کیا اور ساتھ ہی یہ بھی باور کروایا کہ وہ اپنی عالمی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے دنیا پر اپنا نظام مسلط نہیں کرنا چاہتے ۔

انہوںنے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات بھی تین مرحلوں پر مشتمل ہیں جس میں اول جب انقلاب چین برپا ہوگیا تو پاکستان نے اسی وقت یہ فیصلہ کر لیا کہ چین سے پائیدار تعلقات نہایت ضروری ہیںاس لئے شہید نوابزادہ لیاقت علی خان کے دور حکومت سے چین سے وفود کے تبادلے شروع ہو گئے اور باہمی اعتماد اور خیر سگالی کا یہ دور ایوب خان کے دور حکومت تک جاری رہا ۔ یحیی خان کے دور سے لے کر آصف زرداری کے دور تک دوسرا مرحلہ رہا جس میں زبردست دفاعی تعاون کیا گیا ۔ پاکستان نے چین کی عالمی حیثیت اور کردار کو تسلیم کروانے میں اپنا کردار ادا کیا جبکہ چین بھی ہر کڑے وقت میں پاکستان کے ساتھ ڈٹ کھڑا رہا ۔ تیسرا مرحلہ نواز شریف کے دور سے شروع ہوا کہ جس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )کی صورت میں شاندار اقتصادی اور سٹر یٹیجک شراکت داری کا آغاز کیا گیا ۔ یہ دنیا میں پہلا معاہدہ ہے

جو اقتصادی اور سٹریٹیجک دونوں جہتیں رکھتا ہے ۔ قابل تشویش امر یہ ہے کہ اب اس میں ایک ٹھہرائو محسوس ہو رہا ہے ، ایم ایل ون جیسا منصوبہ تاحال شروع نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ سی پیک کا فیصلہ ساز ادارے جے سی سی کا اجلاس ہی 2019 سے نہیں ہوا ۔انہوںنے کہاکہ اس کیفیت کو ختم کرنا چاہیے کیونکہ اقتصادی اور سٹریٹیجک شراکت داری وقت کی ضرورت ہے ۔بیجنگ یونیورسٹی کی ڈائریکٹر اردوڈیپارٹمنٹ ڈاکٹرژانگ جیامی(zhang Jiamei)نے کہا کہ پاکستان اورچین نے دیرینہ اور با اعتمادہمسائے کے طور پر اپنی دوستی کوپروان چڑھایا ہے ۔ دنیا میں پاکستان کی جیو سٹریٹجک پوزیشن ہے اور یہ مشرق کو مغرب سے جوڑتا ہے ۔ دونوں ممالک میں1951ء میں تعلقات کا آغاز ہوا اور اب تک دونوں کے درمیان تعاون اور کوارڈی نیشن اپنے نقطہ عروج پر ہے ۔

سات دہائیوں میں کئی پیچ و خم آئے لیکن اس کے باوجود دونوںممالک کے تعلقات میں مزید پختگی آئی ،دونوں ممالک ہر کڑے وقت میں ایک دوسرے کے لئے ثابت شدہ اورآزمودہ ہیں۔دونوں ممالک میں حکومت سے حکومت اورسفارتی تعلقات کے بعد اب عوام سے عوام کے درمیان مضبوط تعلقات کی تحریک بھی پیدا ہو چکی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ چین ایک امن پسند ملک ہے جو تمام دنیا کے لئے امن کا خواہاں ہے ۔انہوںنے کہاکہ سی پیک کا فیز ون مکمل ہونے کے بعد فیز ٹو سے دونوں ممالک کے اقتصادی اور معاشی تعلقات میں نئی جہت پیدا ہو چکی ہے ۔پنجاب یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر سلیم مظہرنے کمیونسٹ پارٹی چائنہ کے ترقی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین میں انتہائی غربت کے خاتمے کے لئے کمیونسٹ پارٹی چائنہ کا کردارتاریخ میں لازوال داستان کے طور پر درج ہے ۔

پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر امجد مگسی نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی چائنہ کی کامیابی سیاسی معجزہ ہے ، اس نے لوگوں کی زندگیوں، معاشرت اور معاشیات سے ایک کامیاب معاشرے کو جنم دیا ہے ۔ پاک چائنہ تعلقات ، چین پاکستان اقتصادی راہداری اور سپیشل اکنامک زونز کے قیام سے پاکستان میں نہ صرف معاشی ترقی میں تیز رفتاری آئے گی بلکہ روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے ۔پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلم اینڈ براڈکاسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کی چیئر پرسن لبنیٰ ظہیر نے کہا کہ چین ہمارا ایسا دوست ہے جب بعض اوقات مسلم برادر ملک بھی ہمارا ساتھ چھوڑ گئے تو چین ہمارے ساتھ ڈٹ کر کھڑا رہا۔ مسئلہ کشمیر کے معاملے پرچین نے ویٹو کیا،ہمارے دفاع کو جب بھی کوئی خطرہ ہوا چین ہمارے ساتھ آن کھڑا ہوا۔ اقتصادی سطح پر بھی چین ہمیشہ ہمارے شانہ بشانہ رہا ہے

اور اب تک کھڑا ہے۔ 2013 میں جب پاکستانی عوام کو 20 ،20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا تو چین نے ہمارا ہاتھ تھاما،چین نے 11 ہزار میگا ووٹ بجلی کی پیداوار میں ہمیں بھرپور مدد دی۔اس نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کی صورت میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ،اگر یہ منصوبہ ٹھیک سے آگے بڑھا تو ملک کی تقدیر بدل دے گا۔انہوں نے کہا کہ کوئی مانے یا نہ مانے چین دوسری بڑی سپر پاور بن چکا ہے،یہ منزل چین نے نہایت محنت اور جانفشانی سے حاصل کی ہے ، پاکستان کو بھی چین کی تقلید کرنی چاہیے اوراس کی طرح یکسو ہو کر آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ بد قسمتی سے ہم یہاں ایک دوسرے کو چور ،ڈاکو اورلٹیرے کہنے میں اپنا وقت اور توانائی ضائع کر رہے ہیں،

کاش ہم بھی چین کی طرح صرف اور صرف ملک و قوم کے خوشحالی سے متعلق منصوبوں پر اپنی توجہ مبذول کریں،تب ہی ہم کہہ سکیں گے کہ ایک اچھے دوست کی دوستی سے ہم نے بھی کوئی سبق سیکھا ہے

Leave a Comment