پودینہ انسان کے لیے کتنا فائدہ مند ہےپیارے نبی کریمؐ کا فرمان سن لیں

پودینہ

پی ایف سی نیوز ! سانس کی تکلیف یا دائمی کھانسی میں مبتلا مریضوں کو سردیوں اور بہار کے موسم کے آغاز سے پہلے ہی بہت محتاط ہو جانا چاہیے کیونکہ پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمع ہونے والی بلغم نزلے زکام کے جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتی ہے جہاں وہ تیزی سے نشو و نما پاتے ہیں۔ یہ بلغم کبھی کبھی شدید کھانسی کی صورت میں بھی باہر نہیں نکلتی، نالیوں کو جکڑے رکھتی ہے اور اکثر پھیپھڑوں کے مہلک انفیکشن کا سبب بنتی ہے ۔

شدید کھانسی عموماً لگ بھگ تین ہفتے رہتی ہے۔ کھانسی کی چند دیگر اقسام ٹھیک ہونے میں کبھی کبھی کافی وقت لے لیتی ہیں تاہم کھانسی کسی بھی نوعیت کی ہو اس کا تعلق نظام تنفس میں پیدا ہونے والے کسی نقص سے ضرور ہوتا ہے۔ گلے کی خرابی، حلق کی سوزش، سانس کی نالی میں کسی قسم کے انفیکشن کا جنم لینا یا پھیپھڑوں کی خرابی، کھانسی کا سبب بنتی ہے۔کھانسی کا موثرعلاج نہ ہونے کی صورت میں یہ خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔آسان اور متبادل علاج کھانسی کم کرنے یا روکنے والے مختلف شربت دیکھنے میں بہت بھلے لگتے ہیں۔ جیب پہ بھی خاصا بوجھ ڈالتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے بچنا بہترہے۔ تھوڑی بہت کھانسی ہونا فائدہ مند ہے۔ اس سے سانس کی نالی صاف ہوتی رہتی ہے۔ زیادہ کھانسی کی صورت میں مندرجہ ذیل گھریلو علاج فائدہ مند ہے۔لیموں کے عرق سے تولیے کو تر کر کے سینے کو لپیٹنے سے بھی کھانسی میں آرام آتا ہے۔

*گرم دودھ میں شہد ملا کر پینے سے پھیپھڑوں سے بلغم صاف ہو جاتا ہے۔ نمک کے پانی سے غرارے کرنے اور نمک کے گرم پانی کا بھاپ لینے سے ناک اور گلے کی سوزش میں کمی آتی ہے اور سانس کی نالی پر حملہ کرنے والے جراثیم بھی مر جاتے ہیں۔ اس طرح کھانسی پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ *شدید کھانسی میں سانس لینے کا عمل غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ تیز تیز سانس لینا کھانسی اور پھیپھڑے میں جمع بلغم کو صاف کرنے میں مدد نہیں دیتا۔آہستہ آہستہ اور گہری سانس لینے سے پھیپھڑے کی بند نالیوں کو کھولنے اور خون تک آکسیجن کی مطلوبہ مقدار کی فراہمی میں مدد ملتی ہے۔ * نیم گرم پانی میں نمک یا ڈسپرین ڈال کر غرارے کریں۔ * صبح دوپہر شام دو چمچ شہد میں چار دانے پسی ہوئی سیاہ مرچ ملا کر استعمال کریں۔

* ایک پیالی انگور کا رس میں ایک چمچ ملا شہد کھانسی کا موثر ترین علاج ہے۔ * میٹھے بادام کی چھ سات گریاں پانی میں بھگوئیں۔ صبح چھلکا اتار کر چینی اور مکھن کے ساتھ ملا کر آمیزہ بنائیں اور کھا لیجیے۔ خشک کھانسی کے لیے مجرب نسخہ ہے۔ * ذرا سی ملٹھی کھانے سے کھانسی کافی حدتک کم ہوجاتی ہے۔سینے پر ہنس کی چربی ملنے سے کھانسی میں بہت آرام آتا ہے اور اس کی گرمی پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمع بلغم کو صاف کرنے میں بھی بہت مدد دیتی ہے۔ * کچا امرود جسے گدرا بھی کہتے ہیں چولہے پر بھون کر نمک میں ملاکر کھانے سے بھی کھانسی میں آرام آتا ہے۔ *دوپیاز لے کر آگ پر بھون لیں جب اس کا بیرونی چھلکا جل کر کالا ہوجائے تو چھلکا اتار کر اندرونی حصہ رگڑ کر خوب باریک کرلیں اور چھان کر اس کا پانی الگ نکال لیں۔

پھر اس میں ہم وزن شہد ملالیں۔ یہ آمیزہ ایک چمچ صبح شام مریض کو دیں۔حیرت انگیز طورپر کھانسی میں افاقہ ہوگاایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی انسان کو دل کا دورہ پڑنے، سٹروک ہونے یا کم عمر میں انتقال کر جانے کے بارے میں معلومات انسان کی ہتھیلی میں موجود ہیں۔یہ تحقیق لینسٹ میں شائع کی گئی ہے۔ اس تحقیق کے لیے 14 ممالک میں 140 ہزار افراد پر ٹیسٹ کیے گئے۔اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے،سٹروک ہونے یا کم عمرمیں انتقال کر جانے کے امکانات جاننے کے لیے بلڈ پریشر سے بہتر ہاتھ کی گرفت ہے۔بین الاقوامی ریسرچ ٹیم کا کہنا ہےکہ صحت جاننے کے لیے ہاتھ کی گرفت ایک سادہ اور سستا طریقہ ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھ کی گرفت اور دل کے عارضے کا تعلق واضح نہیں ہے اور اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ عمر کے ساتھپ ساتھ ہاتھ کی گرفت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔

لیکن جن کی گرفت زیادہ تیزی سے کمزور پڑتی ہے ان کی صحت کو خطرہ ہے۔نئی تحقیق کے مطابق 20 سال کی خواتین کے ہاتھ کی گرفت سے 75 پاو¿نڈکا وزن پڑتا ہے جبکہ یہ وزن 70 سال میں 53 پاونڈ رہ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں 20 سالہ مرد 119 پاو¿نڈ کا وزن ڈال سکتے ہیں جبکہ 70 سال میں یہ 85 پاو¿نڈ رہ جاتا ہے۔14ممالک میں کی جانے والی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ گرفت کے زور میں 11 پاو¿نڈ کی کمی ہونے پر جلد انتقال ہونے کے امکانات 16 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح جان لیوا دل کا دورہ پڑنے کے امکانات 17 فیصد اور سٹروک ہونے کے امکانات 9 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔عام طور پر ڈاکٹر دل کا دورہ پڑنے یا سٹروک کے امکانات جاننے کے لیے مریضوں سے سوال نامہ پر کراتے ہیں جس میں ان کی عمر، تمباکو نوشی کرتے ہیں یا نہیں، موٹاپا، کولیسٹرول، بلڈ پریشر، کہاں رہائش ہے اور خاندان میں بیماری ہے

یا نہیںجیسے سوال پوچھے جاتے ہیں۔مزید پڑھئیے:: ماہرین نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ سونے سے قبل ٹی وی دیکھنے یا موبائل فون کا استعمال کرنے والوں میں موٹاپے کا شکار ہونے کے زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی طبی جریدے نیشنل اکیڈمی آف سائنس جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا کہ موٹاپے میں اضافے کا براہ راست تعلق نیند سے ہوتا ہے،مصنوعی روشنی میں سونے یا پھر سونے سے قبل ٹی وی دیکھتے اور موبائل فون کا استعمال کرنے والے افراد میں چکنائی کو توانائی میں تبدیل ے والی بھوری چربی کے خلیات بری طرح متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں موٹاپے کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔تحقیق سے منسلک سائنس دان سینڈر کوئج مین کا کہنا تھا کہ موٹاپے پر قابو پانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان سونے سے قبل مصنوعی روشنی کا کم سے کم استعمال کرے

Leave a Comment