کیا ناپاکی کی حالت میں اذان کا جواب دینا جائز ہے ؟ پاکستانی مسلمان لازماً جان لیں

ناپاکی

پی ایف سی نیوز ! کیا جنابت کی حالت میں آذان کا جواب دیا جاسکتا ہے یا نہیں دیا جاسکتا؟ یہ بہت ہی اہم سوال ہے دیکھیں جنابت کوئی بھی ہو۔ قربت کی جنابت ہو آپ ناپاک ہیں قربت کی ہے غسل نہیں کیا ہے۔ یا پھر آپ حیض ونفاس کے اندر ہیں۔ یا کوئی بھی ایسا مسئلہ ہے آپ پاک نہیں ہیں۔ ناپاک ہیں۔ آذا ن شروع ہوگئی ہے۔

اس صورت کے اندر کیا کرنا چاہیے ؟ دیکھیں !جنابت کی حالت میں مسجد میں داخل ہونا ، قرآن پاک کو ہاتھ لگانا، نماز پڑھنا یہ جائز نہیں ہے۔ ذکرواذکار کرسکتے ہیں۔جس طرح ذکر واذکار کیا جا سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح آذان کا جواب بھی دیا جاسکتا ہے۔ لیکن جب آذا ن کا جواب دینا ہے ۔ اس کےلیے بہتریہ ہے کہ کم ازکم وضو ضرور کرلیں۔ وضو کرنے کے بعد آپ آذان کاجواب دیں۔ معلوم ہوا کہ جنابت حالت میں بھی آذان کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمان جب ( پہلے پہل) مدینہ میں آئے تو نماز کے لئے یوں ہی جمع ہو جاتے ایک وقت ٹھہرا لیتے، نماز کے لئے اذان نہیں ہوتی تھی ۔ ایک دن انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی تو بعض کہنے لگے (ایسا کرو) نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ بنا لو،

اور بعضوں نے کہا یہودیوں کی طرح ایک نرسنگا (بگل) بنا لو (اس کو پھونک دیا کریں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ایسا کیوں نہیں کرتے ایک آدمی کو مقرر کرو، ہو نماز کے لئے پکار دیا کرے۔ اس وقت آنحضرت ﷺنے ( اس رائے کو پسند کیا) بلالؓ سے فرمایا اُٹھ نماز کے لئے اذان دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے شیطان پادتا ہوا پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے ۔ اس لئے کہ اذان نہ سنے (اس کو اذان سننا گوارا ہے) جب اذان ہو چکی ہوتی ہے تو پھر آتا ہے ۔ اور جب نماز کی تکبیر ہوتی ہے توپیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے جب تکبیر ہو جاتی ہے تو پھر آ تا ہے اور نمازی اور اس کے دل میں خطرہ ڈالتا ہے کہتا ہے فلانی بات یا دکر، وہ باتیں یاد دلاتا ہے

جو نمازی کو یاد ہی نہ تھیں آخر وہ بھول جاتا ہے کتنی رکعات پڑھیں۔ حضرت عبداللہ بن ابی صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا میں دیکھتا ہوں تجھ کو جنگل کا رہنا اور بکریاں چرانا پسند ہے ، پھر جب تو اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لئے اذان دے تو بلند آواز سے اذان دے کیونکہ جہاں تک موذن کی آواز پہنچتی ہے جن اور آدمی یا کوئی اس کی آواز سنتا ہے وہ قیامت کے دن اس پر (گواہ بنے گا) گواہی دے گا ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے یہ آنحضرت ﷺسے سنا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر لوگ جانتے ہوتے جو (ثواب) اذان اور پہلی صف میں ہے پھر بغیر قرعہ ڈالے ان کو نہ پاسکتے تو بے شک اِن پر قرعہ ڈالتے۔

اور اگر وہ جانتے جو (ثواب) ظہر کی نماز کے لئے سویرے جانے میں ہے تو اسکے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے۔ اگر جانتے جو (ثواب ) عشاء اور فجر کی نماز میں میں ہے تو گھسٹتے ہوئے اِن کے لئے آتے

Leave a Comment