پاکستان سب کچھ کرے گا، افغان طالبان کے خلاف فوجی ایکشن نہیں کرے گا، وزیراعظم عمران خان

افغان طالبان

پی ایف سی نیوز ! وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان وسطی ایشیا ء کے ملکوں سے تجارت چاہتا ہے، پاکستان افغانستان کے ذریعے وسطی اشیا کے ملکوں سے جڑے گا، وسطی ایشیا کے کئی ملکوں سے تجارتی معاہدے بھی ہو چکے ہیں، لیکن افغانستان میں امن سے یہ کچھ ممکن ہوگا، افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں یہ مواقع ضائع ہو جائیں گے،

امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا سے پہلے سیاسی تصفیہ ہونا چاہیئے ، افغان طالبان نے طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضے کی کوشش کی تو ہم سرحد سیل کردیں گے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دئیے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا افغان حکومت اور صدر اشرف غنی کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے، افغانستان پر واضح کر دیا ہے کہ پر امن حل کے لیے پاکستان ہر ممکن کوشش کرے گا، اس سلسلے میں پاک افغان خفیہ ایجنسیوں کے درمیان رابطے ہیں، معلومات کا تبادلہ بھی کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا افغانستان کی سیاسی فوجی قیادت سے مسلسل رابطہ ہے، بدقسمتی سے افغانستان میں یہ سوچ ہے کہ پاکستان مزید اقدامات کرے، یہ مایوس کن ہے کہ کسی معاہدے پر نہ پہنچنے کا الزام ہم پر لگایا جاتا ہے،

ہم افغان امن کے لیے تمام اقدمات اٹھا ئیں گے، ماسوائے طالبان کے خلاف فوجی ایکشن۔انھوں نے کہا خطے میں پاکستان اور بھارت دنیا کی بڑی مارکیٹ ہے، مستقبل میں بھارت سے بہتر تعلقات کے لیے پْر عزم ہوں، اور امید ہے بھارت سے تعلقات بہتر ہو جائیں گے، پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات قریبی رہے ہیں، انھوں نے کہا ہم امریکا سے مہذب اور برابری کی سطح کے تعلقات کے خواہاں ہیں، ایسے تعلقات جو 2 ملکوں کے درمیان ہونے چاہئیں، ایسے تعلقات جیسے امریکا کے برطانیہ اور بھارت کے ساتھ ہیں۔انھوں نے کہا امریکا سے تجارتی تعلقات میں بھی بہتری چاہتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعلقات متاثر ہوئے، امریکا سمجھتا تھا کہ امداد کے بدلے پاکستان اس کے ایما پر کام کرے گا،

لیکن امریکا کی جنگ میں پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی، 70 ہزار جانیں گئیں، 150 ارب ڈالر کا معیشت کو نقصان ہوا، پاکستان بھر میں دھماکے اور خود کش حملے ہوئے۔وزیر اعظم نے کہا بد قسمتی سے پاکستان میں حکومتوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر امریکا کی مدد کی، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد پیدا ہوا، پاک امریکا تعلقات میں عوام نے بھاری قیمت چکائی، دوسری طرف امریکا نے ہمیشہ پاکستان کا تعاون ناکافی سمجھا۔ان کا کہنا تھا کہ اب ہم امریکا سے تعلقات اعتماد اور مشترکہ مقاصد پر مبنی چاہتے ہیں، افغانستان سے متعلق پاکستان اور امریکا ایک سوچ رکھتے ہیں، تاہم افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد دونوں ممالک کے عسکری تعلقات پر کچھ کہہ نہیں سکتا، ہم چاہتے ہیں انخلا سے قبل افغانستان میں سیاسی مفاہمت کا عمل پورا ہو،

امریکی فوج کی واپسی کے اعلان کو طالبان نے اپنی جیت تصور کیا، اور پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ کم کرنے کا بھی سبب بنا۔عمران خان نے کہا امریکا، طالبان کے مذاکرات کے لیے پاکستان نے اثر و رسوخ استعمال کیا، طالبان امریکا سے بات چیت کے لیے تیار نہیں تھے، پاکستان نے طالبان کو مذاکرات پر راضی کیا، اور وہ افغان حکومت سے بات پر راضی ہوئے۔وزیر اعظم نے کہا ہم نے طالبان سے کہہ دیا ہے کہ طاقت کا استعمال طویل خانہ جنگی پر دھکیل دے گا، افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو پاکستان بھی لپیٹ میں آئے گا، اور افغانستان سے زیادہ پاکستان میں پشتون آباد ہیں، خانہ جنگی ہوئی تو مزید افغان مہاجرین پاکستان کا رخ کریں گے، جب کہ پاکستان پہلے ہی 30 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔

امریکا کے مطالبے پر پاکستانی حکومت نے بساط سے بڑھ کر کام کیا، افغانستان میں صرف منتخب حکومت کو ہی تسلیم کریں گے، افغان طالبان نے طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضے کی کوشش کی تو ہم سرحد سیل کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے، افغانستان میں صرف منتخب حکومت کو ہی تسلیم کریں گے کیوں کہ پاکستان اب کسی تنازعے میں الجھنا نہیں چاہتا اور نہ ہی افغان مہاجرین کی نئی لہر کا متحمل ہو سکتا ہے، چین اور امریکا کے اچھے تعلقات پوری دنیا کے مفاد میں ہیں ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا جب کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بھی ہمیشہ قریبی تعلقات رہے ہیں ، ہم امریکا سے اپنے تجارتی تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں

کیوں کہ ریاستوں کے تعلقات مشترکہ مفادات پر مبنی ہوتے ہیں ، پاکستان کی جعفرائی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، پاکستان 22 کروڑ ا?بادی والا ملک ہے۔ پاک بھارت تعلقات سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کہ پاکستان اور بھارت میں معمول کے تعلقات سے دونوں کو فائدہ ہو گا لیکن اگر کشمیر کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں ا? سکتے ، ہم نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن مودی ہندوتوا ایجنڈے پر عمل کررہے ہیں جس کی وجہ سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا ، امید ہے مستقبل میں پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئے گی

Leave a Comment