مون سون کی بارشیں کراچی میں اس سال بھی تباہی مچائیں گی، محکمہ موسمیات نے ایک مرتبہ پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی

مون سون کی بارشیں

پی ایف سی نیوز ! محکمہ موسمیات نے جون کے آخری ہفتہ سے مون سون بارشیں شروع ہونے کی پیش گوئی کردی اور کہا رواں سال بھی معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی۔تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے جون کے آخری ہفتہ سے مون سون بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ مون سون کاپہلااسپیل 27جون سے 30جون تک متوقع ہے

اور رواں سال بھی معمول سے زیادہ بارشوں کاامکان ہے۔ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات ظہیر بابر نے بتایا کہ مون سون کا آغاز جون کے آخر سے ہوگا، پنجاب کے شمالی علاقوں میں مون سون کی زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات ظہیر بابر کے مطابق ملک میں آنے والے دنوں میں بارشوں کے باعث درجہ حرارت میں کمی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بارشوں کے باعث ہوا میں نمی کا تناسب بڑھنے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی محکمہ موسمیات نے بارشوں کی پیش گوئی کی تھی اور کہا تھا کہ جنوبی و شمالی پنجاب اور سندھ میں معمول سے زائد بارشیں ہوں گی جس کے نتیجے میں صوبہ سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے

عمران خان نے کہا تھا کہ نہ میں خود جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا امریکا کو وہی پاکستانی وزیراعظم انکار کرسکتا ہے جس کا سب کچھ پاکستان ہے

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت تمام آئینی اداروں کا احترام کرتی ہے، صاف اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے لیکن انتخابات ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت ہوتے ہیں اسلئے قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،الیکشن ایکٹ پر اپوزیشن کو اعتراض ہے تو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بحث کرے اور مناسب تجاویز سامنے لائے، اپوزیشن کو مفاد عامہ اور قومی معاملات کے حوالے سے قانون سازی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے یہ لوگ صرف حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کرنے میں مصروف ہیں۔فرخ حبیب نے ایک بیان میں کہا ہےکہ وزیراعظم نے کہا تھا نہ میں میں خود جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا ۔امریکا کو وہی پاکستانی وزیراعظم انکار کرسکتا ہے

جس کا سب کچھ پاکستان ہے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے شروع دن سے پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیا اور یہ لوگ پارلیمان کی بے توقیری میں پیش پیش رہے، 2008ءسے 2018ءتک ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے دس سالہ دور اقتدار کے دوران ان لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف اتنے واک آئوٹ اور بائیکاٹ نہیں کئے جتنے تحریک انصاف کے تین سالہ دور حکومت میں کئے ہیں کیونکہ دونوں جماعتوں کا آپس میں مک مکاتھا۔فرخ حبیب نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں پارلیمنٹ سے 110 قوانین پاس ہوئے اور اپوزیشن ایک دن میں 21 قوانین پاس ہونے کے حوالے سے جو شور شرابہ کر رہی ہے اس میں سے زیادہ تر بل 2019ءسے قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹیوں میں پڑے ہوئے تھے جو اپوزیشن کا منہ تک رہے تھے

کہ اپوزیشن آئے اور بحث کرے لیکن ان لوگوں کی دلچسپی پروڈکشن آرڈر لینے، پبلک اکائونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ لینے، استعفوں اور بائیکاٹ پر تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بارہا اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سینئر رہنما اور سابق سپیکر سید فخر امام کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی لیکن اپوزیشن نے ان کے ساتھ ملاقات کرنے سے انکار کر دیا،سپیکر قومی اسمبلی نے بھی متعدد بار اپوزیشن کو بلایا کہ پارلیمنٹ میں آئیں اور مل کر معاملات کو آگے بڑھائیں لیکن ان لوگوں نے بائیکاٹ کر دیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ن لیگ کے اندر اتفاق رائے نہیں ہے، شہباز شریف مفاہمت اور مریم نواز مزاحمت کی بات کر رہی ہیں، اپوزیشن بتائے کہ اس دن جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ایوان میں تقریر کر رہے تھے

تو ن لیگ کے ارکان گالم گلوچ کیوں کر رہے تھے کیوں کہ مریم نواز نہیں چاہتی تھیں کہ چچا تقریر کریں، ان کے اپنے رینکس میں تفریق نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءانتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں نے آر اوز کا الیکشن قرار دیا تھا تاہم تحریک انصاف کے سوا کسی جماعت نے دھاندلی روکنے کیلئے جدوجہد نہیں کی،موجودہ حکومت انتخابات میں دھاندلی کا راستہ روکنے کیلئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھا رہی ہے لیکن اپوزیشن کا رویہ انتہائی غیرذمہ دارانہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں فرخ حبیب نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جو تحفظات ہیں ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے قول و فعل میں تضاد ہے، ان لوگوں نے ماضی میں میثاق جمہوریت میں سینیٹ انتخابات میں اوپن اینڈ ٹریس ایبل بیلٹ پر اتفاق کیا تھا لیکن جب وقت آیا تو دونوں جماعتیں بھاگ گئیں، اپوزیشن مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے، الیکشن ایکٹ پر اپوزیشن کو اعتراض ہے تو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بحث کرے اور مناسب تجاویز سامنے لائے حکومت ان کی تجاویز پر ضرور غور کرے گی

Leave a Comment