لاہو ر کی جامع مسجد میں خطیب حالت سجدہ میں خالق حقیقی سے جاملے

خطیب حالت سجدہ

پی ایف سی نیوز ! لاہو ر کی ایک جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل مسجد کے خطیب حالت سجدہ میں انتقال کرگئے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ڈیفنس فیز تھری بلاک ایکس میں واقع جامع مسجد کے خطیب مولانا عمر ابراہیم محراب کے اندر سنتیں پڑھنے کے دوران خالق حقیقی سے جاملے۔ بعدازاں سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے

کہ خطیب مسجد محراب کے اندر سنتوں کی ادائیگی میں مصروف تھے کہ اس دوران مولانا عمر ابراہیم حالت سجدہ میں گئے اور دوبارہ نہیں اٹھے۔اسی وقت وہاں نمازیوں نے مولانا صاحب کو کئی منٹ کے طویل سجدے میں دیکھا تو وہ انکے پاس گئے جب انہوں نے مولانا صاحب کو دیکھا تو ان کا جسم ڈھیلا پڑچکا تھا۔مسجد میں موجود نمازی انہیں ہسپتال لیکر گئے جہاں ان کے انتقال کی تصدیق ہوئی۔مولانا عمر کی نماز جنازہ گزشتہ روز جامعہ اشرفیہ فیروزپور روڈ لاہور میں ادا کردی گئی۔ بغیر وضو نماز پڑھنے والے کو حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓکو سزا دینے سے کیوں روک دیا، حضرت علی ؓ کی خداداد ذہانت کا ایمان افروز; ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں

اور زبان ذکر و تسبیح میں مشغول تھی۔ .حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ آپ نے صبح کس حال میں کی؟ اس آدمی نے عجیب انداز سے جواب دیاکہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ فتنہ کو پسند کرتا ہوں اور حق بات سے کراہت کراور بغیر وضو کے نماز پڑھتا ہوں اور میرے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے! (یہ سن کر) حضرت عمرؓ طیش میں آ گئے اور اللہ کے دین کی خاطر انتقام لینے پر آمادہہو گئے اور اس آدمی کو پکڑ کر سخت سزا دینے لگے تو حضرت علیؓ نے ہنستے ہوئے کہا: اے امیر المومنین! یہ شخص جو یہ کہتاہے کہ وہ فتنہ کو پسند کرتاہے اس سے اس کی مراد مال و اولاد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مال و اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے: ’’اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃ’‘‘‘ (الانفال:28) اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَجَآئتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ‘‘ (ق:19) اور بغیر وضو کے نماز پڑھتاہے

اس سے مراد نبی کریمؐ پر صلوٰۃ (درود) بھیجنا ہے، ظاہر ہے کہ صلوٰۃ کے لیے وضو ضروری نہیں ہے۔ اور اس نے جو یہ کہا ہے کہ اس کے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے اس سے اس کی مراد بیوی بچے ہیں، ظاہر ہے کہ اللہ کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد، وہ ذات تو یکتا بے نیاز ہے،.نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ حضرت عمر بن الخطابؓ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اورہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور خوشی سے جھومتے ہوئے فرمایا: وہ جگہ ہی کیا ہے جہاں ابوالحسنؓ نہ ہو یعنی علی بن ابی طالبؓ۔تا ہوں

Leave a Comment