بچے پیدائش کے وقت کیوں روتے ہیں؟‌مزید جانیں

بچے پیدائش

پی ایف سی نیوز ! بچہ پیدا ہوتے ہی کیوں روتا ہے؟ ویسے اگر جنرل بات کی جائے تو بچے کا رونا والدین کے لیے خوشخبری ہے اور بچے کا نہ رونا والدین کے لیے بری خبر کا سبب ہو سکتا ہے کیونکہ بچے کا نہ رونا اس کے م ردہ ہونے کی خبر ہو تا ہے اور بچے کا رونا اس کے زندہ ہونے کی خبر ہے بچے کےرونے میں کیا حکمت ہے اس پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ ہم آپ کو یہ بھی بتائیں گے

بچے کی پیدائش کے بعد اسلام کی روح سے والدین پر اولاد کو لے کر کیا حقوق لازم ہو جا تے ہیںاور یہ حقوق جاننا تمام والدین کے لیے ضروری ہے اس لیے گزارش ہے کہ یہ ضروری معلو مات جاننے کے لیے ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سننا ہے آپ لوگوں نے تا کہ ا ن باتوں سے آپ کو بہت ہی زیادہ فوائد حاصل ہو سکیں۔ سب سے پہلے تو آپ کو پیدائش کے وقت بچے کے رونے کی سائنسی حکمت بتاتے ہیں کہ سائنس اس حوالے سے کیا کہتی ہے تو یاد رہے کہ سائنس کے مطابق بچے کے پھیپھڑوں میں ایمیوٹک فلیوڈ بھرا ہوا ہوتا ہے یہ وہ پانی ہے جو رحم مادر میں بچے کو محفوظ رکھتا ہے اور پھیپھڑوں میں آکسیجن کی مدد کر تا ہے۔ پیدائش کے فوری بعد ننھے بچے کی کلکاریاں جب تک سنائی نہ دیں ماں کو سکون نہیں آتا، لیبر روم کے باہر انتظار کرنے والوں کے کان تاک میں ہوتے ہیں

کب بچہ روئے، کب خوشخبری آئے اور جیسے ہی بچے کی رونے کی آواز کانوں میں آتی ہے سب کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اب بچہ بخیریت دنیا میں آگیا ہے۔ مگر کبھی آپ نے سوچا ہے کہ بچہ پیدائش کے فوری بعد کیوں روتا ہے؟ ویسے تو ضروری نہیں کہ بچہ روئے تو ہی معلوم ہو کہ وہ ٹھیک ہے، اور پر بچہ پیدائش کےبعد روتا بھی نہیں ہے مگر اکثر و بیشتر بچے پیدائش کے بعد روتے ہیں۔ تو کیا آپ جانتے ہیں کہ بچے پیدائش کے بعد کیوں روتے ہیں؟ ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ پیدائش کے بعد بچے کی رونے کی وجہ یہ ہے کہ:” بچے کے پھیپھڑوں میں ایمیوئٹک فلوئیڈ بھرا ہوا ہوتا ہے، جو کہ دورانِ حمل ماں کے پیٹ میں بچوں کو محفوظ بنانے اور ان کو آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ اور جیسے ہی پیدا ہونے کے بعد بچہ زور سے روتا ہے تو اس کے پھیپھڑوں میں سے یہ فلوئیڈ تیزی سے خارج ہو تا ہےجس کے بعد بچہ بذاتِ خود سانس لینے کے قابل ہو جاتا ہے۔”یہی وجہ ہے ڈاکٹرز بچوں کے رونے کو اہم قرار دیتے ہیں

کیونکہ اس مائع فلوئیڈ کا بچوں کے پھیپھڑوں سے خارج ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے، کیونکہ پیدائش کے بعد ماں کے پیٹ جیسی گرمی اور آکسیجن بچوں کو ملنا ممکن نہیں ہوتی ارو جوں ہی بچہ روتا ہے یہ فلوئیڈ خارج ہو جاتا ہے اور بچہ بلکل صحت مند ہو جاتا ہے

Leave a Comment