حضرت محمد ﷺ نے فر ما یا صرف تین جگہ پر جھوٹ بو لنا جائزحلال اور جائز ہے

جھوٹ بو لنا

پی ایف سی نیوز ! حضرت محمد ﷺ نے فر ما یا صرف تین جگہ پر جھوٹ بو لنا جائز اور حلال ہے آدمی اپنی بیوی سے بات کر ے تا کہ اس کو راضی کر لے جنگ میں جھوٹ بو لنا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بو لنا کسی شخص کے دل میں ایمان اور حسد اکھٹے نہیں رہ سکتے۔ ایمان دار وہ ہے جس سے لوگ اپنے مال اور جان محفوظ سمجھیں۔ سادگی ایمان کی علا مت ہے

ایسی نعمت کسی کو بھی نہیں ملی جو صبر سے بہتر اور بڑی ہو دو آدمیوں کے درمیان صلح کروا دینا صدقہ ہے افضل جہاد حق بات حاکم کے منہ پر کہنا ہے حضرت محمد ﷺ نے فر ما یا زبان سے اچھی بات کے سوا کچھ نہ کہو۔ حضرت محمد ﷺ نے فر ما یا کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ بدلہ نہیں لیتا۔ حضرت محمد ﷺ نے فر ما یا کہ اپنی کمائی پاک رکھو تمہاری دعا قبول ہو گی۔ فصاحت وبلاغت کے پیکر اور بے مثال ادیب عرب حضرت محمدمصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے جوامع الکلم سے نوازا گیا ہے۔ (صحیح بخاری) جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ ﷺچھوٹی سی عبارت میں بڑے وسیع معانی کو بیان کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔ آپﷺ کی بے شمار خصوصیات میں سے ایک اہم ترین خصوصیت یہ بھی ہے۔ کہ جس وقت آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی

اور آپ سے پڑھنے کے لئے کہا گیاتو آپﷺ نے مَا اَنَا بِقَارِئکہہ کر معذرت چاہی، لیکن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسی خاص الخاص تربیت ہوئی کہ آپﷺ کے قول وعمل کو رہتی دنیا تک اسوہ بنادیا گیا۔آپﷺ کے اقوال زریں سے مستفید ہونے والے حضرات بڑے بڑے ادیب وفصیح وبلیغ بن کر دنیا میں چمکے۔ آپ کی زبان مبارک سے نکلے بعض جملے رہتی دنیا تک عربی زبان کے محاورے بن گئے۔ آپﷺ کے وعظ ونصیحت، خطبے، دعا اور رسائل سے عربی زبان کو الفاظ کے نئے ذخیرہ کے ساتھ ایک منفرد اسلوب بھی ملا

Leave a Comment