کم عمر ارب پتی لڑکی نے بڑے بڑے کاروباری افراد کو کیسے بیوقوف بنایا

ارب پتی

پی ایف سی نیوز ! پیسے کی چمک دھمک نے آج ہر شخص کو ہی اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ہر فرد چاہتا ہے کہ اس کے پاس زیادہ سے زیادہ پیسے ہوں اس کیلئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں جس کا منہ بولتا ثبوت 19 سالہ الزبتھ ہومز ہیں جنہیں دنیا کی سب سے کم عمر ترین امیر لڑکی ہونے کا اعزاز تو حاصل ہے۔اس ارب پتی خاتون نے ایڈیسن نامی ایک مشین دریافت کر کے

طب کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دی دنیا کی اس کم عمر ترین سیلف میڈ خاتوننے یہ دعویٰ کیا کہ انکی مشین میں صرف خون کے چند قطرے ڈالنے سے یہ مشین سینکڑوں ٹیسٹ کر سکتی ہے جن میں کینسر اور کولیسٹرول کی مقدار کا ٹیسٹ سر فہرست ہے ۔لیکن انکا یہ دعویٰ صرف و صرف جھوٹ تھا اور کچھ نہیں کیونکہ انکی مشین ایڈیسن میں بہت خامیاں تھیں اور یہ بھی انہیں مشینوں سے ٹیسٹ کیا کرتیں تھیں جن سے دیگر لوگ ٹیسٹ کرتے ہیں ، انہوں نے اس حوالے سے ایک تھیرا نوس نامی کمپنی بھی قائم کر رکھی تھی جس کی مالیت بڑے بڑے کاروباری حضرات کی انکی کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے کے بعد 9 ارب ڈالرز تک جا پہنچی ۔اگست 2015ء میں صحت کے حوالے سے امریکی ادارے ایف ڈی اے نے تھیرانوس کے بارے میں اپنی تحقیقات کا آغاز کیا،

جس سے پتہ چلا کہ ان کے ٹیسٹ نظام میں ’بڑی خامیاں‘ ہیں، ایف ڈی اے کے بعد 2015 اکتوبر میں مشہور امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل سے وابستہ صحافی جان کریرو نے بھی تحقیقات شائع کردی جو کمپنی کے زوال کا باعث بنی۔خیال رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل نیوز کارپوریشن کی ملکیت ہے جو میڈیا کی معروف شخصیت روپرٹ مرڈوک کی ملکیت ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وال اسٹریٹ جنرل کے مالک روپرٹ مرڈوک بھی ’تھیرانوس‘ میں سرمایہ رکھتے تھے۔ایلزبتھ ہومز کوخبر ہوگئی تھی کہ وال اسٹریٹ جرنل میں خبر شائع ہونے والی ہے، اس لیے انہوں نے براہِ راست مرڈوک سے رابطہ کیا اور اس خبر کو رکوانے کا مطالبہ کیا ۔جس پر مرڈوک نے کہا کہ انہیں اپنے ایڈیٹر پر بھروسا ہے، اگر خبر میں کوئی کمی یا خامی ہوئی تو وہ اسے شائع نہیں کریں گے

لیکن یہ خبر شائع ہو گئی اور تھیرانوس کے لیے ’ایٹم بم‘ ثابت ہوئی۔صحافی کیریرو نے اس رپورٹ میں بتایا کہ تھیرانوس کی بلڈ ٹیسٹنگ مشین ’ایڈیسن‘ درست نتائج نہیں دے سکتی۔ اس لیے ملنے والے سیمپلز کے لیے وہی روایتی مشینیں استعمال کر کے نتائج دے رہا ہے، جو سب استعمال کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ یہ 19 سالہ لڑکی موبائل فون کے مشہور برانڈ ایپل کے مالک اسٹیو جابز کی طرح بننا چاہتی تھی اور انہی کی طرح کپڑے بھی پہنتی تھی اپنے اس خواب کو پورا کرنے میں یہ کافی حد تک کامیاب بھی ہو گئیں تھیں اور اب مجرم قرار پانے کے بعد ان پر 20 سال کیلئے قید لاکھوں ڈالرز جرمانے کا قوی امکان ہے

Leave a Comment