انگڑائی لینا ، آنکھوں سے آنسوؤں کا جاری ہونا اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہونے کے پیچھے کیا راز ہے

انگڑائی

پی ایف سی نیوز ! کیا آپ جانتے ہیں کہ انگڑائی لینا یا آنکھوں سے آنسوؤں کا جاری ہونا اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہونے کے پیچھے کیا راز ہے؟ جان کر سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے ۔ ۔ انسانی جسم کو قدرت نے اس قدر پرپیچ انداز میں ڈیزائن کیا ہے کہ سائنسداں آج بھی اس کے بہت سے افعال سمجھنے سے قاصر ہیں،

جیسے جیسے ریسرچ آگے بڑھ رہی ہے۔ جسم کے ہر فعل کا ایک نیا مقصد سامنے آرہا ہے۔ میڈیکل سائنس جیسے جیسے ترقی کررہی ہے ، انسانی جسم کی ایک ایک حرکت کی وضاحت کرتی جارہی ہےمندرجہزیل افعال انسانی جسم کے دفاعی نظام کا حصہ ہیں جن کا مقصد جسم کو پہنچنے والے انتہائی بڑے نقصان کے خلاف مدافعت کرنا ہے۔ چھینک ناک سانس کی آمد و رفت کا بنیادی ذریعہ ہے اور آپ کو چھینک اس وقت آتی ہے جب ناک میں ہوا کی گزرگاہ کسی چیز سے الرجی کا شکار ہو یا اس میں کچرا بھر گیا ہو، درحقیقت یہ اس کچرے کو باہر نکالنے اور ہوا کی گزر گاہ کو صاف رکھنے کے لیے انسانی جسم کا خود کار ذریعہ ہے۔ انگڑائی لینا عموماً انگڑائی لینے کے عمل کو برا سمجھا جاتا ہے لیکن صبح اٹھتے ہی اکثرافراد انگڑائی لیتے ہیں،

ایسا کرنے سے طویل وقت تک لیٹنے رہنے کے سبب سست پڑجانے والے نظامِ خون کو اٹھنے کے بعد بحال کرنا ہوتا ہے اوراس سے جسم کےمسلز کام کے لیے تیارہوجاتے ہیں۔ جمائی لینا جمائی کو عام طور پر سستی کی نشانی تصور کیا جات ہے اوراس کے بارے میں متعدد خیالات موجود ہیں، لیکن طبی طورپراس کا بنیادی مقصد دماغ کو بہت زیادہ گرم ہونے سے بچانا ہے۔ رونگٹے کھڑے ہونا ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے جسم کے رونگٹے خوف کی حالت میں کھڑےہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ جب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے تو جسم رونگٹے کھڑے کرکے جسم سے حرارت کے اخراج کی شرح کو کم کرتا ہے، اس طرح سرد موسم میں گرم رہنا آسان ہوجاتا ہے

بیوٹی پارلر اور مساج سنٹر پر کیا ہوتا ہے؟کم خوبصورت، درمیانی، اور انتہائی خوبصورت لڑکیوں

بیوٹی پارلرسولہ دسمبر 1971ء کی جس شام بھارتی افواج بنگلہ دیشی شہروں میں اتریں، وہ رات خواتین اور کم سن لڑکیوں پر عذاب کے آغاز کی رات تھی۔ ’’مکتی باہنی‘‘ کے تربیت یافتہ لوگ جہاں ان مردوں کو میدانوں میں لا کر ظلم کی انتہا کرتے تھے، جنہوں نے پاکستان کا پرچم بلند کیا تھا،نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں اور گھروں میں موجود خواتین کونشانہ بنانے کے بعد بھارت کے قحبہ خانوں میں بیچ دیتے۔ان کے مظالم کی گواہی تو وارث میر کے کالموں میں بھی ملتی ہے، جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے چند ماہ پہلے پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک وفدکے ساتھ وہاں گئے تھے اور رؤداد لکھی تھی۔ وہ 1971ء کے اپنے ایک کالم میں،ایک کمرے میں پڑی میز کا ذکر کرتے ہیں،

۔ایسے ہی یہ مظلوم موت کی آغوش میں چلے جاتے۔مگر ان کی موت کے بعد بدترین سلوک کے لیئے بیچاری عورتیں رہ جاتیں۔ بنگلہ دیش بننے کے صرف ایک سال بعد کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1973ء جنوری میں کلکتہ کے بازارِ حسن میں پچھتر(75)فیصدطوائفیں وہ لڑکیاں تھیں،جو نومولود بنگلہ دیش سے لا کر یہاں بیچی گئیں ۔ یہ سلسلہ رک جاتا تو چین آجاتا کہ ہر لڑائی کے بعد بیچاری عورتوں کو ایسے ہی بیچا جاتا ہے۔ورلڈ وار ٹو کے بعد جاپان اور ویت نام وغیرہ سے بچیوں کے جہاز بھر کر یورپ اور امریکہ میں بیچے گئے، ویسے ہی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس ، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کے ممالک سے وہاں زبردستی لائی گئی عورتوں سے یورپ اور امریکہ کے بازار آج بھی سجے ہیں مگر یہ سلسلہ چند سال بعد ختم ہو گیا۔اگر یہ سلسلہ بنگلہ دیش میں بھی آزادی کے دو سال بعد تک ہی چلتا توبات سمجھ میں آتی ،

لیکن یہاں تواس ’’خوشحال بنگلہ دیش‘‘ سے آج بھی ہر سال چھ سے آٹھ لاکھ عورتیں، بچے اور مرد ،دنیا بھر کے بازاروں میں زبردستی بھجوائے جاتے ہیں۔ بیوٹی پارلر گذشتہ سال یعنی 2019ء کی ’’امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیش اس وقت دنیا میں عورتوں اور بچیوں کی اس تجارت کا

Leave a Comment