گیس سے چلنے والے چولہے اب ہوئے پرانےجانیں ماحول دوست چولہے کا استعمال کہاں کیا جا رہا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے

چولہے

پی ایف سی نیوز ! جاپان کے ایک بومب تامیو نامی یوٹیوبر نے ایک ایسا چولہا دریافت کر لیا ہے جسے استعمال کرنے کیلئے گیس کی ضرورت نہیں بلکہ بجلی کی ضرورت ہے اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بجلی بھی انسان اپنے جسم کو حرکت میں لا کر خود ہی بناتا ہے، بومب تامیو نامی یوٹیوبر اس طرح کی بہت سی ایجادات کے مالک ہیں

اور انکے یوٹیوب چینل پر اس طرح کی بہت سی ویڈیوز موجود بھی ہیں۔ بومب تامیو نے اپنی ویڈیو میں ایک ماحول دوست چولہے کو دکھایا ہے جسے گرم کرنے کیلئےزمین پر پڑے تختہ نما چیز کے ساتھ ایک تار سے منسلک کیا گیا ہے اور چولہا گرم ہونے کے بعد ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے دوڑنے والے انداز میں اچھل کود کی جاتی ہے جس سے زمین پر لگے تختے پر دباؤ پیدا ہوتا ہے اور تختے کے اندر نصب آلات اسی توانائی کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں جو ایک مخصوص نظام سے گزر کر حرارت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اس حرارت سے چولہا گرم ہوتا ہے اور پھر کھانا پکایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ اس ویڈیو میں یو ٹیوبر نے اس چولہے پر مچھلی تلنے کا عملی مظاہرہ کیا جو بلاشبہ دلچسپی سے خالی نہیں،

بلا شبہ ان چولہوں کے استعمال سے ایندھن سے پھیلنے والی آلودگی کو بہت حد تک کم کر سکتے ہیں اور جسمانی طور پر تندرست بھی رہ سکتے ہیں ۔واضح رہے کہ حالیہ کچھ سالوں میں انسانی جسم کی حرارت سے چلنے والی فلیش لائٹس اور سلیپنگ بیگ بیٹری چارجر جیسی کئی ایجادات سامنے آچکی ہیں

Leave a Comment