کیل مہاسوں کا خاتمہ صرف کیلے کے چھلکوں سے ابھی آزمائیں،طریقہ استعمال جانیں اس پوسٹ میں

کیل مہاسوں

پی ایف سی نیوز ! کیل مہاسے عام طور پر شحمی رطوبت کی پیداوار ہیں۔ مردہ جلد اوربکٹیریا کی اضافی فاسد کے شیڈنگ کی وجہ سے ہے۔ کیل مہاسے اس وقت نکلتے ہیں جب غدود، تیل اور مردہ جلد کے خلیات کے منہ بند ہوں۔ کیا آپ کیل مہاسے کا شکار ہیں ؟ آپ کی جلد دھبے دار ہے اور لگتا ہے آپ کو پمپلز نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

قدرتی طور پر آپ کو ذہن نشین ہونا چاہیئے کہ تمام دوائیں، کیمیکل اور مہنگا سامان استعمال کرنے کے لیئے زیادہ محفوظ اور موثر ہوسکتا ہے۔قدرتی علاج کا استعمال کرتے ہوئے اس کے بہترین نتائج کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کیلئے خالص اور خام مصنوعات کا استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔یہاں ہم آپ کو کیل مہاسوں سے نجات حاصل کرنے کے ۶ قدرتی طریقے بتا رہے ہیں۔ آپ انہیں کیمیکل مصنوعات کے متبادل استعمال کرسکتے ہیں۔ شہد:شہد مجموعی طور پر نہ صرف آپ کے جسم کیلئے بھی فائدہ مند ہے بلکہ یہ کیل مہاسے کی خصوصیات سے بھی مالا مال ہے۔ شہد قدرتی اور اینٹی بکٹیریل ہے۔ شہد اس کے علاوہ قدرتی طور پر آپ کے جسم میں نمی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ بہر حال، شہد اکیلے ہی آپ کے کیل مہاسوں کا علاج نہیں کریگا

بلکہ اسے آپ دیگر چیزوں میں شامل کر کے اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ دارچینی، دودھ ، دہی یہاں تک کے اسٹرابری میں بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ دار چینی اور شہد کا ماسک بنانے کیلئے دو چمچے دارچینی اور ایک چمچہ شہد لیں۔ دار چینی نہ صرف اینٹی بکٹیریل ہے بلکہ یہ اینٹی مائکربیئل بھی ہے۔ (اس میں کچھ ہلاک ہوجاتے ہیں اور یہ بکٹیریا کو روکتا ہے خمیر کے طور پر دوسرے جرثوموں کو جیسا کہ فنگی وائرس وغیرہ شہد کے ماسک کے ساتھ دہی اور دودھ بنانے کلیئے مکمل دہی کی چکنائی ایک چمچ شہد میں ملائیں۔ بہت سے لوگوں کو دودھ کیل مہاسے پیدا کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے نگلنے سے کیا ہوتا ہے یہ صرف ہار مون کیل مہاسے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن اس کو مضمون کے لیئے استعمال کیاگیا ہے۔

یہ اسموت پریشان جلد اور لالی کو صاف کرتا ہے۔ ا?خر میں اسٹرابری اور شہد کا ماسک۔ تین تازہ اسٹرابری لیں اس میں چائے کے تین چمچ شہد ملائیں۔ عام طور پر اس کا علاج کیمیکل بنیاد پر پایا جاتا ہے،اسٹرابری میں سالیسی لیک ایسٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ سالیسی لیک بیکٹریا کو بے اثر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ آپ ان کو مختلف طریقوں سے استعمال کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کا اطلاق ایک دن میں پندرہ منٹ کے لیئے ہوگا۔ سیب سائیڈر سرکہ:سیب سائیڈر سرکہ اینٹی بکٹیریا کی مضبوط خصوصیات کا مالک ہے اور بیکٹیریا کی ہلاکت کا سبب ہے۔آپ کے چہرے کے کم تیزابیت بنانے کے عمل کے ذریعے مشکل بکٹیریا زندہ رہنے کیلئے کرتا ہے۔ جو جلد کے درمیان اور باہر توازن رکھتا ہے یہ بکٹیریا کو سخت رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ جلد سے اضافی تیل اور مناسب طریقے سے سانس لینے کی اجازت دیتا ہے۔ سیب سائیڈر سرکہ کے استعمال کرنے کے لیئے آدھا پانی اور آدھا سیب سائیڈر سرکہ اپنے چہرے پر لگائیں اور دس سے پندرہ منٹ بعد اس کو دھولیں۔ ایلوویرا:ایلوویرا خود دیگر بیماریوں کے علاج کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایلوویرا کے پلانٹ میں جیل کی طرح مستقل مزاجی پائی جاتی ہےیہ ایک قدرتی پلانٹ ہے۔ اگر آپ اپنے اسٹور میں جیل ڈھونڈنے جارہے ہیں تو کم رقم کے استعمال سے اسے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ ایلوویرا میں اینٹی بکٹیریا کی خصوصیات پائی جاتی ہیں آپ ان کو سوزش، لالی اور سوجن کم کرنے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ چائے کے درخت کا تیل:چائے کے درخت سے اضافی شحمی رطوبت مردہ جلد کے طور پر کاٹتا ہے۔

Leave a Comment