اگر آپ کسی کے دل میں جگہ بنانا چاہتے ہیں تو اس اسم اعظم کا ورد کریں لیکن کسی غلط فائدے کے لئے استعمال نہ کریں

پی ایف سی نیوز ! دنیا کو فتح کرنے کی تمنا بہت سے لوگوں میں پائی جاتی تھیں ، اور اس لیے وہ دولت اور طاقت کا بے دریغ استعمال بھی کرتے ہیں ۔ لیکن ایسی فتح ، بالادستی کا کیا فائد ہ جو انسان کو تکبر میں مبتلا کیے رکھے ۔ دنیا میں بالادستی اور دوسروں کے دلوں کو اپنی محبت کی طاقت سے تسخیر کر کے اچھے کام کر نا نیک کام ہے ۔

جو لوگ اچھائی کی نیت رکھتے ہیں وہ اسم پاک یا مھیمن کا ورد کیا کریں ، اس مین دنیا اور دلون کو تسخیر کرنے کی نے پناہ قوت پائی جاتی ہے ۔ ایسا جامع الصفات اسم ربی ہے کہ کوئی بھی انسان اسکی خصوصیات جان لے تو ساری زندگی یا مھیمن کا ورد جاری رکھے ۔اس کے عمل سے دشمن خوف محسوس کرتے ہیں ،اس کا رعب ودبدبہ ہر شخص کے دل میں بیٹھ جاتا ہے اور اس کے سامنے سخت سے سخت دل کے لوگ بھی موم بن جا تے ہیں ۔ صوفیا کرام بتاتے ہیں کہ اس کا عامل اگر کسی حاکم کے آگے جا کر فریاد کرے اور انصاف کا طالب ہو تو حاکم اس کا استقبال یاں کرتا ہے جیسے کسی بادشاہ کا کیا جاتا ہے ۔ چالیس دن اس اسم پاک کو 313 مرتبہ اول وآخر سات مرتبہ درودشریف کے ساتھ پڑھنے سے دشمن دوست بن جاتے ۔ ظالم اپنی ہیبت کھو بیٹھتے ہیں ، پاکیزگی اور نیت کا درست رہنا لازم ہے

جمعہ کے دن یا رات بیوی سے ہمبستری کرنا

آج جمعہ کے حوالے سے آپ کو انتہائی اہم معلومات دینے جا رہا ہوں وہ یہ ہے! کہ ہمارے یہاں یہ رواج پھیل چکا ہے کہ جمعہ کی رات یعنی جمعہ اور جمعرات کی درمیانی رات ہوتی ہے تو اس کو شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری نہیں کرسکتا اس معاملے کو پھیلانے میں کچھ ہمارے مفتیان کرام مولوی حضرات جو حد سب سے آگے ہیں اور دوسرا ایک تو دین سے دوری بہت زیادہ ہے کہ بات چلتی چلاتی کہاں پہنچ جاتی ہے۔ اگر آپ ایسا کرتے 5 دن میں خون کی وریدوں صاف ہوجائیں گےآج میں آپ کو اس کی صحیح سند کے ساتھ ایک حدیث بتانے جا رہا ہوں جس کو اس کے بالکل مخالف ہےدیکھیں اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ہے۔صحیح بخاری کی حدیث نمبر 881 ہے۔

حدثنا عبد الله بن يوسف، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اخبرنا مالك، ‏‏‏‏‏‏عن سمي مولى ابي بكر بن عبد الرحمن، ‏‏‏‏‏‏عن ابي صالح السمان، ‏‏‏‏‏‏عن ابي هريرة رضي الله عنه، ‏‏‏‏‏‏ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏ “من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة، ‏‏‏‏‏‏ثم راح فكانما قرب بدنة، ‏‏‏‏‏‏ومن راح في الساعة الثانية فكانما قرب بقرة، ‏‏‏‏‏‏ومن راح في الساعة الثالثة فكانما قرب كبشا اقرن، ‏‏‏‏‏‏ومن راح في الساعة الرابعة فكانما قرب دجاجة،۔ ‏‏‏‏‏‏ومن راح في الساعة الخامسة فكانما قرب بيضة، ‏‏‏‏‏‏فإذا خرج الإمام حضرت الملائكة يستمعون الذكر”. ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی سے خبر دی۔ جنہیں ابوصالح سمان نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کر کے نماز پڑھنے جائے تو گویا

اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی (اگر اول وقت مسجد میں پہنچا) اور اگر بعد میں گیا تو گویا ایک گائے کی قربانی دی اور جو تیسرے نمبر پر گیا تو گویا اس نے ایک سینگ والے مینڈھے کی قربانی دی۔ >اور جو کوئی چوتھے نمبر پر گیا تو اس نے گویا ایک مرغی کی قربانی دی اور جو کوئی پانچویں نمبر پر گیا اس نے گویا انڈا اللہ کی راہ میں دیا۔ لیکن جب امام خطبہ کے لیے باہر آ جاتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔اس حدیث میں تین چار پانچ پوئنٹ دےگئے ہیں سب سے پہلے غسل جنابت کر کے جمعہ کی نماز پڑھنے گیا ہے لیکن اس نے جنابت تو تب ہی ہوگا۔ جب بندے نے اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کی ہو گی زیادہ تر رات کوجمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو جو کچھ بندے سمجھدار ہیں

وہ فجر کی نماز سے لے کر جمعہ سے پہلے تک بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ اس کے با غسل جنابت کریں اور یہاں پر عام غسل کرکے جانے پر ایک اونٹ کی قربانی کا ثواب نہیں ہے تو امید ہے کہ آپ کو یہ بات سمجھ آ گئی ہو گی اس بات کے متعلق اگر آپ کو کوئی سوالات ہوں یا تو ہمارے نیچےمیسج کر دیں اور پھر ہم سے رابطہ کرتے ہیں کر سکتے ہیں جزاک اللہ

Leave a Comment