جب میں نے مجبور ہو کر اپنے جیٹھ سے ہمبستری کی جیٹھ اور بھابھی کی زندگی کا سبق آموز واقعہ

جیٹھ سے ہمبستری

پی ایف سی نیوز ! اس کہانی کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اس سے سبق حاصل کریں اور عورت پر جو ظلم ہمارے معاشرے میں رشتوں کی چکی میں پیس کر کیا جا رہا ہئ وہ نہ کیا جاسکے اس کے حقوق میں اس کی پاماکی نہ ہو اسے ایسی ہی عزت دی جانی چاہیےجیسی عزت ہم اپنی بہنوں بیٹیوں کے لیے ان کے سسرال میں طلب کرتے ہیں اسے ان کاموں پر مجبور نہ کیا جائے جو اس کے بس میں نہیں ہوتے ورنہ وہ بھی ایسا قدم اٹھا سکتی ہے

جیسا اس عورت نے اٹھایا یہ کہانی اسی کی زبانی سینے۔اس روز میرے شوہر نے مجھے بہت بے دردی سے مارا پیٹا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میری ساس نے میرے شوہر کو میرے خلاف اکسایا تھا کہ یہ عورت پیدائشی بانجھ ہے اور اس عورت سے اولاد نہیں ہونی اس کو چھوڑ اور کسی دوسری عورت سے شادی کر لے میری ساس کی انہی باتوں کی وجہ سے میرا شوہر بات نے بات مجھے ڈانٹتا رہتااوراس روز تو اس نے حد ہی کر دی مجھے مارنے پیٹنے کے بعد بھی سکون نہ ہوا تو مجھے کہنے لگا کہ اگر تم ماں نہ بن سکی تو میں تمیں چھوڑ دوں گااور کسی دوسری عورت سے شادی کر لوں گا میرا جیٹھ شوہر کا بڑا بھائی پاس ہی کھڑا تھا اور سارا منظر دیکھ رہا تھا اس سے رہا نہ گیا تو اس نے میرے شوہر کو برا بھال کہنا شروع کردیا

اس پر میری ساس نے اسے بھی برا بھلا کہنا شروع کر دیا میرا جیٹھ عمر میں مجھ سے کافی بڑا تھا۔لیکن اس کی شخصیت میرے شوہر سے بلکل مختلف تھی دراصل پہلے پہلی تو یرے شوہر کا رویہ بھی میرے ساتھ بہت اچھا تھا لیکن شادی کے چار سال گزرنے کے بعد بھی جب کوئی بچہ ہیدا نہ ہوا تو اس کا رویہ میرے ساتھ بدلنے لگا تھا میں نے اپنی ساس اور شوہر کے طعنوں سے تنگ آکر اپنا علاج بھی کروایا لیکن خرابی میرے شوہر میں تھی اور وہ اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا اس روز میں نے تہیہ کرلیا کر ماں بنبے کے لیے میں کچھ بھی کروں گی اگلے دن ہی میں گھر پر کسی کو نہ پاکر کراپنے جیٹھ کے کمرے میں چلی گئی جو کہ اپنی بیوی کی وفات کے بعد اپنی چند ماہ کی بیٹی کے ساتھ اکیلا رہتا تھاکاکی کیا بات ہے

میرا جیٹھ میری طرف دیکھ کر بولا میں نے اس کے سامنے جا کر اپنی چادر اتاردی اور اس کے پیروں میں رکھتے ہوئے بولی جیٹھ جی مجھے بچہ چاہیے کچھ بھی کرکے مجھے بچہ دلوادو ورنہ میرا گھر برباد ہوجائے گا اب میں اور مار نہیں کھا سکتی۔اور نہ یہ دکھ برداشت کرسکتی ہوں کہ وہ مجھے چھوڑ کر کسی اور کا ہوجائے یہ کہہ کر میں آگے بڑھی ار جیٹھ کے قریب جاکر کھڑی ہوگئی میرے جیٹھ نے میری ساری بات سمجھ لی تھی وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولا نہیں کاکی یہ ساب غلط ہے میں ایسا نہیں کرسکتا میں نے کہا توٹھیک ہے پھر جب تمہارا بھائی مجھے پیٹتے پیٹتے ماردے گا یا مجھے چھوڑ دے گاتو تم میری بے بسی دیکھ کر کڑتے رہنا اور مجھے مرتا ہوئے دیکھتے رہنا یہ کہہ کر میں واپس مڑنے لگی تھی کہ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا

اور مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں چپ چاپ اس کے سامنے بچھ گئی تھی اور اس وقت اپنا گھر بچانے کے لیے میں اور کرتی تھی تو کیا خیر امید برآئی بھی اور کچھ ہی دنوں بعد میں نے اپنے شوہر کو خوش خبری دی کہ اب میں ماں بنے والی ہوں۔اور اس خبر پر وہ ایسے خوش ہوا جیسے کس قاتل کی سزائے موت معاف ہونے پر وہ خوش ہوتا ہے اور میں اپنے شوہر کی خوشی دیکھ کر خوش تھی اب اس نے پھر سے میرے نخرے اٹھانے شروع کردیے تھےمجھے کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتا کہ کہیں کوئی مسئلہ نہ بن جائے اور ہر وقت میری خاطر مدارت میں مصروف رہتا میری ساس جو میری سب سے بڑی دشمن بن بیٹھی تھی وہ بھی اب مجھ سے خوش تھی پھر ہمارے گھر ایک چاند سا بیٹا پیدا ہوا اور میرے شوہر ے پورے گائوں میں مٹھایاں بانٹیں لیکن اسے کیا معلوم تھا

Leave a Comment