نبی کریم ؐنے فرمایا جن عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں ،وہ بہت بابرکت عورتیں ہوتی ہیں ،آپ بھی پڑھئے وہ کونسی نشانیاں ہیں

عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں

حضرت عائشہؓ ارشاد فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جن عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں. عورت کی بابرکت ہونے کی علامات میں سے ہے کہ ۔نمبر ایک : اس کی طرف رشتہ بھیجنے اوررشتہ منظور ہونے میں آسانی ہو ،.نمبر دو : اس کا مہر آسان ہو یعنی بہت زیادہ پحیپدہ نہ ہو .نمبر تین : اس کے ہاں بچوں کی پیدائش میں آسانی ہو .جن عورتوں میں یہ نشانیاں پائی جاتی ہیںوہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں.

یہ بھی پڑھیے حضرت عائشہؓ نے ایکدن رسول اللہ ’’آپ ﷺ کی زندگی کا مشکل ترین دنکون سا تھا؟‘‘حضورﷺ نے فرمایا زیرو پوائنٹ (جاوید چوہدری) والدہ نے سات دن دودھ پلایا‘ آٹھویں دن دشمن اسلام ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا‘ ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور دیکھ بھال بھی کی‘ یہ چند دن کی دیکھ بھال تھی‘ یہ چند دن کا دودھ تھا لیکن ہمارے رسولؐ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا‘ مکہ کا دور تھا تو ثوبیہ کو میری ماں میری ماں کہہ کر پکارتے تھے‘ ان سے حسن سلوک بھی فرماتے تھےان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے‘ مدنی دور آیا تو مدینہ سے ابولہب کی کنیز ثوبیہ کیلئےکپڑے اور رقم بھجواتے تھے‘یہ ہے شریعت۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضاعی ماں تھیں‘ یہ ملاقات کیلئے آئیں‘ دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں‘ میری ماں پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے‘ وہ قریب آئیں تو اپنے سر سے وہ چادر اتار کر زمین پر بچھا دی جسے ہم کائنات کی قیمتی ترین متاع سمجھتے ہیں‘ اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا‘ غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں‘ یہ بھی ذہن میں رہے‘ حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتحمکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی

 

Leave a Comment