اگر آپ قصور جائیں تو کیا دیکھیں اور کیا کھائیں،جانیں مزید

پی ایف سی نیوز ! ضلع قصور ایک تاریخی و ثقافتی اہمیت کا حامل شہر ہے۔ جو دنیا میں اپنی ایک منفرد تاریخ اور ثقافت رکھتا ہے۔اگر آپ کا کبھی ضلع قصور اتفاقاََ یاباقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جانا ہو۔ تو اگر آپ کچھ قصور کی تاریخی و ثقافتی جگہوں کو دیکھے بغیر آگئے یا ضلع قصور کی کچھ منفرد اور لذیذ سوغات کو چکھے بغیر واپس ہولیے تو سمجھے آپ کا سفر بے کار رہا

سب سے پہلے بات کرلیتے ہیں۔۔ قصور میوزیم کی جو محکمہ آثار قدیم نے 1998 میں قائم کیا یہ میوزیم ایک نہایت خوبصورتتاریخی عمارت میں قائم کیا گیا جو شیر شاہ سوری کے دور کی ہے۔ جسے مقبرہ وکیل خان بھی کہتے ہیں۔یہ میوزیم دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔اس میں پانچ مختلف گیلیریز ہیں جس میں ایک گیلری قصور کی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ دوسری گیلری تحریک پاکستان گیلری کہلاتی ہے۔۔ اس پاکستان کی تحریک سے متعلقہ نادر تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔تیسری گیلری پاکستان اور برصغیر کے نادر و نایاب اور تاریخی اہمیت کے حامل سکہ جات , کرنسی نوٹس, اور یادگاری و اعزازی میڈلز پر مشتمل ہے۔ 600 قبل مسیح سے لے کر اب تک کے تمام سکے اس میں ڈسپلے کیے گئے ہیں۔ بالکل اصلی حالت میں ہیں۔سکوں کی کولیکشن کے لحاظ سے یہ گیلری پاکستان کی بیسٹ گیلریوں می شمار ہوتی ہے۔ اسی گیلری میں پاکستان کے معروف کولیکٹر شکیل احمد خان کی طرف سے ڈونیٹ کیے گئے

سکہ جات, کرنسی نوٹس اور میڈلز بھی رکھے گئے ہیں۔۔اب اس مییوزیم میں پاکستان کی ڈاک ٹکٹوں کی کی گیلری کے علاوہ “لیجنڈز آف قصور” کی گیلری بھی قائم کی جارہی ہے۔جس میں ضلع قصور کی دھرتی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کی تصاویر اور ان سے منسوب اشئیا رکھی جائیں گی۔ چوتھی گیلری میں برصغیر سےمتعلقہ برٹش اور مغل دور کی اشیاء, تلواریں, بندوقیں, جنگی سامان, اور قرآن پاک کے پرانے نسخے رکھے گئے ہیں۔۔جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔چوتھی گیلری ہزاروں سال پرانی برصغیر کی اشیاء پر مشتمل ہے۔جسے قدیم گیلری کہا جاتا ہے۔۔ اس میں کئی لاکھ سال پرانے فوسلز اور ہزراوں سال پرانی مورتیاں اور برتن رکھے گئے ہیں۔۔دوسری خوبصورت جگہہ مشہور ومعروف صوفی بزرگ بابا بلھے شاہ کا مزار ہے۔جہاں عوام جوق درجوق ان کے مزار ہر حاضری کے لیے کھینچی چلی آتی ہے۔۔

اور سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔۔تیسری جگہہ سٹی قصور سے ذرا دور فاصلے ہر واقع برطانوی دور حکومت میں ہاتھ سے لگایا گیا ایشیاء کا سب سے بڑا جنگل چھانگا مانگا واقع ہے۔ جو ایک خوبصورت تفریحی جگہ ہے۔ یہ ایک گھنا جنگل ہے جس میں عوام کی تفریح کے لیے بہت ساری سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔۔چوتھی جگہ انڈیا اور پاکستان کے مابین قصور کی سرحد پر واقع گنڈا سنگھ بارڈر ہے۔ جہاں نہایت منظم اور خوبصورت انداز میں بنایا اور سجایا گیا ہے۔ یہاں پر روزانہ بوقت عصر پریڈ اور پرچم کشائی کی بہت ہی پرجوش اور ولولہ انگیز تقریب ہوتی ہے۔جسے عوام کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کے لیے آتی ہے۔آپ اس منفرد جگہ کو ضرور دیکھنے جائیں۔پانچویں جگہ ہیڈ بلوکی کے قریب ایک شاندار رانا ریزورٹ اینڈ سفاری پارک ہے۔ جو 200 ایکڑ پر مشتمل ہے۔اس پارک کو 2007 میں نہایت خوبصورتی سے بنایا اور سجایا گیا ہے۔ اس میں ایک چھوٹا ساچڑیا گھر اور جھیل بھی بنائی گئی ہے۔

یہ جگہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔۔چھٹی جگہ اپنی منفرد لوکیشن کی وجہ سے معروف ہونے والا مزار بابا کمال چشتی ہے۔جو قصور میوزیم کے قریب واقع ہے ایک اونچے ٹیلے پر واقع یہ مزار قصور کے ایک معروف صوفی بزرگ بابا کمال چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔ جس پر پہنچے کے لیے آپ کو کافی سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں۔۔اگر قصور کا ذکر ہو اور قصور کی کھائی جانے والی مشہور زمانہ سوغات کا ذکر نہ جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں مشہور ہیں تو یہ فیچر نامکمل رہ جاۓ گا۔۔ سب سے سر فہرست قصوری فالودہ ہے۔جو ایک میٹھی سوغات ہے خالص کھوۓ سے تیار کی والی اس لذیذ سوغات کی عوام بہت دلدادہ ہے۔قصوری اندرسے بھی اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔۔ یہ اندرسے دو یا تین قسم کے تیار کیے جاتے ہیں۔ جس میں کھوۓ والے , گڑ والے زیادہ معروف ہیں۔۔قصوری مچھلی بھی غذایت اور ذائقہ کے لحاظ سے پاکستان میں سر فہرست تصور کی جاتی ہے۔

قصوری میتھی بھی بہت عرصہ سے قصور کی پہچان برقرار رکھے ہوۓ ہے۔۔ اگر قصور آپ کا جانا ہو ان تمام جگہوں کو دیکھنے اور تمام سوغاتوں کو کھانے محروم رہ جانا بدقسمتی ہی تصور ہوگی

Leave a Comment