خواتین کے لیے زیرے کے بےشمار فوائد

زیرے

پی ایف سی نیوز ! مصالحے کسی بھی قسم کے کھانے میں لذت، ذائقہ اور اشتہا پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر مشرقی کھانے ان کے بغیر ادھورے تصور کیئے جاتے ہیں۔ میتھی دانہ، رائی، کلونجی، اجوائن، کالی مرچ، دارچینی، خشخاش، اور ایسے ہی کئی مصالحے دیکھنے میں انتہائی چھوٹے اور مختصر نظر آتے ہیں،ان میں پائی جانے والی افادیت ان مصالحوں کے حجم سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔

ان مصالحوں میں پائے جانے والے غذائی اجزاء صحت کے حوالے سے ہر طرح سے مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے مسلسل استعمال سے نہ صرف کئی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے بلکہ کسی بھی لاحق بیماری کا تدارک بھی کرنا ممکن ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان مصالحوں کے مسلسل استعمال سے چہرہ کی جلد، بال، ناخن وغیرہ بھی صحت مند رہتے ہیں ۔ہر مصالحہ اپنی انفرادی حیثیت میں مکمل ہوتاہے۔ ان مصالحوں میں زیرہ سب سے اہم مصالحہ تصور کیا جاتا ہے جو کم و بیش ہر کھانے یا کھانے میں بگھار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ زیرہ کو Cumin بھی کہا جاتا ہے۔ زیرے میں بھی بے شمار غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ صحت کے اعتبار سے ہر طرح سے مفید ہیں۔ یہ عام طور پر خشک حالت میں دستیاب ہوتا ہے۔ زیرہ قدرتی طور پر تین رنگوں میں پایا جاتا ہے؛

سفید، کالااور سنہری امبر ۔ان میں سے امبربیج سب سے زیادہ عام ہے۔ کالا زیرہ، سفیدزیرے سے مختلف ہوتا ہے ، البتہ دونوں میں کچھ حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے۔ کالا زیرے کو نارتھ انڈیا میں کلونجی اور بنگال میں کالاؤزیرہ کہا جاتا ہے۔ یہ تیکھا، طاقت ور، تیز اور ذرا بہتر ذائقہ ) کا ہوتا ہے۔ اس کی ساخت یا بناوٹ انتہائی باریک ہوتی ہے۔ زیرہ جہاں کھانے پکانے کے لیے بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کے دیگر فوائد بھی بے شمار ہیں۔ یہ خوشبودار مصالحہ میڈیکیٹڈ صلاحیتوں سے بھی مالا مال ہے۔ زیرے سے کئی فوائد کھانے کے ساتھ ساتھ بیرونی طور پر بھی ملتے ہیں۔ زیرے کے فوائد زیرہ میں کیونکہ آئرن کی اچھی خاصی مقدار پائی جاتی ہے ۔اس لیے یہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا، مدافعتی نظام کی قوت بڑھاتا

اور اینٹی ریڈیشن کے لیے کام انجام دیتا ہے۔ سفید زیرہ میں آئرن، کاپر، کیلشیم، پوٹاشیئم، میگنیشئم، زنک، سیلینئیم اور مینگنیز پائے جاتے ہیں۔ کاپر خون میں سرخ خلیات بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں بی کامپلیکس کی بھی اچھی مقدار پائی جاتی ہے جیسے کہ تھا یا من، وٹامن B6، نایاسن اور دوسرے اینٹی آکسیڈنٹ وٹامنز جیسے وٹامن E.،A،.C بھی موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ کالا زیرے میں 100 قسم کے کمیکل کمپاؤنڈ پائے جاتے ہیں جن میں وٹامنز، پروٹینز، کاربو ہائی ڈریٹ، منرلز اور فیٹی ایسڈ شامل ہیں۔ *زیرہ میں کیونکہ وٹامن E بھی پایا جاتا ہے اس سے جلد کی ہر قسم کی بیماری سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ زیرہ کے استعمال سے انفیکشن اور فنگل سے بھی نجات ملتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ چہرے پر ہونے والی کسی بھی قسم کی ایکنی،

ایگزیما اور دھبوں سے نجات بھی ملتی ہے۔ زیرے میں چونکہ فائبر بھی موجود ہوتا ہے جس سے جلد کی صفائی ممکن ہوتی ہے۔ *چہرے پر پڑنے والی جھریوں اور لائنوں کا خاتمہ بھی زیرے کے استعمال سے کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں وٹامن ای پایا جاتا ہے جو صحت مند جلد کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ زیرے میں کیونکہ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی بیکٹیریل صلاحیت پائی جاتی ہے جس سے جلد خوبصورت فریش اور جوان نظر آتی ہے۔ *جسم پر ہونے والی کسی بھی قسم کی الرجی یا خارش کی صورت میں زیرے کو پانی میں ملاکر اُبال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر اس پانی سے غسل کریں۔ *ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوے میں ہونے والی جلن کے خاتمے کے لیے ایک ٹی اسپون زیرہ چار لیٹر پانی میں اُبال لیں اور ٹھنڈا کرکے پئیں۔

Leave a Comment