ہماری بیٹی کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا،داماد کے حوالے سے سسر کے نادر موقف نے سب کے دل موہ لیے

بیٹی

پی ایف سی نیوز ! آج کل ایک پوسٹ بلکہ دو 3 پوسٹس ایک ہی سبجیکٹ کی واٹس ایپ پر اور میڈیا کے دیگر ذرائع پر وائرل ہورہی ہیں ، آپ لو گوں نے بھی شاید پڑھی ہوںگی ،ان پوسٹس میں بیٹی کی فضیلت اور مقام و مرتبہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیٹی اللہ رب العزت کی نعمت ہے، انعام ہے ، رحمت ہے۔ وہ زمانہ اب آہستہ آہستہ الحمد للہ ختم ہورہا ہے

کہ لوگ بیٹی کو ناپسند کرتے تھے۔ یقین جانیں بہت سارے نوجوان ملتے ہیں ،بیٹی ہونے کی خوشی ان کے چہروں سے نظر آرہی ہوتی ہے ، یعنی اللہ کی نعمت ہے بیٹا ہو یا بیٹی ۔ صرف یہی نہیں بلکہ نبی نے بیٹی کو جو اعلی مقام دیا ہے اور صرف بیٹی کو ہی کیوں ،عورت کو مجموعی طور پردیا ہے ، اسلام سے پہلے جہالت کے زمانے میں عورت کی کوئی قیمت نہیں تھی ، وہ چاہے کوئی بھی ہو بلکہ عورت کو بچی پیدا ہونے کی شکل میں زندہ درگور کردیا جاتا تھا ، قرآنِ کریم سورۃ التکویر ، آیت 8،9 میں ذکرموجود ہے : { وَاِذا الْمَوْوٗٔدَۃُ سُئِلَتْ ٭ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ} نبی اکرم آئے اور رحمت للعالمین کے مظاہرہوتے رہے ، عورت کو نبی نے وہ مقام دیا کہ اگر یہ بیوی ہے تو دنیا کی سب سے قیمتی دولت ہے چنانچہ سنن نسائی ،صحیح الجامع اورصحیح ابن حبان میں ارشادِ نبوی ہے

: یہ دنیا ساری مال و متاع ہے اور دنیا میں سے سب سے قیمتی چیز نیک بیوی ہے (نسائی، ابن حبان، صحیح الجامع) ۔ عورت اگر ماں ہے تو فرمایا اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے ، جیسا کہ صحیح الجامع میں نبی کا ارشاد ہے۔ بہن یا بیٹی ہے تو جہنم کی راہ میں دیوار ، چنانچہ صحیح بخاری و مسلم اور سنن ترمذی میں نبی اکرم نے فرمایا ہے : جو شخص اپنی دو بیٹیوں( یا بہنوں) کو تربیت دے کر انکی شادی کردے ،اسلامی تربیت پر اللہ رب العزت ان بیٹیوں (بہنوں)کو اس کیلئے جہنم کی راہ میں دیوار بنادیگا ۔(مسلم، ترمذی)۔ بیٹی کا اتنا بلندمقام ہے ، اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن ان پوسٹوں میں بہت عجیب رنگ دیا گیا ہے ، مبالغہ کی انتہا کردی گئی۔ قرآن کی آیات کا موضوع توڑ موڑ کر بیان کیا، معنی و مفہوم تک بدل دیا گیا

اور ان پوسٹس میں بعض چیزیں اس طرح لکھی ہیں : جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اللہ پاک فرماتاہے: جاؤ تم دنیامیں اور اپنے والد کی مدد کرو اور جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ پاک فرماتا ہے :جاو تم دنیا میں ، میں تمہارے والد کی مدد کرونگا۔پہلی بات یہ ہے کہ یہ کہاں لکھا ہوا ہے ؟قرآنِ کریم کی کسی آیت میں ہو ، نبی کی کسی صحیح سند سے ثابت حدیث میں ہو، کہیں نہیں ملے گا ۔ انداز یہ کہ اگر بیٹا پیدا ہو تو کہا تو جاکے اپنے باپ کی مدد کراور اگر بیٹی پیدا ہو تو اللہ کہتا ہے میں تیرے باپ کی مدد کرونگا ،کیا بیٹوں والوں کی اللہ مدد نہیں کرے گا؟ بیٹی کے مقام سے کوئی انکار نہیں، ہم نے پہلے بھی ذکر کیا ہے لیکن اس طرح کی باتیں پھیلا کر لوگو ں سے پتہ نہیں کیا طلب کیا جاتا ہے ۔کہا :قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بیٹی مقدس ہے

اور آیت بیان کردی سورت الصافات کی153 ، کہا : { أَصْطَفَیٰ الْبَنَاتِ عَلیٰ الْبَنِیْنِ} کیا اللہ نے اپنے لئے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی ہے ؟ اب یہ آیت153ہے ،یعنی اللہ کریم تو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیئے بیٹے پسند کر رکھے ہیں اور میرے لیئے بیٹیاں ؟جبکہ اگلی ہی آیتوں میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمادیا :تمہیں کیا ہوگیا ہے کیسے فیصلے کرتے ہو، کیا تم اس قدر بھی نہیں سمجھتے ۔ یعنی تمہیں تو بیٹے چاہئیں اور میرے لئے بیٹیوں کا انبار لگادیا ہے ۔ اس مذکورہ آیت کا سارے کا سارا مفہوم بدل کر اسے بیٹی کی فضیلت پر فٹ کردیا گیا ۔ قرآن کریم کی کوئی بھی طباعت اور قرآن کریم کے کسی بھی عالم کا ترجمہ لے لیں ، جو ترجمہ ان میں کیاگیا ہے کہ ’’کیا اللہ نے اپنے لیئے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی ہے؟‘ جوکہ اصل ترجمہ ہے ،اور یہ جو کہا گیا ہے

Leave a Comment