نویں سے بارہویں تک کے امتحانات کب سے شروع ہونگے ، صوبائی حکومت نے اعلان کر دیا، مزید جانیں

صوبائی حکومت

پی ایف سی نیوز ! وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ موجودپ نااہل اور نالائق وزیر اعظم اور ان کی پالیسیوں سے دنیا بھر میں پاکستان کا مذاق بن رہا ہے۔ ملک کی جی ڈی پی گروتھ 3.9 فیصد ہونے کا دعوہ کرنے والے اس وزیر خزانہ کے دور کے اعداد و شمار دے رہے ہیں، جس کو انہوںنے مہنگائی اور معیشت کی تباہی کا خود ذمہ دار قرار دیا تھا۔

چینی اسکینڈل پر کمیشن اور بعد میں ایف آئی اے سے فارنسیک کی رپورٹ کے بعد بھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور اب ایک سینیٹر ان تمام رپورٹس کا فیصلہ کرے گا، اس سے بڑا مذاق اس ملک کے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ سندھ میں نویں سے بارہویں تک کے امتحانات جولائی میں ہوں گے جبکہ آٹھویں تک کے امتحانات کے حوالے سے آئندہ ایک سے دو روز میں فیصلہ کرلیا جائے گا۔ سندھ میں 37 ہزار اساتذہ کی بھرتیوں کے لئے لاکھوں امیدواروں نے درخواستیں دی ہیں لیکن کوووڈ کے باعث آئی بی اے سکھر ان کے ٹیسٹ نہیں لے سکا ہے، اس سلسلے میں ایک سے دو روز میں خود آئی بی اے سکھر جاکر صورتحال کا جائزہ لوں گا۔ صوبے میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں خوشی سے نہیں بند کی گئی ہیں اور جو فیصلے کئے گئے ہیں

وہ مشکل اور تکلیف دہ ہیں لیکن ہم معیشت کو زندگیوں پر ترجیع نہیں دے سکتے۔ ملک میں پہلے نہ خانہ جنگی کی صورتحال تھی اور نہ اب ہے اور ہم نے ماضی میں بھی تاجروں سے بار چیت کے ذریعے تمام مسائل کا حل نکالا تھا اور اب بھی نکال لیں گے۔ ایم کیو ایم کے سابق رکن سندھ اسمبلی اور لندن نائین زیرو کے انچارج و موجودہ پی ایس پی کے یورپ اور یوکے کے نائب صدر مرزا خلیل اللہ نے آج پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے، ان کو ہم اپنی پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز بلاول ہائوس میڈیا سیل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی سرندر ولیسائی، عاجز دھامڑا اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں

اور کارکنوں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے اور آج سابقہ رکن سندھ اسمبلی اور ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ کے ذمہ دار اور موجودہ پی ایس پی کے یورپ اور یو کے کے سنئیر نائب صدر مرزا خلیل اللہ جن سے کچھ عرصہ سے رابطے جاری تھے انہوںنے باقاعدہ طور پر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کارکردگی کا گراف کوئی ایک میڈیا یا رپورٹر نہیں لگا سکتا بلکہ یہ فیصلہ سندھ بھر کے عوام کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں کراچی سمیت صوبہ بھر میں عوام نے ثابت کردیا ہے کہ پیپلز پارٹی کا کیا گراف ہے۔ انہوںنے کہا کہ بلدیہ ٹائون کی این اے 249 کے انتخابات میں جہاں کبھی پیپلز پارٹی کو کامیابی نہیں ملتی تھی وہاں کے عوام نے بھی پیپلز پارٹی پر اپنے اعتماد کا اظہار کردیا ہے

اور انشاء اللہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کراچی سے بھی بڑے پیمانے پر کامیاب ہوگی۔ سعید غنی نے کہا کہ موجودہ حکومت اور ان کے 300 سے زائد ترجمان بگلے بجا بجا کر کہہ رہے ہیں کہ ملک میں جی ڈی پی کی شرح 3, 9 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور یہ اعداد و شمار اس وقت کہ بتا رہے ہیں جب وزیر خزانہ حفیظ شیخ تھے اور جن کو وہ سینیٹ کے انتخابات میں جتوا کر وزیر بنانے کے لئے کوشاں تھے تاہم ان کی شکست کے بعد ان کو ملک میں مہنگائی اور معیشت کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور شوکت ترین کو لایا گیا۔ سعید غنی نے کہا کہ موجودہ نالائق اور نااہل وزیر اعظم اور ان کی حکومت کے اس طرح کے بھونڈے اقدامات سے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں خراب ہوا ہے۔ انہوںنے کہا کہ چینی اسکینڈل پر بھی کمیشن اور ایف آئی اے کی جانب سے

فارنسک رپورٹ کے بعد اب ایک سینیٹر کو ان کی رپورٹ کی تحقیقات کا کہا گیا ہے، جو کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ کچھ روز قبل وزریر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم بھارت سے تجارتی تعلقات نارمل نہیں کرسکتے کیونکہ ایسا کرنا کشمیر کاز کو نقصان کے مترادف ہے اور اسی وزیر اعظم نے وزیر تجارت کی حیثیت سے بھارت سے تجارت کی سمری منظور کروائی اور وزیر تجارت عمران خان کی سمری کو وزیر اعظم عمران خان نے مسترد کی ۔ یہ وہ حرکات ہیں جن پر وزیر اعظم عمران خان کو وزیر تجارت کے خلاف ایکشن لینا چاہئے اور انہیں خود عہدے سے برطرف کردینا چاہیے۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں پانی کی وفاق کی جانب کٹوتی کے خلاف نثار کھوڑو کی جانب سے اعلان کے مطابق پیپلز پارٹی سندھ بھر میں احتجاج کرے گی۔

اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوںنے کہا کہ قیوم سومرو نے پی ڈی ایم کے رہنمائوں سے جو ملاقات کی ہے ایسی ملاقاتیں مجھ سمیت دیگر پارٹی کے رہنماء دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے ساتھ کرتے رہتے ہیں ، اس کو پارٹی کی ہدایات نہیں کہا جاسکتا۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہا کہ اس سال محکمہ تعلیم میں 155 اسکیمیں جون 2021 تک مکمل ہونا ہیں اور امید ہے کہ وہ مکمل کرلی جائیں گی جبکہ آئندہ مالی سال میں نئی اسکولوں کی تعمیر کی بجائے ہمارا زیادہ فوکس پرانی اسکولوںکی عمارتوں کا رپئیر اور مینٹینس کے کام کو انجام دینے پر ہے کیونکہ سیلاب اور بارشوں کے بعد ان اسکولوں کی حالت زار خراب ہوگئی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہا کہ سندھ میں نویں سے بارہویں تک کے امتحانات کا فیصلہ ہم نے پہلے ہی جولائی میں کرنے کا کرلیا تھا جبکہ دیگر صوبوں نے فیصلہ نہیں کیا تھا

اس لئے وہ اس وقت ابہام کا شکار ہیں۔ انہوںنے کہا کہ محکمہ تعلیم میں ماہرین تعلیم اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی اسٹئیرنگ کمیٹی سے مشاورت کے بعد تمام فیصلے کئے جاتے ہیں اور ہم نے یہ فیصلہ پہلے ہی کرلیا تھا جبکہ پہلی سے آٹھویں تک کے امتحانات کے حوالے سے آئندہ ایک سے دو روز میں فیصلہ ہوجائے گا۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہا کہ سندھ میں استادوں کی کمی ہے اور ہم نے 37 ہزار اساتذہ کی بھرتیوں کو آئی بی اے کے ٹیسٹ کے ذریعے بھرتی کرنا ہیں لیکن کوووڈ کے باعث کچھ تاخیر ہورہی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہا کہ ہم نے اب تک 2247 بندس اسکولز دیگر اسکولوں سے اساتذہ کو وہاں بھیج کر کھلوا دی ہیں اور جلد ہی بھرتیوں کے بعد اساتذہ کی کمی کو پورا کرلیا جائے گا۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہا کہ ہم نے صوبے میں کیسز کے اضافے کے بعد نا چاہتے ہوئے

بھی مشکل فیصلے کئے تاکہ کیسز کو کم کیا جاسکے اور اس کے مثبت نتائج آرہے ہیں اور عید کے بعد جو کیسز 2000 تک پہنچ گئے تھے اب اس میں کمی ہورہی ہے اور یہ 1500 کے اندر اندر ہوگئے ہیں اور خدانخواستہ ہم ایسا نہ کرتے تو یہ کیسز بہت بڑھ جاتے اور اس سے مزید مشکلات پیدا ہوجاتی۔ انہوںنے کہا کہ اب صوبہ سندھ کے اس اقدام پر کچھ سیاسی جماعتیں تاجروں کو ساتھ لے کر پوائنٹ اسکورننگ کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ عوام کو مشکلات سے دوچار کرنا چاہتی ہیں، انہوںنے کہا کہ ہم نے پہلے بھی تاجروں سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کئے تھے اور اب بھی ہم کرلیں گے اور پہلے نہ یہاں خانہ جنگی کی کیفیت تھی اور نا آئندہ ایسا ہوگا اور جو سیاسی جماعتیں ایسا چاہتی ہیں وہ انشاء اللہ ایسا کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ اب عوام ان کا حقیقی چہرہ دیکھ چکی

Leave a Comment