وہ بادشاہ جو رات ایک کنواری لڑکی کا سر قلم کرتا تھا ،مزید جانیں

کنواری لڑکی

پی ایف سی نیوز ! اس سے پہلے کہ شہرزاد کی کہانی شروع کی جائے، ان دو طاقتور باشاہوں کی داستان جاننا ضروری ہے جن میں سے ایک ہر رات کسی عورت سے شادی کرتا، صبح ہونے پر اسکا سر قلم کروا دیتا- کیوں؟اگر آپ بادشاہ کے درباریوں سے پوچھیں گے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ انکی بیویوں نے انسے بیوفائی کی تھی اس لئے-کہانی شروع ہوتی ہے چھوٹے بھائی، سمرقند کے بادشاہ شاہ زمان سے- اس نے اپنی بیوی کو اپنے غلام کےساتھ دیکھا

اور اسی لمحے تلوار کے ایک ہی وار سے دونوں کے ٹکڑے کردیے-اسکا بھائی شہریار جس کی حکومت ہندوستان سے چین تک پھیلی ہوئی تھی، اس سے عظیم بادشاہ تھا چناچہ اس سے بھی بڑا المیہ اسکا منتظر تھا- اس نے باغ میں اپنی ملکہ اور دس داشتاؤں کو غلاموں کے ساتھ ‘مشغول دیکھا-صدمے سے بےحال ہوکر اس نے اپنا تخت و تاج چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے بھائی کو بھی ایسا کرنے کے لئے آمادہ کیا- انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت تک اس پوری دنیا میں گھومتے رہیں گے جبتک انہیں اپنے ہی جیسا کوئی بدنصیب نہیں مل جاتا-آخر کافی آوارہ گردی کے بعد انہیں اپنے جیسا ایک بدنصیب مل ہی گیا، لیکن وہ کوئی کمزور انسان نہ تھا بلکہ ایک طاقتور اور زبردست جن تھا-وہ جن اپنی عورت کو سات تالوں میں مقفل رکھتا تھا پھر بھی عورت نے اسے پانچ سو ستر بار دھوکہ دیا، اور ہر دھوکے کی نشانی اس نے ان مردوں کی انگوٹھیوں کی شکل میں محفوظ کر رکھی تھی-اس فہرست میں دونوں بھائیوں کا بھی اضافہ ہوگیا

اور ان دونوں کی انگوٹھیاں بھی عورت نے ایک دھاگے میں باندھ کر رکھ لیں-وہاں سے نکلنے کے بعد دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہمیں عورتوں کے بغض سے پناہ ڈھونڈنی چاہیے، اور پھر دونوں شہریار کی سلطنت واپس آگئے- شہریار اپنے تخت پر بیٹھا اور وزیر اعظم کو ملکہ کو قتل کردینے کا حکم دیا- اس کے بعد اس نے انتمام داشتاؤں اور غلاموں کے بھی سر قلم کروا دیے جنہیں اس نے باغ میں عریاں رقص کرتے دیکھا تھا-لیکن ان سب کے بعد بھی اسکے دل کو تسلی نہ ہوئی، اس نے اپنے وزیر کو ایک دلہن لانے کے لئے کہا اور صبح جلاد کے ہاتھوں اس غریب کا سر قلم کروا دیا- یہ سلسلہ تین سال تک چلتا رہا، اسکی عوام نے اس ظلم کے خلاف احتجاج کیا، بادشاہ پر لعنت بھیجی، اور خدا سے اسکی تباہی کی دعائیں مانگیں-عورتیں مشتعل ہوگئیں-مائیں فریاد کرنے لگیں- والدین اپنی بیٹیوں کو لے کر وہاں سے کوچ کرنے لگے حتیٰ کے وہ دن آگیا جب وہاں ایک بھی جوان لڑکی نہ بچی سوا دو کے،

وہ دونوں وزیر اعظم کی بیٹیاں : شہرزاد اور دنیازاد تھیں-کہانی کا یہ رخ آپ بادشاہوں خوشامدیوں کے مونہہ سے سنیں گے جن کا غلبہ تمام درباروں پر ہوتا ہے- لیکن اگر آپ کو کہانی کا دوسرا رخ سننا ہے تو ان خاندانوں سے سنیں جن کی بیٹیاں بادشاہ کی خونی پیاس کی بھینٹ چڑھ گئیں-وہ آپ کو بتائیں گے کہ دونوں بادشاہ دراصل نامرد تھے-انہیں کسی عورت سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی ، لیکن تخت و تاج کے ایک وارث کے لئے عوام کے بےپناہ دباؤ میں آکر انہوں نے شادی کی حامی بھر لی، یہ سوچ کر کہ انہیں ایک ایسی عورت گی جو افشا نہیں کرے گی-انہیں ایسی عورت مل بھی جاتی، کیوں کہ اکثر عورتوں کی شادی نامردوں سے ہو جاتی ہے اور تمام عمر اپنے خاوندوں کی جوانمردی کی تعریفیں کرتے گزار دیتی ہیں-لیکن وہ صرف نامرد نہیں تھے، ساتھ ہی بزدل بھی تھے- اور چونکہ وہ خود کبھی کسی کے ساتھوفادار نہیں رہے تھے چناچہ وہ اپنی بیویوں پر بھی بھروسہ نہ کر سکے، اور بلآخر انہوں نے بھی وہی راستہ اپنایا

جو ان جیسے بزدل مرد اپناتے ہیں: تشدد کا راستہ-وہ اپنی آرامگاہ سے باہر تو بادشاہ تھے، مگر اندر چوہوں سے بھی بدتر تھے- چونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ راز کسی پر کھلے چناچہ انہوں نے اپنی ہر دلہن کو جلاد کی تلوار کے وار سے خاموش کردیا-تین سال تک یہی سب چلتا رہا اور پھر ایک دن انہیں شہرزاد کی شکل میں اپنا مقابل مل ہی گیا- وہ خوبصورت تھی ، ہوشیار تھی، اس نے کتابیں پڑھی تھیں، اس کے پاس ایکایسا ہنر تھا جو کسی مرد کے پاس نہیں ہوسکتا، اور وہ تھی طاقت، ایک عورت کی نرم و نازک طاقت-اس کی بہن دنیازاد بھی اسی کی طرح ہوشیار اور خوبصورت تھی، اور اپنی بہن کی طرح عورت کی طاقت سے واقف تھی اور اسکا استعمال بھی خوب جانتی تھی-ان دونوں نے مل کر بادشاہ شہریار کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا-لیکن انکا باپ وزیر اعظم بھی ایک مرد ہی تھا، وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ نرم و نازک طاقت آخر چیز کیا ہے اوراس سے ایک زبردست بادشاہ کو کیسے شکست دی جاسکتی ہے-

جب شہریار نے اسے اپنی بیٹیاں شادی کے لئے پیش کرنے کا اشارہ دیا تو وزیر کے پاس آسان ترین راستہ یہی تھا کہ سلطنت سے فرار ہوجا-شہرزادے اس آزمائش کے لئے تیار، سچ تو یہ ہے کہ وہ اسی دن سے اس موقع کا انتظار کر رہی تھی جب سے بادشاہ نے اپنی خامی چھپانے کے لئے معصوم عورتوں کا خون بہانہ شروع کیا تھا-اس نے اپنے والد سے کہا، “میرامشورہ ہے کہ آپ میری شادی بادشاہ سے کردیں، یا تو میں فتحیاب ہو کر زندہ رہوں گی یا پھر مرنے سے پہلے اسے تباہ کر جاؤں گی”-“تم نہیں جانتیں کہ کیا مانگ رہی ہو”، وزیر نے کہا، “میں تمہارا باپ ہوں، میں اپنی بیٹی کو موت کی جانب جاتے ہو نہیں دیکھ سکتا، اپنی ماں سے کہو سامان باندھے، ہم بھی دوسروں کی طرح یہ ملک چھوڑ دیں گے”-“نہیں، میرا خون ان سینکڑوں مظلوم عورتوں سے قیمتی نہیں جو اس پاگل بادشاہ کی کیانا پر قربان کر دی گئیں”، شہرزادے نے جواب دیا،”میں بھی شاید انہی کی طرح ماری جاؤں لیکن اس سے پہلے میں اس مکروہ کھیل کو ختم کر کے جاؤں گی

تم بادشاہ کے غضب سے واقف نہیں ہو، لیکن میں جانتا ہوں کیونکہ میں اسکا وزیر ہوں”، وزیر اعظم نے کہا-“میں بادشاہ کے غضب سے تو آشنا نہیں لیکن ایک عورت کی ذہانت سے واقف ہوں”، شہرزادے نے جواب دیا-“مجھے اس نیک کام کے لئے تیار کریں، وہمجھے مار سکتا ہے تو ماردے میں ایک شہید کی موت مروں گی”اس سے پہلے کے ہم کہانی آگے بڑھائیں میں آپ کو ایک راز بتانا چاہتا ہوں، ایک عورت کی نرم و نازک طاقت کے آگے ہر مرد، نامرد بن جاتا ہے- یہ ذہنی کمزوری ہے، جسمانی نہیں- اور تمام مردوں میں یہ کمزوری موجود ہوتی ہے-شادی کے لئے شاندار تیاریاں کی گئیں- شہرزاد کا لباس سنہرے دھاگوں سے تیار کیا گیا- اس کے لئے سمندروں سے موتی کھوج کرلا گ – اس کے گلوبند میں انڈے کے برابر ہیرا سجایا گیا- پوری سلطنت اور دنیا بھر سے چن کر عطر اسکی خدمت میں پیش کیے گئے-اسے مزید خوبصورت بنانے کے لئے کئی دنوں تک طرح طرح کی جڑی بوٹیاں، تیل اور محلول اسکے جسم پر ملے گے

مہندی کے خوبصورت و نازک نقش سے اس کے ہاتھ اور پیر سجائے گئے -شادی کی رات، دلہن کی سیج دور دراز کے باغوں سے لا ئے گئے پھولوں سے سجائی گئی- کمرے کےچاروں کونوں اور بستر کے نیچے خوشبودار گاؤ لوبان جلائے گئے -لیکن آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ سب بادشاہ کے حکم پر ہو رہا تھا- وہ شادی کی رات سے زیادہ، اس کے بعد آنے والی صبح کی تیاریوں میں دلچسپی رکھتا تھا- دلہن کا سر قلم کرنے کے لئے سب سے وزنی اور تیز تلوار کا انتخاب کیا گیا اور اسکا خون جمع کرنے کے لئے بڑے بڑے برتن فرش پر رکھے گئے-بادشاہ بذات خود ہر دلہن کے لئے جلاد کا انتخاب کرتا، جتنیزیادہ خوبصورت دلہن ہوتی، جلاد اتنا ہی زیادہ خونخوار ہوتا- سر قلم ہونے کے بعد خصوصی ملازم فرش کی صفائی پر مامور تھے- بادشاہ چاہتا تھا کہ اس ظلم کے تمام نشانات منٹوں میں صاف کر دیے جائیں- اگر بدقسمتی سے خون کا ایک قطرہ بھی نظر آجاتا تو صفائی کرنے والوں کی پوری ٹیم کا سر قلم کر دیا جاتا-

بادشاہ یہ چاہتا تھا کہ اس کی عوام صرف یہ یاد رکھے کہ کس طرح پہلی ملکہ نے بادشاہ کو دھوکہ دیا، کس طرح وہبادشاہ کی غیر موجودگی میں ایک غلام کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتی تھی ۔اس نے اپنے پاگل پن کو ایک احسان کا تاثر دینے کی کوشش کی- وہ چاہتا تھا لوگ یہ سمجھیں کہ روزانہ ایک کنواری لڑکی سے شادی کر کے اور دوسری صبح اسے قتل کروا کر وہ ان سب کو ایک بہت بڑی برائی سے بچا رہا ہے-وہ ناصرف یہ چاہتا تھا کہ اس ظلم کے تمام نشانات مٹ جائیں بلکہ اس نے یہ بھی یقینی بنا دیا کہ باہر کی دنیا کو محل کر اندر ہونے والےکارروائیوں کی بھنک بھی نہ پڑے، کس طرح دلہنوں کو آرام گاہ سے باہر گھسیٹ کر نکالا جاتا ہے، کس طرح وہ اپنی زندگی بخشنے کے لئے گڑگڑاتی ہیں، کس طرح ذبح ہو جانے کے بعد بھی انکے جسم زندگی کی طرف لوٹنے کے لئے دیر تک پھڑ پھڑاتے رہتے ہیں، کس طرح اس پاس کی زمین اور بعض اوقات بادشاہ کا لباس بھی خون سے سرخ ہو جاتے ہیں-

نہیں، وہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ سب باہر کے لوگوں کو پتہ چلے-چناچہ اس بھیانککھیل میں ملوث پورے عملے کے کانوں میں اس نے پگھلا ہوا سیسہ ڈلوا دیا- تاکہ وہ ان مظلوم دلہنوں کی فریاد اور رونا پیٹنا نہ سن سکیں- اور اگر ایسا ہو بھی جاتا تو وہ یہ سب کسی کو نہیں بتا سکتے تھے کیونکہ انکی زبانیں کاٹ دی گئی تھیں-یہ سب سننے کے بعد آپ یقیناً یہ سوچ ہوں گے کہ دلہن کے لئے یہ ساری تیاریاں شہرزاد کے باپ نے کی ہونگی آخر کو وہ وزیر اعظم تھا- جی نہیں، ان سب سے اس کا کچھ لینا دینا نہ تھا-وہ ان سب میں ملوث نہیں ہونا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جو راستہ اسکی بیٹی نے چنا ہے وہ صرف اور صرف موت کی طرف لے جاتا ہے

Leave a Comment