ایک بار یہ سورت پڑھ لوکاروبار میں ایسا اضافہ ہوگا کی آپ حیران رہ جائیں گے

کاروبار

پی ایف سی نیوز ! سورۃ الملک کی فضیلت میں حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کی ایک سورت ہے جس کی تیس آیات ہیں، وہ آدمی کی اس وقت تک سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے، اور وہ ہے سورت تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ المُلْكُ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سورۃ سجدہ اور سورۃ الملک نہ پڑھ لیں ایسے ہی نسائی میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے

وہ کہتے ہیں: جو شخص سورۃ الملک ہر رات پڑھے تو اللہ تعالی اس سے عذاب قبر کو روک لے گا، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسے مانعہ یعنی روکنے والی کہتے تھے، اور یہ قرآن مجید میں ایک ایسی سورت ہے جو اسے ہر رات پڑھ لے تو وہ بہت زیادہ اور اچھا عمل کرتا ہےمقصود اور مطلوب یہاں پر حدیث سے ظاہر ہونے والا معنی ہے کہ یہ فضیلت اس شخص کے بارے میں ہے جو یہ سورت پڑھتا ہے، لہذا پڑھنے کی بجائے صرف سننے والا شخص قاری یعنی اس سورت کی قراءت اور پڑھنے والا نہیں ہو سکتا، اگرچہ قرآن مجید کی تلاوت سننا ایک شرعی اور مطلوب عمل ہے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ صرف سننے والے کو بھی پڑھنے والے کے برابر اجر ملے گا، ہمیں سننے اور پڑھنے والے دونوں کے اجر میں برابری کی کوئی دلیل نہیں ملی۔اس بنا پر جو شخص ان احادیث میں وارد فضیلت پانا چاہتا ہے تو وہ سورت پڑھے محض سننے پر اکتفا مت کرے۔ اور اگر وہ پڑھ نہیں سکتا،

تاہم قاری کی آواز کے ساتھ ساتھ یا پیچھے پیچھے پڑھ سکتا ہے ؛ کیونکہ اب تو ملٹی میڈیا کے ذریعے ایسا ممکن ہے اور ریکارڈ شدہ تلاوتیں بھی موجود ہیں جس میں آپ ایک ہی آیت کو بار بار بھی سن سکتے ہیں ، تو اگر ایسا ممکن ہو تو یہ ان شاء اللہ اچھا ہو گا، اور اس طرح سن کر پڑھنے والا بھی قاری اور پڑھنے والوں میں شامل ہو جائے گا، بلکہ امید ہے کہ اتنی مشقت اٹھانے پر اسے اضافی اجر بھی ملے۔اور اگر کسی کیلیے اس انداز سے پڑھنا بھی ممکن نہیں ہے یا انتہائی زیادہ مشکل پیش آتی ہے تو وہ حسب استطاعت سننے پر اکتفا کرتا ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ اسے پڑھنے والے کے اجر سے محروم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی پڑھنے کے بدلے وارد فضائل سے محروم کیا جائے گا؛ کیونکہ اس نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے۔ دوسری سورت واقعہ ہے۔ یہ قرآن پاک کے پارہ نمبر 27 کی سورہ ہے جیسا کہ ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ نے فرمایا جو ہر رات سورہ واقعہ پڑھے اس پر غربت نہیں آئے گی

ایک اور حدیث پاک میں حضور پاک ﷺ نے فرمایا سورہ واقعہ دولت کی سورت ہے لہٰذا اسے پڑھ کر اپنے بچوں کو پڑھائیں مذکورہ بالا حدیث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سورہ واقعہ پوری امتِ مسلمہ کے لئے ایک نعمت ہے آج ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہ تناؤ اور پریشانی سے بھری ہوئی ہے ہماری زیادہ تر جو پریشانیاں ہیں وہ مال سے متعلق ہیں عدم استحکام کی ہیں تو یہ سورہ اچھی کمائی کے لئے دنیاوی فوائد کی ایک صفت اول فراہم کرتی ہے یہ سورہ واقعہ ہمیں غربت سے بچاتی ہے جیسا کہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا ہے جو بھی ہر رات سورہ واقعہ پڑھے اسے کبھی غربت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ایک روایت میں ہے. کہ عبداللہ ابن مسعود ؓ جس بیماری میں فوت ہوئے اسی دورا ن میں خلیفہ عثمان ؓ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے انہوں نے ابن مسعود ؓ سے پوچھا آپ کو کس سے شکایت ہے تو آپ نے جواب دیا اپنے گناہوں سے تو انہوں نے پوچھا کس چیز سے شکایت ہے کہا اپنے پالنے والے کی رحمت کی پھر کہا

کہ آپ کے لئے طبیب بلاؤ کہا طبیب ہی نے بیمار کیا ہے مزید کہا کہ آپ کو مال دیئے جانے کا حکم صادر کروں کہا کہ جب میں محتاج تھا تو نہیں دیا اور اب مجھے اس کی حاجت نہیں تو مجھے دیتے ہو خلیفہ عثمان ؓ کہنے لگے کہ وہ مال آپ کی لڑکیوں کو دیئے دیتا ہوں ابن مسعود ؓ کہنے لگے کہ میں نے ان کو سورہ واقعہ کی تعلیم دی ہے پس وہ تمہارے مال کی محتاج نہ رہیں گی میں نے حضرت محمد مصطفیﷺ سے یہ سنا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو

Leave a Comment