نبی پاکؐ کی ولادت کا واقعہ،مزید جانیں

نبی پاکؐ کی ولادت

پی ایف سی نیوز ! الحمد لله اللّه سبحانه و تعالی کی توفیق سے ہم نے سیرت کے متعلق چند تمہیدی باتیں جان لیں اور اب ہم باقاعدہ نبی پاک صلی اللّه علیه وسلّم کی سیرت پاک کی ابتدا کریں گے۔ اس قسط میں ہم “حدیث” کے حوالےسے کچھ اصولی باتوں پر روشنی ڈالیں گے۔ پچھلی مرتبہ ہم نے پڑھا کہ نبی پاک ﷺ جب عالم وجود میں آئے

تو ایوان کسری کے چودہ کنگرے گر گۓ، فارس کا آتش کدہ، جو ہزاروں سالوں سے روشن تھا، وہ بھی بجھ گیا اور بحر طبریہ خشک ہوگیا وغیرہ وغیرہ۔ یہ بات علامہ شبلی نعمانی کی سیرت کی کتاب سے لی گئی ہے اور یہ روایت بیہقی میں بھی مذکور ہے، ابن عساکر میں بھی اور ابن جریر میں بھی موجود ہے۔ البتہ یہ روایت صحیح بخاری، صحیح مسلم بلکہ صحاح ستہ میں سے کسی بھی کتاب میں نہیں ملتی۔ ‏‏غرضیکہ حدیث کی سب سے مشہور اور معتمد کتب میں اس حدیث کو ذکر نہیں کیا گیا لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کسی حدیث کا ان مشہور و معروف کتابوں میں موجود نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ حدیث موضوع یعنی منگھڑت ہے یا ضعیف ہے۔ لوگوں کو کچھ غلط فہمی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو حدیث بخاری یا مسلم شریف میں نہیں ہے

تو وہ حدیث قابل قبول ہی نہیں۔ جبکہ ایسی بات نہیں۔ امام بخاری رحمه اللّه نے بذات خود یہ بات فرمائی کہ میں اپنی کتاب میں سوائے صحیح احادیث کے کوئی حدیث نہیں لایا مگر میں نے بہت سی صحیح احادیث کو چھوڑ بھی دیا طوالت کی وجہ سے۔ اسی طرح امام مسلم کہتے ہیں کہ جو احادیث میں نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں ذکر کی ہیں وہ سب صحیح ہیں مگر میں یہ نہیں کہتا کہ جن احادیث کو میں نے چھوڑ دیا وہ ضعیف ہیں۔ بہرحال قرآن مجید کے بعد جو دین کی سب سے مستند و معتمد کتاب ہوسکتی ہے وہ پہلے صحیح بخاری اور اس کے بعد صحیح مسلم ہے۔ جو احادیث ہم نے پڑھیں وہ واقعات پر منحصر ہیں۔ اور واقعات تو محض قصے ہوتے ہیں، کوئی حکم یا آرڈر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہماری زندگیوں پر کوئی خاص فرق پڑے۔

اسی لیے کئی اھل سیر جنہوں نے سیرت کی کتابیں لکھی ہیں، انہوں نے واقعات پر منحصر غیر صحیح احادیث کو بھی اپنی کتاب میں شامل کیا ہے مگر ان کا مقصد صرف اور صرف آپ ﷺ کا درجہ اور مرتبہ ظاہر کرنا ہے۔ حضرت انس رضی اللّه عنه سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “اللّه جل شانہٗ کے کرامات اور انعامات میں سے ہے کہ میں مختون پیدا ہوا اور میرا ستر کسی نے نہیں دیکھا”۔ طبرانی، ابو نعیم، ابن عساکر اس حدیث کو حافظ ضیاء الدین مقدسی نے مختارہ میں صحیح مانا ہے،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنه نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے اور بہت سارے علماء کرام بھی اس حدیث کو صحیح کہتے ہیں- آپ ﷺ کو ختنہ کروانے کی ضرورت نہیں پڑی یعنی اللہ سبحانه و تعالی نے آپ ﷺ کا ختنہ کر کے انہیں اس دنیا میں بھیجا۔

یہ چیز اسباب سے ہٹ کر ہے اور جو چیز اسباب سے ہٹ کر ہو وہ یا تو معجزہ ہوتا ہے یا کرامت ہوتی ہے اور معجزہ صرف نبی کے ہاتھ پر ہوتا ہے۔ تو کیوں کہ آپ ﷺ نبی تھے اس لیے یہ معجزہ ہی ہوسکتا ہے اور اس میں کوئی شک کی بات نہیں۔ پس ایک قول تو یہی ہے کہ آپ ﷺ مختون پیدا ہوئے جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ آپ کے جد امجد، عبد المطلب نے ولادت کے ساتویں روز آپ کا ختنہ کرایا، جیسا کہ عرب میں عام دستور تھا۔ اور حضرت ابراھیم اور اسماعیل علیھما السلام کی سنت کے مطابق ساتھویں روز آپ ﷺ کا ختنہ ہوا۔ یہ دو قول ملتے ہیں، واللّه اعلم بالصواب، لیکن زیادہ احادیث قول اول کے مطابق ہیں۔ اسی طرح حضرت عباس رضی اللّه عنه فرماتے ہیں

Leave a Comment