زندگی کے کچھ کڑوے سچ کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو ہم اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتے اگر بنا لیں تو زندگی سنور جائے گی

کچھ کڑوے سچ

پی ایف سی نیوز ! سچ عام طور پر کڑوا ہوتا ہے اور لوگ عام طور پر میٹھا جھُوٹ سُننا پسند کرتے ہیں جو وقتی طور پر انسان کو نیند کے مزے لُوٹنے دیتا ہے اور اسی نیند کے مزے میں پانی سر سے گُزر جاتا ہے، اور جو لوگ سچ کی کڑوائی کو برداشت کر لیتے ہیں وقت اُنہیں موقع دیتا ہے کہ وہ کوشش کریں، اور کوشش کرنے والے ہی کامیابی کی منزل تک پہنچتےہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم 8 ایسے سچ شامل کر رہے ہیں جو تاثیر میں انتہائی کڑوے ہیں

مگر اگر انسان انہیں تسلیم کر لے تو غفلت کے اندھیرے میں ڈوب کر نہیں مرتا۔ نمبر 1 دُنیا میں عنقریب انسان کی مُلاقات موت سے ہونے والی ہے اور یہ ایک ایسی زندہ حقیقت ہے جسے انسان آخری سانس تک فراموش کیے رکھتا ہے اور بھولا رہتا ہے کہ اُس نے خود بھی مرنا ہے اور اُس نے جس سے بھی محبت کی اُسے بھی مرنا ہے۔ کہتے ہیں دُنیا ایک ایسا طُور ہے جس نے ان گنت موسٰی دیکھے، یہ ایک ایسا دیر ہے جس میں لاکھوں عیسٰی پیدا ہُوئے اور یہ ایک ایسا قصر ہے جس میں لاتعداد قیصر رہ چُکے اور یہ ایک ایسا طاق ہے جس میں کئی کسریٰ پیدا ہُوئے اور پھرسب فنا ہُوئے، جو دُنیا کی حقیقت کو سمجھ گیا وقت نے اُس کو موقع دیا اور جس نے اس کی حقیقت سے مُنہ موڑا وقت اُسے زندہ ہی نگل گیا۔ نمبر 2 کسی ذی روح کو بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا اور جس نے زندگی کو بے مقصد گُزار دیا اس نے خواب غفلت میں دُنیا کی سب سے قمتی چیز کو ضائع کر دیا۔ نمبر 3 جس نے بے عیب انسان کی تلاش کی وہ ہمیشہ بھٹکتا رہا

اور جس نے انسان کو خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کر لیا وہ نایاب رشتے پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ نمبر 4 جس نے دولت کو حاصل کرنے میں دُنیا کا سارا وقت ضائع کر دیا وہ اپنی ساری دولت سے زندگی کا ایک مزید سانس بھی نہ خرید سکا۔ نمبر 5 جنت کو انسان کے انتہائی قریب رکھا گیا اور اُسے خبر دی گئی کہ یہ تیری ماں کے قدموں کے نیچے ہے، وائے ناکامی اُس پر جسے ماں باپ ملے اور وہ جنت حاصل نہ کر پایا۔ نمبر 6 دُنیا اور خوشی دو متضاد الفاظ تھے مگر دل نادان نے ان کو اکھٹا کرنے کے لیے نجانے کتنی صدیاں ضائع کر دیں۔ نمبر 7 دُنیا اور آخرت کی ہر کامیابی انسان کی ذات کے اندر رکھی گئی تھی مگر انسان اُسے ہمیشہ باہر تلاش کرتا رہا۔ نمبر 8 خسارے کا سودا کرنے میں انسان نے انتہا کر دی، وہ راز کُن فکاں تھا مگر دُنیا کی معمولی دولت اور طاقت کے پیچھے لگا رہا

Leave a Comment