آذان کے دوران یہ کام کریں اللہ کاوعدہ ہے ہرروز آپ کوچارانعامات سے نوازے گاچاہے کوئی مانگےیانہ مانگے

آذان

پی ایف سی نیوز ! اذان لغت میں خبر دینے والے کو کہتے ہیں۔ اور شریعت میں چند مخصوص اوقات میں نماز کی خبر دینے کے لیے چند مخصوص الفاظ کے دہرا نے کو اذان کہا جاتا ہے۔ اذان کا احترام اذان سے محبت ہر مومن کا ایمانی تقاضا ہے۔ اذان دینے کی فضیلت حضرت معاویہ سے حضور پاک ﷺکی اس حدیثِ مبارکہ میں یوں بیان ہوئی ہے ۔ قیامت کے دن جب موذن اٹھیں گے تو ان کی گردنیں سب سے بلند ہو ں گی۔

موذن کو یہ فضیلت اذان ہی کی وجہ سے حاصل ہے کیوں کہ اذان ایک دعوتِ عامہ ہے اور جو کوئی اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلا تا ہے اللہ پاک اس سے خوش ہوتا ہے۔ آج میں میں آپ کو حدیث کی روشنی میں ایسے کلمات بتاؤں گی جن کے بارے میں فر ما یا کہ اگر ان کلمات کو اذان کے درمیان پڑ ھا جائے تو ان کلمات کی وجہ سے بندے کے تمام گناہوں کی بخشش کر دی جاتی ہے ۔ یہ کلمات کیا ہیں۔ اس بارے میں جاننے کے لیے گزارش ہے کہ ہماری باتوں کو بغور سنیے گا۔ میں وہ کلمات بھی بتاتی ہوں لیکن ا سے پہلے اذان کی چند فضائل بتاتی ہوں جو کہ احادیث نبو ی میں بیان ہوئے ہیں حضرت ابو ہر یرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ِ پاک ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ موذن کی آ واز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور ہر خشک و تر اس کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ اذان سن کر نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نماز وں کے درمیان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

اس روایت میں ذکر ہے کہ ہر خشک و تر چیز گواہی دے گی گو یا اس جن و انس حیاتیات حیوانات نباقیات سبھی شامل ہیں اسی طرح سے صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ِ پاک ﷺ نے فر ما یا اگر لوگوں کو اذان اور پہل صف کے اجر و ثواب کا علم ہو جائے تو وہ اس کو حاصل کرنے کے لیے اس کو مہم جوئی بھی کر نی پڑ ے وہ ضرور کرے گا اس حدیث میں بھی اذان کے بے پناہ اجر کا پتہ لگتا ہے۔ کہ اگر لوگوں کو اذان کا اجر معلوم ہو جائے اور اذان دینے کے لیے اپنا نام مہم سے نکا لنا پڑ ے تو بھی ایسا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ تو اس روایت سے نماز کہنے کی فضیلت کا بہت اچھے سے اندازہ ہوتا ہے۔ کہ اذان کہنے کی کتنی بڑی فضیلت ہے

اسی طرح اذان کا جواب دینے کے بارے میں فضائل احادیث میں بیان ہوئے ہیں اور اذان کو خاموشی سے سننے اور جواب دینے کی تاکید فر مائی گئی ہے اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ اذان کو خاموشی کے ساتھ سنیں اور اس کے ہر کلمے کا جواب نہا یت ہی ادب و احترام کے ساتھ دیں

Leave a Comment