ماہواری کے درد کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ علامات، وجوہات اور علاج

ماہواری

پی ایف سی نیوز ! مہینے کے مخصو ص ایام ہر لڑکی کے لیے ذہنی تناؤ اور جسمانی تھکان کا باعث ہوتے ہیں۔ جہاں یہ مخصو ص ایام لڑکیوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ وہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ماہواری ایک قدرتی عمل ہوتا ہے۔ اور اس قدرتی عمل کے باعث خواتین کا جسم مختلف بیماریوں سے پاک ہوجاتاہے ۔ حیض کا سلسلہ اور مستقل اور باقاعدہ ہونا عورت کی صحت کے لیے ضرور ی ہوتا ہے۔

بعض خواتین کو حیض کے دوران برداشت سے زیادہ درد ہوتاہے ۔ وہ جس کی وجہ سے وہ مہینہ کے مخصو ص ایام میں اپنی روز مرہ کی ذمہ داریاں نبھانے میں مشکل محسو س کرتی ہیں۔ اور ان پر بیماری کی سی کیفیت حاوی ہوجاتی ہے۔ حیض کا درد دو طرح کا ہوتا ہے ۔ اجتماعی خون کا ماہواری کا درد ہونا۔ یہ درد شادی شدہ عورتوں میں بچہ دانی کے ارد گر د کے اعضاء میں ہوتا ہے۔ درد ماہواری کے تین چار دن پہلے سے شروع ہوتا ہے ۔ اور ماہواری شروع ہونے کے ساتھ خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے۔ کم محنت کرنے والی عورتوں کو یہ درد زیادہ ہوتا ہے۔ اور دوسرا درد عضلات کا سک۔ڑنے کا ماہواری کا درد ہوتاہے۔ یہ درد کنواری لڑکیوں کو زیادہ ہوتا ہے۔ یہ درد زچگی تک رہتا ہے ۔ اس د رد میں جی متلانا، کپکپی اور قے بھی آتی ہے۔ یا د رکھیں کہ حیض کے دوران حد سے زیادہ درد ہونا بعض اوقات کسی خاص مسئلہ کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔ جیسے خون کی کمی ، بچے دانی کا چھوٹا ہونا، تولیدی اعضاء کے تمام حصوں کا کام نہ کرنا،

ہارمونز کا توازن کھو دینا، اعصابی کمزوری ،سوڈیم، پوٹاشیم اور خوردنی اجزاءکا غذا میں توازن قائم نہ رہنا۔ وہ خواتین جنہیں شروع سے ہی حیض کے دوران درد ہوتا ہے۔ انہیں ہردفعہ پین کلر کھانےسے اجتناب کرنا چاہیے۔ وہ خواتین جنہیں پہلے تو درد نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اب حیض میں درد شدت سے بڑ ھ رہا ہو انہیں ٹوٹکوں اور دواؤں کے استعمال سے پہلے کسی مستند ڈاکٹر سے رجو ع ضر ور کرنا چاہیے۔ جن خواتین کو حیض کے درد کی شکایت ہو انہیں سرخ گوشت، چٹ پٹے چیزوں اور کولڈ ڈرنکنز کا استعمال کم سے کم کرنا چاہے۔ مخصو ص دنوں میں چست اور تنگ کپڑے نہیں پہننے چاہیے۔ تاریخ سے چار دن پہلے نمک کی مقدار کم کر دیں۔ اور ہلکی پھلکی ورزش کم کر دیں۔ اور خاص دنوں میں بہت زیادہ آرام کرنے سے یا مشقت کرنے سے بچنا چاہیے۔ وہ خواتین جنہیں حیض کے دوران بہت زیا دہ درد برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہیں روزانہ کیلشیم اور میگنشیم کا باقاعدہ استعمال کرنا چاہیے۔ یہ وہ نیوٹریینز ہیں جو پٹھوں کو سکن دیتے ہیں

جس سے پٹھے کے نچکے حصوں کو سکو ن ملتا ہے۔ ماہواری کے دوران پیٹ کے نچلے حصے میں اگر ہلکے گرم تیل زیتون کے تیل خاص کر دونوں ہاتھوں سے گو ل دائرے میں مالش کی جائے تو درد میں بہت آرام ملتا ہے۔ اور پاؤں کا درد بھی دور ہوتا ہے۔ ایلو ویرا جیل کو باریک پیس کر اس میں ہم وزن شہد کی مقدار ملا کر پینے سے بھی حیض کے درد میں راہت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ مولی کےبیجوں کو پیس کر چار چار گرام صبح ، دوپہر اور شام گرم پانی سے پھانکنے سے ماہوار ی کھل کر آتی ہے۔ اور درد ٹھیک ہوجاتا ہے

Leave a Comment