ہیجڑا مرد ہے یا عورت ایک بار!حضرت علی رضی اللہ عنہ کافرمان سن لو

ہیجڑا

پی ایف سی نیوز ! قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق کے بارے میں مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے” آسمان اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہےیا ملا جلا کر عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا بے اولاد رکھتا ہے

اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالی کی ذات کو غفورو رحیم ہے اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔یہ ہمارے اپنے اعمال ہی ہیں اپنے افعال ہیں جو ہمارے لئے مسائل کا باعث بنتے ہیں ۔ہم سب کی آج کے آرٹیکل میں ہم مرد عورت کے علاوہ ایک تیسری جنس مخنث کے بارے میں بات کریں گے جس سے ز ن ا ہجڑا اور خواجہ سرا کے نام سے جانا جاتا ہے۔آپ نے اکثر اپنی روٹین لائف میں انہیں شادی بیاہوں میلوں ٹھیلوں میں ناچتے گاتے دیکھا ہوگا ۔ اور بعض شہروں کے باعث ٹریفک سگنلز پر یہ بھیک مانگتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں ۔ سوائے خواجہ سرا کے اس جنس کو دیے گئے تمام ناموں میں تحقیر و حقارت کی امید نظر آتی ہے۔اس جنس کو خواجہ سرا کا لقب مغل بادشاہوں نے عطا کیا کہ فارسی میں خواجہ کا مطلب سردار اور سرا کا مطلب محل ہے ۔

اس دور میں انہیں آفیسر آف داپیلس پکارا جاتا تھا ۔محلات میں شاہی خواتین کی تکریم کو برقرار رکھنے کے لئے اور محل میں مردوزن کے اختلاط کو روکنے کے لیئے انکو رکھا جاتا تھا۔مغل دور میں انکی بڑی عزت کی جاتی تھی ۔مگر پھر زمانے نے گردش لی اور یہ گلی گلی تحقیر کا نشابہ بننے والی مخلوق بن گئے۔اب سال یہاں پے یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہیجڑے کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ کہ ایسے کونسے طبی نتائج ہوتے ہیں جن کے باعث مذکر اور مونث کے بجائے مخنث کا وجود پیدا ہوتا ہے۔ جہاں تک بائیولوجیکل فارمیشن کا تعلق ہے تو عورت ایکس ایکس اور مرد ایکس وائی کروموسوم پیدا کرتے ہیں۔ دونوں کی یعنی مرد کا ایکس عورت کے ایکس کروموسوم کے ساتھ مل جائے ۔اور ڈبل ایکس بن جائیں تو لڑکی پیدا ہوتی ہے اور اگر مرد وائی کروموسومز پیدا کرے

جو عورت کے ایکس کے ساتھ ملکر ایکس وائی بن جائے تو لڑکے کی پیدائش متوقع ہوتی ہے۔اس میں مرد کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے اگر اس میں عدم توازن ہوجائے تب ہیجڑا پیدا ہوتا ہے شاید ان کے گونیڈز جینٹلز ڈویلپ نہیں ہوسکتے۔ یہاں یہ بات جان لینا نہایت ضروری ہے کہ نہ تو ہیجڑے کوئی الگ مخلوق ہیں۔ اور نہ ہی کوئی قوم ہیں۔ وہ انسان ہی ہیں۔ خلقی اور اوصاف کے اعتبار سے ان میں سے بعض کامل مردانہ اور اوصاف سے محروم ہوتے ہیں۔ بعض زنانا اوصاف سے ۔ یہ ان کی تخلیق کا وہ نقص ہے جو ان کے خالق اور پروردگار نے ان میں ایسے ہی رکھا ہے۔ جیسا کہ بعض انسانوں کو خلقی اعتباراور بعض دوسرے اعضاء سے پیدائشی طور پر معذور پاتے ہیں۔اور ان کو معاشرے میں دوسرے درجے کاانسان سمجھاجاتا ہے۔ رسول کریمﷺ کی ایک حدیث ہے ۔

ان مردوں پر لعنت ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ اور ان عورتوں پر لعنت جو مرد بنیں۔ اور انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۔ اس حدیث کو بنیاد بنا کر لوگ اپنے ان بچوں کو جو ہیجڑے پیدا ہوتے ہیں۔ان کو گھر سے نکال دیتے ہیں۔ لیکن وہ نہیں جانتے کہ اسلامی شریعت میں باقاعدہ طور پر قدرتی طورپر پیدا ہونے والے ہیجڑے بچوں کے لیے وراثت میں حق بھی رکھا گیا۔ انہیں تمام حقوق حاصل ہیں۔ جو کسی بھی ذی وروح کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے۔ جو قدرتی طور پر مخنث پیدا ہوں۔ انہیں گھروں سے نکالنے کاحکم نہیں ہے۔ بلکہ یہ ان لوگوں کےلیے ہے جو جان بوجھ کر مخالف جنس کی مشابہت اختیارکرتے ہیں۔

Leave a Comment