مرد کےلیے4 شادیاں اور عورت کےلئے1عورت کو 4 شادیوں کی اجازت کیوں نہیں،مزید جانیں

4 شادیاں

پی ایف سی نیوز ! اسلام نے بعض ضروریات ،شرائط اور وجوہ کے پیشِ نظر مر د کو 4 شادیوں کی اجازت دی ہے(مسلم)۔ دنیا میں جس پر بمشکل ہی 2یا 3 فیصد پر عمل ہوتاہے لیکن جس سے متاثر ہوکر عام اور اعلیٰ طبقات کی خواتین میں یہ سوال گاہے گاہے ضرور جنم لیتاہے کہ پھر اسلام ایک عورت کو4 مردوں سے شادی کی اجازت کیوں نہیں دیتا؟مرد و عورت کی اس تفریق کو یہ خواتین اپنے لئے ہتک گردانتی ہیں

مذکورہ سوال کے پیدا ہونے میں بڑی حد تک ہاتھ بہر حال مرد و عورت کی اس تحریکِ مساوات کا بھی ہے جس کے تحت خواتین ہر میدان میں اپنے حقوق دیوانہ وار حاصل کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے خیال میں جب مرد و عورت دونوں ہی برابر ہیں تو مردوں کی مانند عورتوں کو بھی ایک ساتھ 4 شادیوں کی اجازت نہ دینا ان کے ساتھ بس زیادتی کرنا ہی ہے۔ دوسرا سبب اس سوال کے پیدا ہونے کا بالکل فطری ہے۔ جن مردوخواتین کا مطالعہ گہر انہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی حکمتوں پر جن کا یقین محض لرزتا ہو ا ہی سا ہو، تو پھر ان کے دلوں میں اس قسم کے سوالات کا از خودپیدا ہو نا ایک لازمی امر سا ہے۔ پھر یہ سوال بھی اس وقت مزید دوچند ہوجاتاہے جب بعض خواتین درسِ قرآن میں سور ۂ رحمان کی تفسیر پڑھتی یا سنتی ہیں۔ اس سور ہ کے بعض حصو ں میں مومنوں پر جنت میں اللہ تعالیٰ کے بے شمار انعامات کے نوازے جانے کا خوبصورت بیان پایا جاتاہے او راسی میں کہیں آتا ہے کہ مومن مرددں کو ان کے تقویٰ کے انعام کے طور پرخوبصورت موتیوں کی طرح حسین و جمیل حوریں عطاکی جائیں گی۔

تشریح میں مدرسین احادیث کی روشنی میں بیان کرتے ہیں کہ انہیں وہاں بیک وقت 70 حوریں عطا کی جائیں گی چنانچہ اس موقع پر بھی بعض خواتین سوال کرتی ہیں جب وہاں مومن مردوں کے ساتھ اتنی خصوصی نوازشات کی جائیں گی تو پھر مومن عورتوں کو 70 خوبصورت مرد کیوں عطا نہیں کئے جائیںگے؟ ان سوالات کے پیدا ہونے کو ہم ر وک نہیںسکتے جبکہ یہ سوالات محض مفروضہ بھی نہیں ۔ہم نے انہیں اسلامی سیمیناروں اور دروس قرآن میں خواتین کی جانب سے اٹھاتے ہوئے خود سنا ہے۔ آج کا دور کیونکہ علم ،سائنس، اور میڈیا کے انفجار کا ہے اس لئے ناپختہ یا شریرذہنوں میں ان سوالوں کے جنم لینے سے کوئی روک بھی نہیں سکتا، اگرچہ اس سوال میں شرم وحیا کے بعض پہلو بھی پائے جاتے ہیں لیکن اسلام چاہتا ہے کہ عقلی طور پر پیداہونے والے شکوک کاجواب دینے کی کوشش کی جائے تاکہ یا تو فتنہ سدا کے لئے بند ہوجائے یا لوگ مکمل طور پرمطمئن ہوجائیں ۔ ذیل کی تحریر میں ہم کوشش کریں گے کہ غلط فہمیوں کو جنم دینے والے ان سوالات کا عقلی و شافی جواب دیا جائے۔ عام طور پر علماء و مسلم مفکرین اس سوال کا محض اتنا سا جواب دے

کر بات ختم کردیتے ہیں کہ اس سے نسب بگڑنے کا خطر ہ کھڑا ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مذکورہ شخصیات اتنامبہم سا جواب صرف اس لئے دیتی ہوں کہ اس کی تفصیل میں شرم کے بہت زیادہ پہلو پائے جاتے ہیں لیکن اس دور میں جبکہ بدکاری کے حصول کی مجنونانہ کوششیں بڑھتی جارہی ہوں، محض نسب بگڑنے کے مختصر سے جواب سے کسی خاتون کو 4 شادیوں کی طلب سے نہیں روکا جاسکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ نسب بگڑنا بھی بذات ِخود کوئی بہت معمولی بات نہیں ۔اس میں تو رشتے کے حلا ل وحرام اوروراثت کے پیچیدہ مسائل سامنے آتے ہیں۔ جس عور ت کے 4شوہرہوں اور پھر ایک بچہ جنم لے تو بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب اس کا باپ کون ہوگا؟ ظاہر ہے کہ باپ کی شناخت تو اب نہیں کی جاسکتی ۔آج کا وہ دور تو نہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد کوئی عورت کسی قیافہ شناس کو بلائے اور وہ کسی ایک مر دکے سر پر ہاتھ رکھ کر کہہ دے کہ فلاں شخص اس کا باپ ہے ۔ قدرتی بات ہے کہ یہ شناخت بھی محض ایک قیافہ ہی ہے لہٰذا اس صورت میں یا تو چاروں مرد اس بچے کے باپ ہوں گے ،جو کسی بھی لحاظ سے ممکن نہیں

یا پھر ان میں سے کوئی بھی باپ نہیں ۔ظاہر ہے کہ یہ بھی ایک لغو بات ہے کیونکہ بچہ تو سامنے لیٹاہو ا ہے۔ادھر آج کی دنیا میں ہر دستاویز پر بیٹے اور بیٹی کی ولدیت لکھنی ضروری ہے۔ اس طرح اگر ایک سے دو اور دو سے تین بچے پیدا ہوگئے تو دوسرا مرحلہ یہ سامنے آئیگا کہ اب اس بچہ یا بچوں کی کفالت کون کرے گا؟چونکہ معاملہ بھاری اخراجات کا ہے ، اس لئے ان چاروں میں سے کوئی بھی مرد ان کی کفالت کیلئے تیار نہ ہوگا۔ ’’میںکیوں اس کا خرچہ اٹھائوں؟میں کوئی اس کا باپ تھوڑی ہوں،بے شک بچی جاہل رہ جائے یا مرجائے ‘‘،لہٰذا اب جوکچھ بھی بھگتنا ہوگا ،وہ اس اکیلی عورت ہی کو بھگتا ہوگا جو ناممکنات میں سے ہے۔ پھر سوال محض بچے کے اخراجات کا بھی نہیں ۔ گوشت پوست کا یہ بچہ ماں باپ کی شفقت ورحمت چاہتاہے۔تو اب ا سے یہ شفقت و رحمت کون دے گا؟بچے یا بچی کا کوئی باپ تو ہے ہی نہیں۔ اس لحاظ سے بچے کو دو طرفہ نقصان پہنچے گا۔نہ تو اسے پرورش ،تعلیم اور صحت کیلئے کوئی رقم حاصل ہوگی اور نہ اسے باپ کی شفقت و محبت ہی نصیب ہوگی ۔اب خود سوچاجاسکتا ہے کہ اس قسم کے بچے (اور ماں ) کا حال کیا ہوگا؟

یہ تو محض ایک ہی ہولناک نتیجہ ہے جو ایک عورت کی 4مردوں سے بیک وقت شادی کے نتیجے میں سامنے آئے گا۔ اس کے علاوہ اس میں عورت سے استفادے کا جو پہلو ہے، وہ بھی عورت کے لئے وبال ِ جان بننے کا سبب بنے گا۔ ہر مرد کی خواہش ہوگی کہ عورت سے استفادہ صرف اسی کا حق ہے اور یہ بیوی کسی اور کے قبضے میں نہ جانے پائے۔ ’’میں اس کا شوہر ہوں‘‘، وہ دلیل دے گا۔ شوہروں کے درمیان باہمی سخت قسم کے لڑائی جھگڑے برپاہوں گے لہٰذا اس بات کاصد فیصد امکان پایا جاتاہے کہ نہ صرف یہ کہ ایک شوہرکادوسرے شوہرکے ہاتھوں قتل ہوجائے بلکہ خود بیوی کابھی ایک یاچاروں شوہروں کے ہاتھوں قتل ہوجائے،یا ان کے ہاتھوں جلا دی جائے ! پھر جب بیوی پرخرچے کا معاملہ آئے گا ، اسے کپڑے بنانے کی خواہش ہو گی، سینڈل اور چپل کی طلب ہوگی، کھانے اور پینے کاسوال آئیگااوردوا ،علاج، آپریشن اور ولادت کے مرحلے آئیں گے،تو وہی شوہر جو کل اصرار کررہے تھے کہ یہ بیوی صرف ان کی ہے،یہ کہہ کر جان چھڑائیںگے کہ ’’میں ہی تمہیں کیو ںخرچ دوں؟ اور میںہی تمہارے علاج کا بندوبست کیوں کروں؟کیا تمہارا دوسرا شوہر نہیں ہے؟

اور کیا صرف میں نے ہی تمہارا ٹھیکہ لیاہوا ہے؟ ‘‘۔یوں وہ غریب ’’سب کی جورو ‘‘ہوکر بھی کسی کی جورو نہ رہ سکے گی اور اس طرح سسک سسک کر اور اپنی خوشیوں ، خواہشوں،اور بیماریوں کو جھیل جھیل کر راہ ِملک ِعدم آباد ہوجائے گی لیکن پھرمرنے کے بعد؟…مرنے کے بعد بھی اسے بھلا کب چین نصیب ہوگا؟کیونکہ اب سوال پیدا ہوگا اس بدنصیب کی تجہیز وتکفین کا ۔یہ کام کون کرے؟ کیونکہ فی زمانہ تجہیز و تکفین کے اخراجات بھی12,10ہزار روپے سے کیا کم آتے ہیں؟لہٰذا جب ہم اس تمام صورت ِ حال کو سامنے رکھتے ہیں تو ایک عجیب گھنائونے قسم کی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہ تو عجیب بتما شا ہوا،اور پھراس میں نقصان کس کا ہوا؟اسی عورت کا جو اصرار کے ساتھ کہا کرتی تھی کہ چارشادیوں کی اجازت اسے بھی دی جائے۔زندگی اور موت دونوں حالتوں ہی میں وہ مرتی ہی رہے گی۔ دوسر ی طرف جہاں تک جنت میں عورتوں کو70 ’’مردحوروں‘‘ کے دیئے جانے کی تمنا کا سوال ہے، تو اگرچہ اس قسم کی صورت ِحال کا تو کوئی مسئلہ وہاںدرپیش نہیں ہوگا ،

لیکن بہرحال یہ شرم کا مقام ہے کہ کسی عورت کے چارچار یاستّر ستّر شوہران پائے جاتے ہوں! خواہ معاملہ جنت ہی سے متعلق کیوں نہ ہو!۔ دراصل یہ سوچ بھی گمراہی ہی کی ایک دلیل ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عورت ومرد کے اسی مساویانہ حقوق کے دعوے کوآگے بڑھاتے ہوئے کل کلاں کو اگرمرد بھی یہ مطالبہ کرنے لگیں کہ جب عورتوں کے ہاںاولاد ہوسکتی ہے تو پھرہمیں بھی اولاد جنم دینے کا حق دیاجائے ،تو سوائے پاگل پن اور حماقت کے اسے اور کیانام دیا جائے گا؟ اور پاگل پن کی بہرحال کوئی حد نہیں ہوتی ! اس کے برعکس اسلام نے مردوں کو جو 4 شادیوں کی اجازت دی ہے تو اس میں اوپر بیان کی گئی کوئی ایک قباحت بھی موجود نہیں ۔جنم لینے والی اولاد کا صرف ایک ہی باپ کہلائے گا کیونکہ ان چاروں بیویوں کا وہ اکیلا ہی شوہر ہے ۔اس لحاظ سے 4 بیویوں سے جنم لینے والی اولاد کا نسب بھی ماں اور باپ دونوںکی طر ف سے بالکل محفوظ رہے گا ۔دوسری طرف ہربیوی کے ہر طرح کے حقوق شوہرپرشرعی و قانونی لحاظ سے واجب ہوں گے،خواہ وہ بیوی کے جذبات کی تسکین ہو، کپڑے لتے کی ضروریات ہوں ،

رہائش اورکھانے پینے کے مطالبات ہوں،بچے کی تعلیم و تربیت کا مسئلہ ہو، یاخاندان کے علاج معالجے کی ضرورت ہو۔ اس میں وہ اگر گڑبڑ کرے گا تو معاشرے اور قانون دونوں ہی کی عدالتیں اسے مجرم قرار دیں گی۔قرآن پاک نے البتہ ان بیویوں کیلئے خصوصی طور پر یہ بیان کیا ہے کہ ’’(جنت میں) ہم ان کی بیویوں کو نئے سرے سے پیدا کرکے کنواری بنادیں گے جو ا پنے شوہر کی عاشق اور ان کی ہم عمر ہوں گی‘‘ ۔ سو خواتین و حضرات ! اپنے دماغوںمیں الٹے سیدھے تصورات کی پرورش کرنے کی بجائے یہ سوچا کریں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم بھی مصلحت سے خا لی نہیں ہوتا۔ہمارا رب جب بھی ہمیں کوئی حکم دیتا ہے تو اسے اس کی تمام باریکیوں کا پہلے ہی علم ہوتا ہے۔ اس نے خود ہی کہاہے : ’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟،اور وہ تو بڑا ہی باریک بین اور بڑا ہی باخبر ہے ‘‘(الملک14

Leave a Comment