نامرد کرنے والی عورت کا واقعہ

نامرد

یک دن بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا کہ ایک وزیر بھاگتا ہوا بادشاہ سلامت کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت ہمارے ملک کے ایک گاؤں میں نہ مردوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور وہ بچپن سے نامرد نہیں ہیں بلکہ جوانی میں ہو رہے ہیں ۔ ا بادشاہ یہ سن کر بڑا حیران ہوا اور حکم جاری کر دیا کہ نامردوں سے تفتیش کرو لیکن اس نے جواب دیا

کہ بادشاہ سلامت میں جب بھی ان سے کوئی بات پوچھتا ہوں تو وہ ڈر کی وجہ سے بےہوش ہو جاتے ہیں ، اب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کوئی گندی پیاری ہے یا ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے وہ نامرد ہو رہے ہیں اس لئے ہم ان کو سزا بھی نہیں دے سکتے ۔ بادشاہ کی ۔ پریشانی کو دیکھتے ہوئے بادشاہ کا ایک قلمند وزیر اس کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاہ سلامت مجھے ایک ہفتے کا وقت دیں میں پتا لگا کر کے آپ کو بتاؤں گا کہ ہمارے ملک کے اس گاؤں میں نہ مردوں کی تعداد دن بدن کیوں بڑھتی جارہیہے ۔ بادشاہ سلامت نے اسے اجازت دے دی اور پھر وہ وزیر گھوڑے پر سوار ہو کر محل سے نکل گیا ۔ وزیر چلتے چلتے جب اس گاؤں میں پہنچا تو وہاں کا ماحول دیکھ کر اسے ایسا لگا

کہ اس گاؤں میں بدکاری جیسے گندے کام کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ہے ۔ می دیکھ کر اس کی پریشانی حیرانی میں بدل گئی ۔ پھر وزیر نے بھیں بدل کر پورے گاؤں کے ایک ایک گھر کے دروازےپر جا کر بھیک مانگنا شروع کر دی لیکن پھر بھی اسے کوئی سراغ نہ ملا ۔ وزیر بہت پریشان ہوا کہ بادشاہ سلامت کو جا کر کیا جواب دوں گا انہی سوچوں میں گم وزیر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک فقیر کا وہاں سے گزر ہوا تو وزیر کو بھکاری سمجھ کر وزیر کے پاس بیٹھ گیا اور اسے اپنا حال احوال دینے لگ گیا اور پھر وزیر سے پوچھنے لگا کہ آپ مجھے اتنا پریشانکیوں لگ رہے ہیں لیکن وزیر نے کچھ نہ بتایا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک عورت کا وہاں سے گزر ہوا جو پردے میں تھی اس نے اپنا سارا جسم ڈھانپا ہوا تھا

لیکن اس عورت کے چلنے میں وزیر کو اس شک ہو گیا کیونکہ چلتے ہوۓ اس نے وزیر کو عجیب سی نظروں سے اشارہ دیا تھا ۔ وزیر اس کے اشارے کو سمجھ گیا اور اس کے پیچھے چلنے لگا ۔ وہ عورت ایک جھونپڑی کے اندر چلی گئی اور وزیر بھی اس کا پیچھا کرتے کرتے جو نپڑی کے اندر داخل ہو گیا ۔ جیسے ہی وزیر اس جو نپڑی میں داخل ہوا تو اس عورت نے اپنے جسم سے پردہ ہٹا دیا اور کپڑے اتار کر وزیر کو اپنے ساتھ بد کاری کرنے پر مجبور کیا ۔ وزیر نے سوچا کہ اس راز سے پردہ اٹھانے کے لیے اس کے ساتھ بدکاری کرنی پڑے گی اور پھر وزیر اس کے ساتھ بدکاری کرنے لگا ۔ جب اس نے وزیر کے ساتھ اپنی پیاس بجھالی تو اچانک ایک خنجر اٹھایا اور وزیر پر وار کرنے لگی

اوروزیر کو نامرد کرنے کی کوشش کی ۔ وزیر نے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور تلوار اس کے گلے پر رکھ دی وزیر سمجھ گیا کہ یہ وہی عورت ہے جو مردوں کے ساتھ زنا کرنے کے بعد ان کو نامرد کر دیتی ہے ۔ پھر وہ اس عورت کو بادشاہ سلامت کے پاس لے گیا اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا ۔ جب بادشاہ کو اس صورتحال کا پت چلا تو اس نے عورت سے پوچھا کہ تم ایسا کیوں کرتی ہو ۔ پہلے تو اس نے سب کچھ بتانے سے انکار کر دیالیکن پھر جب بادشاہ نےاس کے گلے پر تلوار رکھی تو اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت میں گاؤں کے ایک رئیس کی بیٹی ہوں جب میری شادی ہوئی تو میرا شوہر مجھے پہلی رات دھوکا دے کر بھاگ گیا ۔ اور جس رئیس کی بیٹی پر گاؤں کے سب لڑ کے مرتے تھے اب مجھ پر تنقید کرتے ہیں

کہ لڑکی ٹھیک نہیں تھی ۔ میں نے اس دن سے ٹھان لیا کہ میں اس صفحہ ہستی سے مردوں کا نام و نشان مٹادوں گی اور ہر مردعورت سے زنا کرنے کے لیے تڑپے گا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا ۔ اس لیے میں ان مردوں کو زنا کا لالچ دے کر ان کو نامرد کر دیتی ہوں ۔ یہ سن کر بادشاہ سلامت نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تمہارے شوہر کو تمہارے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھالیکن تم نے ایک کی سزا سب کو کیوں دی جس نے جرم کیا تھا تم اس کا مقدمہ قاضی صاحب کے پاس لےجاتی تو وہ تمہارے حق میں فیصلہ ضرور دیتا ۔ اس کے بعد بادشاہ سلامت نے اس عورت کو ساری زندگی قید کی سزاسنادی

اپنی رائے کا اظہار کریں