ق.ر.ب.ت کی زیادہ طلب ہوں تو

طلب

ميں قوى ش.ہ.و.ت كا مالك ہوں اور روزانہ بيوى سے ہم بس.ترى كرنے كى رغبت ركھتا ہوں، جب بيوى سے ہم بس.ترى كا كہتا ہوں تو وہ نامعقول سے دلائل دے كر اور مختلف قسم كے بہانے بنا كر ايسا كرنے سے انكار كر ديتى ہے، مثلا اس كا كہنا ہے كہ وہ تھكى ہوئى ہے، يا پھر وہ غ..سل كرنے ميں سستى سے كام ليتى ہے،

يا دوسرے دن كرنے كا كہ كر ٹال ديتى ہے. اس ليے ہفتہ ميں صرف دو بار ہى ہم بس.ترى ہوتى ہے، ميں صبر نہيں كر سكتا جس كى بنا پر مجھے م.ش.ت ز.نى كا سہارا لينا پڑتا ہے كہ كہيں ز.ن.اكارى ميں نہ پڑجاؤں، حالانكہ مجھے علم ہے كہ م.ش.ت. ز.ن.ى ح.رام ہے، ليكن اس كے باوجود ميں ہفتہ ميں تين بار م.ش.ت.ز.ن.ى كا مرتكب ہوتا ہوں، اور ميرى بيوى ميرے پہلو ميں ہوتى ہے، اور اسے اس كا علم ہوتا ہے. يہ علم ميں رہے كہ ميرى بيوى بناؤ سنگھار كا خوب خيال ركھتى ہے، اور خوشبو بھى لگاتى ہے، ليكن اس ميں صرف عيب يہ ہے كہ كثرت جماع سے بھاگتى ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ آيا ميں م.ش.ت .ز.نى كرنے سے گنہگار تو نہيں ہو رہا،

اور اگر گن.اہ ہوتا ہے تو كيا ميرے م.ش.ت .ز.نى كرنے كا گ.ن.اہ ميرى بيوى كو بھى ہوتا ہے يا نہيں ؟ ۔جاری ہے ۔ الحمد للہ:اول:خاوند پر بيوى كے ساتھ حسن معاشرت اختيار كرنا واجب ہے.كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا.فرمان ہے: { اور ان عورتوں كے ساتھ حسن معاشرت اختيار كرو }النساء ( 19 ).اور حسن معاشرت ميں جماع بھى شامل ہے، اور يہ بقدر كفائت خاوند پر واجب ہے، جب تك خاوند كا جسم كمزور نہ پر جائے يا پھر اسے معاش سے دور اور مشغول نہ كردے. اور بيوى پر واجب ہے كہ جب خاوند اسے ہم بس.ترى كى دعوت دے تو وہ اسے قبول كرے، اور اگر وہ انكار كرتى ہے تو نافرمان شمار ہوگى؛

كيونكہ بخارى اور مسلم نے درج ذيل حديث روايت كي ہے: ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ” جب آدمى اپنى بيوى كو اپنے بستر پر ہم بس.ترى كے ليے بلائے اور وہ انكار كر دے اور خاوند رات ناراض ہو كر بسر كرے تو صبح ہونے تك اس پر فرشتے لعنت كرتے ہيں “صحيح بخارى حديث نمبر ( 3237 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1436 ).شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:” بيوى پر واجب ہے كہ جب خاوند اسے ہم بسترى كے ليے بلائے تو وہ اس كى اطاعت كرے، يہ اس كے ليے فرض و واجب ہے…. اس ليے جب بيوى اس كى بات ماننے سے انكار كر دے

تو وہ نافرمان اور بددماغ شمار ہوگى جيسا كہ اللہ عزوجل كا فرمان ہے:{ اور جن عورتوں كى تمہيں بددماغى اور نافرمانى كا ڈر ہے تو انہيں تم نصيحت كرو، اور انہيں بستر ميں چھوڑ دو اور انہيں مار كى سزا دو، اور اگر وہ تمہارى اطاعت كر ليں تو پھر ان پر كوئى راہ تلاش مت كرو }. انتہىديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 3 / 145 – 146 ).ليكن خاوند كے ليے جائز نہيں كہ وہ بيوى پر جماع كا اتنا بوجھ ڈالے جسے وہ برداشت ہى نہ كر سكے، اور اگر بيوى بيمارى يا پھر برداشت نہ كرنے كى بنا پر جماع سے انكار كرتى ہے تو وہ گ.ن.ہ.گ.ار نہي ہوگى. ابن حزم رحمہ اللہ كہتے ہيں:لونڈى اور بيوى پر فرض ہے

كہ جب اس كا مالك اور خاوند اسے ہم بس.ترى كى دعوت دے تو وہ اس سے انكار مت كرے،

اپنی رائے کا اظہار کریں