بیوی سے آخری آیام میں ق.ر.ب.ت کرنا کیسا ہے

آخری آیام میں ق.ر.ب.ت

حمل کی حالت میں بیوی سے ق.ر.ب.ت کرنا اس کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں ۔ ہم ایسی صورتحال میں بیوی سے ق.ر.ب.ت کربھی سکتے ہیں یا نہیں حاملہ بیوی سے ق.ر.ب.ت اختیار کرنا جائز ہے جب تک کہ بیوی ق.ر.ب.ت کرنے کی اجازت دے اور تکلیف محسوس نہ کرے اور حمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو ۔

حاملہ بیوی سے ق.ر.ب.ت کیلئے میڈیکلی یا طبی طور کوئی بھی مناسب اور محفوظ طریقہ اپنا یا جاسکتا ہے ۔ شریعت میں دبر میں وطی کرنا اور حیض اورنفاس کی حالت میں ق.ر.ب.ت کرنا یہ حرام ہے ۔ ہر حالت بیوی سے لطف انداز ہونا جائز ہے ۔ جس سے شریعت نے منع کیا ہے دبر میں وطی یعنی کے پیچھے سے عمل کرنا یہ حرام ہے ۔ حیض اور نفاس کی حالت میں بھی ق.ر.ب.ت کرنا حرام ہے ۔ حاملہ بیوی سے ق.ر.ب.ت کرنے کی حرمت کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اگر خدشہ ہوکے بچے کو نقصان پہنچے گا۔ اس کا اندازہ کوئی تجربہ کار لیڈی ڈاکٹر کرسکتی ہے جوبتا سکتی ہے ۔ قرآن کریم نے فرمایا تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں۔

تم کھیتی میں جہاں سے بھی چاہو آؤ کھیتی کا جو لفظ استعمال کھیتی جہاں سے ہوتی صرف وہیں سے اجازت ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ کھیتی میں آؤ سے مراد یہی ہے کہ آگے یا پیچھے نہیں بلکہ وہیں سے جہاں سے بچہ پیدا ہوتا ہے ۔ خاوند کیلئے بیوی سے کب قربت سے اجتماع کرنا واجب ہوتا ہے ۔ کیا خاص کر حمل کے پہلے تین ماہ کے دوران بیوی سے ق.ر.ب.ت کرنے سے بچے کیلئے نقصان ہوسکتا ہے ۔ جب حمل کو نقصان اور ضرر نہ ہو تو حاملہ عورت سے قربت کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ حرج ہے حائضہ عورت سے ق.ر.ب.ت کرنے میں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

سورۃ بقرہ ہی آیت ہے آپ سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔آپ انہیں کہہ دیجئے حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو ان کے پاک ہونے تک ان کے ق.ر.ب.ت مت جاؤ جب وہ پاک صاف ہوجائیں تو جہاں سے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وہاں سے ان کے پاس جائے کہاں سے حکم دیا ہے کھیتی والی جگہ سے ۔اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے نفاس والی عورت بھی اس طرح ہے کہ اس سے پاک ہونے تک ق.ر.ب.ت نہیں کیا جائے گا بچہ پیدا ہونے کے بعد جو خون آتا وہ نفاس کی حالت اس سے بھی ق.ر.ب.ت نہیں کرسکتے ۔شریعت اسلامیہ حاملہ عورت خاوند کا ق.ر.ب.ت کرنا ممنوعہ نہیں

.بلکہ منع ہے حیض اور نفاس والی عورت کیساتھ یہ خاص منع ہو لیکن اگر تجربہ کار ڈاکٹر کسی خاص حالت کی بناء کر فیصلہ کرے کہ اس سے ق.ر.ب.ت کرنے اس کی صحت کیلئے نقصان دہ ہے تو حالت خاص ہے اسی پر قیاص کیا جائے گا یہ حالت خاص اس سے اس حالت میں ق.ر.ب.ت نہ کیا جائے ۔ اس لیے اس کے بارے آپ کسی تجربہ کار لیڈی ڈاکٹر سے رابطہ کریں کہ بعض حمل میں پریشانیاں ہوتی ہیں وہ بتا سکتی ہیں کہ حمل کے دوران ق.ر.ب.ت اختیار کرسکتی ہیں کہ نہیں عورت اور بچے کو کوئی صحت کے لحاظ سے نقصان تو نہیں ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں