رسول اکرمﷺے فرمایا

رسول اکرمﷺ

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : أکثروا الصلاة علي يوم الجمعة ، فإنه يوم مشهود تشهده الملائکة، ليس من عبد يصلي عليّ إلا بلغنی صوته حيث کان ۔ ترجمہ : جمعہ کے روز مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، بے شک جمعہ کا دن یومِ مشہود ہے

(کیوں کہ) اس میں ملائکہ حاضر ہوتے ہیں ۔ جو آدمی مجھ پر درود پڑھے اس کی آواز مجھ تک پہنچتی ہے خواہ وہ کسی بھی جگہ پڑھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! کیا آپ کی وفات کے بعد بھی ہم یہ عمل جاری رکھیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وبعد وفاتي، إن اﷲ عزوجل حرّم علي الأرض أن تأکل أجساد الأنبياء ۔ (ہاں) میری وفات کے بعد بھی (تم یہ عمل جاری رکھو)، بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر اَنبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے ۔ (ابن قیم نے ’’جلاء الافہام فی الصلاۃ والسّلام علی خیر الانام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ص : 63، رقم : 108)‘‘ میں کہا ہے

کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے)(هيتمي، الدرّ المنضود في الصلاة والسّلام علي صاحب المقام المحمود صلي الله عليه وآله وسلم : 155، 156)(سخاوی نے ’’القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع (صفحہ : 124)‘‘ میں کہا ہے کہ اِسے طبرانی نے روایت کیا ہے(نبهاني، حجّة اﷲ علي العالمين في معجزات سيّد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 713) اِس حدیث مبارکہ میں بَلَغَنِی صَوتُہُ کے الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی فرشتہ صلوٰۃ و سلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ تک نہیں پہنچاتا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بلاواسطہ درود و سلام پڑھنے والے کی آواز سماعت فرماتے ہیں۔ اس میں دور و نزدیک کی قید ہے نہ کسی کا پہنچانا شرط ہے بلکہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سننا ثابت ہے۔

اَعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ (1272۔ 1340ھ) نے کیا خوب کہا ہے : دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان کانِ لعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام (حدائقِ بخشش، 2 : 206) ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے پوچھا گیا کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر نزدیک سے درود بھیجتے ہیں ، دور سے درود بھیجتے ہیں اور بعد میں آنے والے بھی بھیجیں گے ، کیا یہ سب درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو پیش کیے جاتے ہیں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : أسمع صلاة أهلِ محبتي وأعرفهم ۔ ترجمہ : میں اہلِ محبت کا درود خود سنتا ہوں

اور اُنہیں پہچانتا (بھی) ہوں ۔ (جزولي، دلائل الخيرات وشوارق الأنوار في ذکر الصلاة علي النّبي المختار صلي الله عليه وآله وسلم : 18،چشتی)(فاسي، مطالع المسرّات بجلاء دلائل الخيرات وشوارق الأنوار في ذکر الصلاة علي النبي المختار صلي الله عليه وآله وسلم : 81) اِس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہلِ محبت کا درود نہ صرف خود سُنتے ہیں بلکہ بھیجنے والوں کو پہچانتے بھی ہیں، اگرچہ وہ دور کسی مقام پر اور بعد کے کسی زمانے میں ہی کیوں نہ ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سلام کا جواب بھی عطا فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نہ صرف اُمت کی طرف سے بھیجا جانے والا درود و سلام سُنتے ہیں بلکہ اس کا جواب بھی مرحمت فرماتے ہیں ۔ nحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ما من أحد يسلّم عليّ إلا ردّ اﷲ عليّ روحي، حتي أردّ عليه السّلام ۔ ترجمہ : جب کوئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح واپس لوٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروِی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا : ما من مسلم سلّم عليّ في شرق ولا غرب، إلا أنا وملائکة ربّي نردّ عليه السّلام ۔ ترجمہ : مشرق و مغرب میں جو مسلمان بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے میں اور میرے رب کے فرشتے اُس کے (بھیجے ہوئے) سلام کا جواب دیتے ہیں ۔

(أبو نعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 6 : 349)(مقريزي، إمتاع الأسماع بما للنبي صلي الله عليه وآله وسلم من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع، 11 : 59)(ابن قيم، جلاء الأفهام في الصلاة والسلام علي خير الأنام صلي الله عليه وآله وسلم : 19، رقم : 20،چشتی)(سخاوي، القول البديع في الصلاة علي الحبيب الشفيع صلي الله عليه وآله وسلم : 156) جس طرح اس حدیث سے قبر انور کے پاس درود پڑھنے والے کے درود کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو پہنچا یا جا نا ثابت ہوا ۔ اسی طرح بعض دیگر احادیث سے دور کا درود شریف سننا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے ثابت ہے۔ جیسا کہ احادیث کے ذیل میں ہم بیان کر چکے ہیں

کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ما من احد یسلم علی الا رد اللّٰہ الی روحی حتّٰی ارد علیہ السلام ۔ (رواہ احمد وابی داؤد و بیہقی فی شعب الایمان)
ترجمہ : نہیں کوئی جو سلام پڑھے مجھ پر لیکن اللہ تعالیٰ میری طرف میری روح لوٹا دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دوں ۔ اس حدیث میں ’’ما‘‘ نافیہ ہے ۔’’احد‘‘ نکرہ ہے سب جانتے ہیں کہ نکرہ حیز نفی میں عموم کا فائد ہ دیتا ہے۔ پھر ’’من‘‘ استغراقیہ عموم و استغراق پر نص ہے یعنی مجھ پر سلام بھیجنے والا کوئی شخص ایسا نہیں جس کے سلام کی طرف میری توجہ مبذول نہ ہوتی ہو خواہ وہ قبر انور کے پا س ہو یا دور ہو ہر ایک کے سلام کی طرف میں متوجہ ہو تا ہوں اور ہر شخص کے سلا م کا خود جواب دیتا ہوں ۔

یہ حدیث اس امر کی روشن دلیل ہے کہ درود پڑھنے والے ہر فرد کا درود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم خود سنتے ہیں اور سُن کر جواب بھی دیتے ہیں خواہ وہ شخص قبر انور کے پا س ہو یا دور ہو۔ دیکھئے امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اسی حدیث ’’الا رد اللّٰہ الی روحی‘‘ پر کلام کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں : و یتو لد من ھذا الجواب جواب آخر وھو ان یکون الروح کنایۃ عن السمع و یکون المراد ان اللّٰہ تعالیٰ یر د علیہ سمعہ الخارق للعادۃ بحیث یسمع سلام المسلم ’’وَاِن بَعُدَ (۱) قُطرُ ہٗ ۔(انباء الاذکیاء بحیوٰۃالانبیاء) ترجمہ : اور اس جواب سے ایک اور جواب پیدا ہو تا ہے۔ وہ یہ کہ رد روح سے یہ مراد ہو کہ اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر آپ کی سمع خارق للعادۃ کو لوٹا دیتا ہے ۔

اس طرح کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سلام بھیجنے والے کے سلام کو سنتے ہیں۔ خواہ وہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو اس حدیث سے ثابت ہو ا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم دور سے پڑھنے والے کا درود بھی سنتے ہیں ۔ اسی باب میں اور بھی احادیث وارد ہیں لیکن ہم نے قدر ضرورت پر اکتفا کیا اور ہماری پیش کر دہ حدیثوں سے ثابت ہو گیا کہ جس طرح قبر انور کے پاس درود پڑھنے والے کا درود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سنتے ہیں ۔ اسی طرح دور والے کا درود بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اپنی سمع مبارک سے سنتے ہیںاور جس طرح دور کا درود حضور کو پہنچا یا جا تا ہے ۔ اسی طرح قبر انور پر جو درود پڑھا جا ئے اسے بھی ایک فرشتہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر پہنچا تا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں