حدیث نبوی ﷺ ۔ اگر تمہیں زنا کی سز ا معلوم ہو جا ئے تو ؟

حدیث نبوی ﷺ ۔ اگر تمہیں زنا

پی ایف سی نیوز ! رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا کہ اے اُمتِ محمد اللہ سے بڑھ کر غیرت مند اور کوئی نہیں۔ کہ وہ اپنے بندے یا بندی کو ز ن ا کرتے ہوئے دیکھے ۔ اے اُمت ِ محمد اگر تمہیں وہ معلوم ہو تا جو مجھے معلوم ہے ۔ تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ حضور ﷺ نے فر ما یا اللہ اس شخص کے چہرے کو ترو تازہ رکھے

جس نے میرے سے کوئی حدیث سنی پھر جیسے سنی ویسے اسے آگے پہنچا دیا۔ زن ا کو اسلام میں ایک بہت بڑا گن اہ شمار کیا گیا ہے اور اسلام نے ایسا کرنے والوں کی س زا دنیا میں ہی رکھی ہے، م رنے کے بعد اللہ اس کی سخت س زا دیں گے۔ زنا کے بارے میں کچھ حدیث اور قرآن کی آیت دی ہیں۔ز نا کرنا گن اہ کبیرہ ہے اور اپنے محارم سے ز نا کرنا اور بھی قبیح ہے، اس کی س زا رجم ہے (اگر شادی شدہ ہے) ورنہ سو کوڑے ہیں مگر آج کل حدود کا نفاذ نہیں، اس لیے ایسے شخص کو صدق دل سے توبہ واستغفار کرنا چاہیے، ایسا شخص اگر اپنے فعل پر نادم ہوکر توبہ واستغفار کرے

اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا عزم کرے تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے کہ اس کی توبہ قبول فرمالیں گے۔حضرت محمدﷺ نے فرمایا مومن (مسلم) ہوتے ہوئے تو کوئی ز نا کر ہی نہیں سکتا۔ (بخاری شریف)اللہ قرآن میں فرماتا ہے اور (دیکھو) ز نا کے قریب بھی نہ جاؤ یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے (القرآن)اگر ز نا کرنے والے شادی شدہ ہوں تو کھلے میدان میں پتھر مار مار کر مار ڈالا جائے اور اگر کنوارے ہوں تو 100 کوڑے مارے جائیں۔(بخاری شریف)آج کل دیکھنے میں آیا ہے کہ اس گناہ میں بہت سے لوگ شامل ہیں، خاص کرکے

اس بازار میں جہاں عورتیں اور مرد جاتے ہیں کس کا ہاتھ کس کو لگ رہا ہے، کہاں لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑکی اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں بلکہ ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں۔اگر کوئی اکیلے لڑکے یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گن اہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے کیونکہ انہوں نے ان کی جلدی شادی نہیں کی جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے اور شادی کی عمر ہونے کے بعد بھی ماں باپ ان کی شادی نہ کریں تو اللہ ناراض ہو جاتا ہے اور ان کے گھر کی برکت ختم ہوجاتی

اور اللہ ان ماں باپ سے ق یامت کے دن حساب مانگے گا۔ایک جگہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ پاک دامن لڑکیاں، پاک دامن لڑکوں کے لئے ہیں، اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اچھے ہیں تو اللہ آپ کو بھی اچھی بیوی یا دولہا دیگا اور خراب ہیں تو سمجھ لیجیے، ز نا ایک ایسا عمل ہے جس سے نسیان، ایڈز، کینسر جیسی موذی بیماریاں پھیلتی ہیں۔

Leave a Comment