عقاب بوڑھا ہو کر پھر دوبارہ کیسے جوان ہوجاتا ہے؟

عقاب

شاہین یعنی عقاب ایک مشہور اور طاقتور پرندہ ہے اس کے پھیلے ہوئے پروں کی چوڑائی 2 میٹر ہوتی ہے اور لمبائی تقریبا ایک انسان کے قد کے برابر ہوتی ہے عقاب بھوک اور پیاس کو برداشت نہیں کرسکتا اور جس جگہ عقاب موجود ہو اس جگہ بچھو نہیں آتے شاہی عقاب انتہائی بارعب پرندہ ہے

جو زیادہ تر پہاڑوں کے اوپر ہوا میں تیرتا پھرتا ہے اور ایسی جگہ پر رہنا پسند کرتا ہے جہاں کسی جانور کا پہنچنا بہت مشکل ہو اور عقاب وہاں بڑے بڑے گھونسلے بناتا ہے کہتے ہیں کہ عقاب جب آواز نکالتا ہے تو کہتا ہے لوگوں سے دوررہنے میں سکون ہے۔ عقاب کی کئی اقسام ہیں ماہرین حیوانات نے کہا ہے کہ عقاب مختلف رنگوں کا ہوتا ہے عقاب کالے رنگ کا بھی ہوتا ہے سیاہی مائل سرخ بھی سفید بھی اور سیاہ و سفید رنگ کا بھی ہوتا ہے اور مختلف قسم کے عقاب کی رہنے کی جگہ بھی مختلف ہوتی ہیں کچھ عقاب پہاڑوں میں رہنا پسند کرتے ہیں کچھ عقاب ریگستانوں می رہتے ہیں اور کچھ عقاب جنگلوں میں رہنا پسند کرتے ہیں

اور کہتے ہیں کہ عقاب بہت نازک ہوتا ہے اور اس کی نزاکت میں کوئی پرندہ اس کا ہم سر نہیں ہے بعض ماہرین نے لکھا ہے کہ عقاب مادہ ہوتا ہے اور اس کا نر نہیں ہوتا جو نر اس سے جفتی کرتا ہے وہ کوئی دوسرا جانور ہوتا ہے جو اس کا ہم جنس نہیں ہوتا اور یہ بھی کہ لومڑی عقاب کی مادہ سے جفتی کرتی ہے مگر قارئین ہم اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے مگر یہ بات ماہرین حیوانات نے لکھی ہے مادہ عقاب عام طور پر تین انڈے دیتی ہے۔ اور مادہ عقاب انڈے سینے کی مدت تیس دن ہے جب ان انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں تو ان میں سے تیسرے بچے کو مادہ عقاب نیچے زمین پر گرادیتی ہے

کیونکہ مادہ عقاب تیسرے بچے کو پالنا اچھا نہیں سمجھتی ماہرین نے کہا ہے کہ مادہ عقاب کا ایسا کرنا اس کی کم صبری کی وجہ سے ہے اور جس بچے کو مادہ عقاب نیچے زمین پر پھینک دیتی ہے اس کو ایک پرندہ جس کا نام ہڈی مسکن ہے وہ اس بچے کو پالتا ہے اور ہڈی مسکن پرندے کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ پرندہ گم شدہ پرندوں کے بچوں کو پالتا ہے جب عقاب کے بچے ہوتے ہیں تو دو ننھے عقاب ایک دوسرے کے ساتھ گزار ا نہیں کرتے یعنی جب وہ چھوٹے ہوتے ہیں تو بعض اوقات اپنے والدین کی لائی ہوئی خوراک حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے لڑنے لگتے ہیں۔ ان میں سے جو کمزور ہو وہ مارا جاتا ہے

یا پھر بھوک کی وجہ سے مر جاتا ہے ننھے عقابوں کی پرورش کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے اکثر صرف ایک ہی بچہ جوان ہو پاتا ہے عام طور پر یہ بچہ تین ماہ سے پہلے نہیں اڑتا جب عقاب آسمان پر پرواز کررہا ہوتا ہے تو اپنی تیز بینائی کی بدولت بہت زیادہ فاصلے سے چھوٹے سے چھوٹے جانور کو بھی دیکھ لیتا ہے یہ خاص طور پر اس جانور کو تاڑتا ہے جو بہت کمزور اور سب سے الگ تھلگ ہو پھر یہ اپنے شکار پر حملہ کرتا ہے اور اپنی تیز چونچ سے اسے ہلاک کر دیتا ہے اور اپنے مضبوط پنجوں میں پکڑ کر لے اڑتا ہے پرواز کے دوران اپنے شکار کی کھال فضا میں چھوڑ دیتا ہے

اور جب یہ بہت نیچے آجاتی ہے تو بڑی تیزی سے غوطہ لگا کر اسے پکڑ کر لطف اندوزہوتا ہے کیونکہ عقاب غوطہ لگاکر شکاپکڑنے میں بہت ماہر ہوتا ہے۔ یہ کسی چیز کو پکڑنے میں ناکام نہیں ہوتا چاہے وہ کتنی ہی تیز ہو ۔عقاب کی ایک عجیب و غریب صفت یہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پرندے کو عطا کی ہے جب یہ اپنے گردوں میں تکلیف محسوس کرتا ہے تو خرگوش اور لومڑی کا شکار کر کے ان کے گردوں کو کھا کر صحت یاب ہوجاتاہے عقاب سانپ کو بھی بڑے مزے سے کھاتا ہے مگر سانپ کا سر نہیں کھاتا اور اسی طر ح عقاب جب دوسرے پرندوں یا جانوروں کا شکار کرتا ہے

تو پھر عقاب ان پرندوں یا جانوروں کا دل نہیں کھاتا اور ماہرین نے کہا ہے کہ عقاب بہت کم شکار کرتا ہے اکثر دوسرے شکاری جانور اور پرندے اس سے دوررہنے میں ہی بھلائی سمجھتے ہیں کیونکہ عقاب اکثر اوقات دوسرے شکاری جانوروں یا پرندوں سے شکار چھین لیتا ہے عقاب کی ایک خاص صفت یہ ہے۔ کہ اڑان کے وقت ہمیشہ اس کے پروں سے آواز نکلتی رہتی ہے عقاب جب کسی جانور کا شکا ر کرتا ہے تو فورا اس کو اپنے رہنے والی جگہ یعنی گھونسلے میں نہیں لے جاتا بلکہ اپنے شکار کو اٹھائے جگہ جگہ پھرتا رہتا ہے شکارکرنے سے پہلے عقاب نہایت بلند مقام پر بیٹھ جاتا ہے

جب یہ خرگوش کا شکار کرتا ہے تو سب سے پہلے چھوٹے خرگوش کا شکار کرتا ہے پھر اس کے بعد بڑے خرگوش کا شکار کرنا پسند کرتا ہے عقاب شکار ی پرندوں میں سب سے زیادہ تیز رفتار اور سب سے زیادہ حرارت والا پرندہ ہے اس کے علاوہ عقاب خشک مزاج ہوتا ہے اور اس کے بازو ہلکے ہوتے ہیں اور یہ اس قدر تیز پرواز کرتا ہے کہ صبح سے شام تک پورے ملک کا سفر کر لیتا ہے جب عقاب بوڑھا ہوجاتا ہے تو اس کا وزن حد سے زیادہ ہوجاتا ہے تب عقاب اڑنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اندھا ہوجاتا ہے۔ اور جب یہ اندھا ہوجاتا ہے تو اس کے بچے عقاب کو اپنی کمر پر سوار کئے

جگہ جگہ پھرتے رہتے ہیں اور آخر کار ہندوستان پہنچ جاتے ہیں اور جب ہندوستان میں ان بچوں کو کوئی صاف پانی کا چشمہ نظر آتا ہے تو اس میں عقاب کوغوطہ دے دیتے ہیں اور پھر پانی سے نکال کر عقاب کو دھوپ میں بٹھا دیتے ہیں جب سورج کی شعاعیں عقاب کے جسم پر پڑتی ہیں تو عقاب کے پر گرجاتے ہیں اور پھر عقاب کے نئے پر نکل آتے ہیں اور عقاب کی آنکھوں کی بینائی واپس آجاتی ہے یعنی اندھا پن ختم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد عقاب خود اس چشمے میں تیزرفتاری سے غوطہ لگاتا ہے اور جب پانی سے باہر نکلتا ہے تو پھر ویسا ہی جوان ہوجاتا ہے عجائب المخلوقات میں پتھروں کے بیان میں لکھا ہے

کہ عقاب کے گھونسلے میں ایک پتھری پائی جاتی ہے۔ یہ پتھری املی کے بیج کی طرح ہوتی ہے اور اس کی یہ خاصیت ہے کہ اس پتھری کو حرکت دی جائے تو اس میں سے ایک خاص آواز سنائی دیتی ہے مگر اس پتھر کو توڑا جائے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں نکلتا ماہرین نے کہا ہے کہ یہ پتھری عقاب ہندوستان سے حاصل کرتا ہے اور جب کوئی انسان عقاب کے گھونسلے کے نزدیک جاتا ہے تو عقاب اس پتھری کو انسان کی طرف پھینک دیتا ہے کیونکہ عقاب یہ سمجھتا ہے کہ انسان کو اس پتھری کی ضرورت ہے اسی لئے یہ انسان گھونسلے کے نزدیک آیا ہے اگر کوئی انسان اس پتھری کو اپنے پاس رکھے گا

تو وہ اپنے فریق یعنی مخالف پر بحث میں غالب رہے گا اور اس کے علاوہ اس انسان کی ضروریات پوری ہوجائیں گی اگر عقاب کے پروں کی دھونی کسی مکان یا گھر میں دی جائے تو اس گھر یامکان میں سانپ نہیں آئیں گے اگر اس گھر یا مکان میں کوئی سانپ ہوگا تو وہ فورا مر جائے گا اگر عقاب کے پتے کو سرمے کے طور پر آنکھوں میں استعمال کریں تو آنکھوں کا دھندلا پن ختم ہوجائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں