رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

حدثنا حدثنا عثمان بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم الحنظلي كلاهما، عن جرير، قال عثمان حدثنا جرير ، عن منصور ، عن إبراهيم ، عن عبيدة ، عن عبد الله بن مسعود ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” إني لاعلم آخر اهل النار خروجا منها، وآخر اهل الجنة دخولا الجنة، رجل يخرج من النار حبوا،

فيقول الله تبارك وتعالى له: اذهب فادخل الجنة، فياتيها فيخيل إليه انها ملاى، فيرجع فيقول: يا رب وجدتها ملاى، فيقول الله تبارك وتعالى له: اذهب فادخل الجنة، قال: فياتيها فيخيل إليه انها ملاى، فيرجع فيقول: يا رب وجدتها ملاى، فيقول الله له: اذهب فادخل الجنة، فإن لك مثل الدنيا وعشرة امثالها، او إن لك عشرة امثال الدنيا، قال: فيقول: اتسخر بي، او اتضحك بي وانت الملك؟، قال: لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحك، حتى بدت نواجذه، قال: فكان يقال: ذاك ادنى اهل الجنة منزلة “.‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں اس شخص کو جو سب کے بعد جنت میں جائے

گا، یہ وہ شخص ہے جو جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا نکلے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا اور داخل ہو بہشت میں، کہا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) پس آئے گا وہ بہشت یا قریب اس کے پس ڈالا جائے گا اس کے خیال میں کہ تحقیق بہشت بھری ہوئی ہے، پس لوٹ آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! پایا میں نے اس کو بھرا ہوا، پس فرمائے گا اللہ تعالیٰ اس کو: جا پس داخل ہو جنت میں، کہا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) پھر داخل ہو گا جنت میں پھر ڈالا جائے گا اس کے خیال میں کہ تحقیق وہ بھری ہوئی ہے پھر لوٹ آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! پایا میں نے اس کو بھرا ہوا، پھر فرمائے گا اللہ تعالیٰ: جا جنت میں تیرے لئے دنیا اور دس گنا

دنیا کی برابر جگہ ہے یا دس دنیا کے برابر، وہ کہے گا تو مجھ سے ٹھٹھا کرتا ہے یا ہنسی کرتا ہے بادشاہ ہو کر۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت مبارک کھل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سب سے کم درجے کا جنتی ہو گا۔“

اپنی رائے کا اظہار کریں