کیا خفیہ نکاح کی کوئی قانونی حیثیت ہوتی ہے کیا خفیہ نکاح کرنے سے نکاح ہوجاتا ہے،مزید جانیں اس آرٹیکل میں

کیا خفیہ نکاح کی کوئی قانونی

پی ایف سی نیوز! آج آپ کو بتائیں گے کہ پسند کی شادی کے حوالے سے ایک معاملہ جو ہمیشہ بحث طلب رہا ہے وہ یہ ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی اور لڑکے کے رشتہ داروں عزیزوں دوستوں وغیرہ کو اکٹھا ہونا ضروری ہے یا نہیں اگر اس موقع پر کھلے اجتماع کی بجائے تین چار آدمی موجود ہوں یا صرف گواہ ہی موجود ہوں تو ایسے نکاح کی قانونی حیثیت کیا ہوگی ۔ اس سوال جائزہ لیتے ہیں صائمہ کیس میں جسٹس احسان الحق چودھری نے اپنے فیصلے کے پیرا نمبر45نکاح کے موقع پر اجتماع کو ضروری قرار دیتے ہوئے

کہا کہ نکاح کی اطلاع کو عام کرنے کیلئے اجتماع لازمی ہے اور اسے خفیہ رکھنا مناسب نہیں ہے ۔ فاضل جج نے اس ضمن میں امام مالک ؒ کا حوالہ بھی دیا ہے امام مالک ؒ کا قول ہے کہ نکاح کا اعلان نکاح کے بنیادی لوازم میں سے ہے کیونکہ یہ اعلان ہی زن ا اور نکاح میں حد فاضل قائم کرتا ہے ۔ اس قول ہی کی بنیاد پر حکم لگایا تھا اگر نکاح کے گواہوں کو یہ کہا جائے کہ وہ نکاح کو خفیہ رکھیں تو ایسا نکاح غیر قانونی باطل ہوگا ۔ ایک اور کیس میں ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ خفیہ طریقہ سے نکاح کیا جائے تو اس سے نکاح کا تقدس زائل ہوجاتا ہے ۔قانون کے مطابق ضروری ہے کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ نکاح رجسٹرا ر ہی نکاح کی تکمیل کرے لیکن اگر نکاح رجسٹرار کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نکاح پڑھوا دیتا ہے

تو اس پر لازم ہے کہ وہ نکاح کے بعد حکومت کا جاری کردہ فارم 2پُر کرکے مقررہ رجسٹریشن فیس کے ہمراہ نکاح رجسٹرار کو بھجوائے ۔فارم 2اور فیس موصول ہوجانے کے بعد نکاح رجسٹرار مذکورہ نکاح کو اپنے رجسٹر میں درج کرلے گا اس اندراج کے بعد قانون کی نظر میں اس نکاح کو وہی درجہ حاصل ہوجائیگا جو رجسٹر ڈ نکاح رجسٹرار کے ہاتھوں تکمیل پذیر ہونیوالے نکاح کو حاصل ہوتا ہے ۔ اسلام اپنی مرضی اور خوشی سے نکاح کی اجازت دیتا ہے لیکن کسی طرح کے لالچ یا دباؤ یا خ و ف کے تحت نکاح کی اجازت نہیں دیتا ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ پسند کی اکثر شادیاں مولوی کے بغیر سرانجام پاتی ہیں ایسے نکاح کی محفل میں کوئی روایتی مولوی یا قاضی موجود نہیں ہوتا ۔ ہائیکورٹ بھارت نے ایک ایسے ہی کیس میں قرار دیا

کہ اسلامی قانون کے تحت یہ ہرگز ضروری نہیں کہ نکاح کے وقت کوئی مولوی یا قاضی ضرور موجود ہو اس موقع پر صرف ایک شخص کافی ہے جسے حکومت نے نکاح رجسٹر کرنے کیلئے باضابطہ طور پر مقرر کررکھا ہو اگرنکاح نامہ او ر شادی کا ثبوت قانون کے مطابق تحریری صورت میں موجود ہو تو ایسی شادی کو جالی یا غلط ثابت کرنے کیلئے لائی جانیوالی زبان شہادت کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتی اسے وزن نہیں دیا جاسکتا ہے پاکستا ن میں فیملی قوانین کے نفاذ کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ شادی سے متعلق رائج تمام قوانین کو قرآن وسنت کے مطابق بنایا جاسکے لہذا کوئی بھی شادی جو شریعت محمدی کے اُصولوں کے مطابق سرانجام پائی ہو وہ قانون نظر میں ایک درست اور صحیح شادی تصور ہوگی ۔

Leave a Comment